پولیس کی بربریت اور آسام کا بہتا خون

0
image:scroll.in

نئی دہلی : آسام کے ضلع درانگ کے علاقے سیپا جھار میں جمعرات کو سینکڑوں مسلح پولیس اہلکار ایک بستی خالی کرانے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔ جھونپڑیوں پر مشتمل اس بستی کے ہزاروں لوگوں نے زمین خالی کرانے کی اس مہم کے خلاف مزاحمت کی تھی تو اس موقع پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور بیس سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت صدام حسین اور شیخ فرید کے نام سے ہوئی تھی۔ اور انھیں میں سے ایک شخص کی حالت تو یوں ہوئی کہ پولیس کے ذریعے اسکے سینے پر گولی چلائی گئی، اسے ڈنڈے سے مارا گیا، اور پولیس کی نگرانی ہی میں اسکی لاش کو روندا گیا، جو کہ ایک گھناؤنی حرکت تھی، جسے دیکھ کر کلیجہ ہل جاتا ہے۔


اسکے علاوہ اگر آسام پولیس کی بات کی جائے تو وہ بھی اس گھناؤنے حرکت میں شامل حال ہے، کیونکہ جس طرح سیپا جھار علاقے میں آسامی پولیس نے انسانیت کی دجھیا اڑا کر، پولیسنگ کی حد سے تجاوز ہوکر، تشدد و بربریت کو اپنا مشن بنا کر سیپا جھار والوں کو بندوق کا‌ نشانہ بنایا ہے، وہ واقعی ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔


اسی واقعے کے وقوع پذیری کے بعد احتجاج کا جب ایک آگ بھڑکا اور لوگ سڑکوں اور شاہراہوں پر نکل کھڑے ہوئے اور آسام حکومت سے انصاف کا مطالبہ کرنے لگے تو وہاں پر بھی پولیس نے انہیں حراست میں لینے کی جرأت کی، انہیں احتجاج کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور چاروں طرف سے پولیس اہلکاروں نے انہیں گھیرے میں لیکر بس میں جبرا بیٹھانے کی ہمت کی، جبکہ احتجاج کرنا انکا حق تھا اور وہ ایسا حق تھا جسکی تصدیق خود دستور ہند کرتا ہے، لیکن پولیس نے لوگوں کو دستور ہند کے دیے گئے احکام کو مسترد ہی نہیں بلکہ انسانیت کے ساتھ کھلواڑ کرکے، امن و امان کو ذبح کرکے بھگوا دہشت گردوں کی حمایت کی ہے ۔

قارئین: اگر ملک کا محاسبہ کیا جائے اور باعتبار ریاست پولیس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آج پولیس نے ملک کے امان کو خطرے میں ڈال دیا، دہلی پولیس ہو آسام پولیس، یوپی پولیس ہو ایم پی پولیس، ہر ایک نے امن وامان کو پامال کیا ہے، لوگوں پر بغیر کسی اجازت اور پرمیشن کے گولیوں کی بوچھار کی ہے، جبکہ انکا کام یہ تھا وہ لوگوں میں امن و سلامتی کا پیغام دیں، لوگوں کو ظلم و بربریت سے باز رکھیں۔
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب‌جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباکے ایک گروپ نے یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر شدید سردی میں شرٹ اتار کر مظاہرہ کیا تھا اور “انقلاب زندہ باد” کا نعرہ لگایا تھا تب بھی پولیس نے انکے خلاف ایکشن لینے کی جرأت کی تھی، اور وہ نعرہ بھی صرف اس لئے لگایا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے جامعہ کے باتھ روم میں گھس کر، لائبریری میں گھس کر لڑکیوں کے ساتھ مارپیٹ کی تھی، سی سی ٹی وی کیمرے اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا تھا۔ اور پولیس کارروائی میں زخمی ہوئیں غزالہ نے کہا تھا کہ جب پولیس اندر گئی تو ہم یونیورسٹی کے اندر تھے، گیٹ نمبر 7 سے لگ بھگ 20 پولیس اہلکار آئے اور پیچھے کے گیٹ سے 50 دوسرے لوگ آئے، ہم نے انہیں بتایا کہ ہم تشدد میں شامل نہیں ہیں لیکن انہوں نے نہیں سنا اور ظلم و بربریت کا بازار گرم کردیا۔  کیا آپ کو یوپی پولیس کی وہ بربریت یاد نہیں رہی کہ ان لوگوں نے مظفرنگر کے ایک یتیم خانے اورمدرسے کے استاد اوران کے ساتھ 100 سے زائد طلبا کے ساتھ این آر سی احتجاج کی بنا پر بدسلوکی تھی۔ اور مولانا اسد رضا حسینی نے پولیس پرالزام لگاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ پولیس نے حراست کے دوران انہیں رات میں ننگا کرکے ذہنی اذیتیں بھی دی تھی۔ جبکہ پولیس کا کام تو امن و سلامتی کو یقینی بنانا تھا، پر امن احتجاج کا ایک حصہ بننا تھا، لیکن ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے کام سے منہ موڑ کر ظلم و تعدی کا ننگا ناچ کیا۔ ارے ذرا پولیس کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں کہ پولیس کا کام کیا تھا انہیں کیا کرنا چاہئے تھا اور وہ کیا کر رہے ہیں۔
پولیس لاطینی زبان کے لفظ politia سے ماخوذ ہے، جسکا حقیقی معنیٰ شہریت یا ایڈمنسٹریشن کے ہے، پولیس کا خیال پیش کرنے والوں کے مطابق یہ ایک ایسی طاقت تھی جس سے شہروں میں قانون اور نظم و ضبط کا بول بالا کیا جاسکے، جس سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناکر انہیں ایک اچھا اور تہذیب یافتہ ماحول مہیا کیا جاسکے۔ انھیں ایک سسٹم کا حصہ بناکر انکے باہمی مسائل اور جھگڑوں کا حل دریافت کیاجائے۔ اور اگر پولیس فورس کی بات کریں تو یہ سب سے پہلے فرانس میں اسکے بعد انگلینڈ میں بنائی گئی، اور جب اس پولیس کا خاکہ بنایا جارہا تھا تو یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پولیس کو سیاسی طور پر استعمال کیا جائے گا، اور ایسا ہوا بھی لیکن بعد میں چل اس پر قابو پالیا گیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی بہت سے ممالک میں پولیس خودمختار ہے، سیاست سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ہے اسی بنیاد پر آج کئی ممالک میں پولیس اپنے فرائض کو بخوبی نبھا رہی ہے، عوام کی بھلائی اور دفاع کا کام کر رہی ہے۔

لیکن ہمارے یہاں ایک بات واضح ہے کہ اس ملک کی پولیس سیاسی ہتھکنڈوں کے لئے استعمال ہورہی ہے، بنابریں لوگ ظلم و زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں، اور پولیس اپنے کام سے منہ موڑ کر ایک مخصوص پارٹی کی حمایت کر رہی ہے۔ اس لئے آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پولیس کو سیاسی طور سے دور رکھ کر انہیں خودمختار بناکر انہیں انکا فریضہ بتایا جائے۔ تبھی اس ملک سے ظلم و تشدد کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم :جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS