شراب نوشی کے دینی اور دنیوی نقصانات

0

محمد کلیم الدین مصباحی
ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں جنم لے چکی ہیں وہیں نشہ جیسی برائی نے بھی اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہے ۔ کثیر تعدادمیں لوگ نشے کے عادی ہو چکے ہیں ۔بوڑھا ہو یا نوجوان ،مرد ہو یا عورت،امیر ہو یا غریب،افسر ہو یا حاکم ،تاجر ہو یا کسان بے شمار افراد جانے انجانے نشے کی لت میں جکڑے ہوئے ہیں ۔انسان بڑا ہی نادان ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاکت میںڈال رہا ہے جب کہ اللہ نے قران کریم میں ارشاد فرمایا’’اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو‘‘(البقرہ195-) ۔اسلام نے ہر نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ حضورؐسے کسی نے آپ کے تبع کے بارے میں پوچھا جو شہد سے بنا تھا تو آپنے فرمایا کہ ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے ( بخاری ومسلم )۔اس حدیث سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہر وہ شی جو نشہ دینے والی ہے وہ اسلام کی نظر میں حرام ہے اور اہل اسلام کو اس کا استعمال ہر گز روا نہیں ۔خواہ وہ بھانگ ہو ،افیون ،چرس ،یاشراب اور اس کے علاوہ دیگرنشہ آور منشیات سب اسلام میں حرام ہے ایک اورحدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے حبیبؐ نے نشہ لانے والی اور فتور پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا(ابو دائود)۔اسلام سے پہلے عرب کے لوگ بیشمار برائیوں میں ملوث تھے ۔وہیں شراب بھی عام تھی ،لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، جب اسلام آیا تو قرآن میں اللہ نے اس کی حرمت کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانا ت کو بھی بیان کیااور ہمیشہ کے لئے شراب کو حرام کردیا ۔ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا’’اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ‘‘(المائدہ90-)۔
شراب کی نحوست کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ نے اس کو شیطانی کام کہا اور بت پرستی کے ساتھ بیان کیا ۔اللہ کے حبیب ؐ نے بے شمار احادیث میں شراب کی مذمت اور اس کی قباحت وخباثت کو واضح انداز میں بیان فرمایا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں،میں نے رسول اللہ سے شراب کے متعلق دریافت فرمایا تو اللہ کے حبیبؐ نے فرمایا ـ کہ یہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ سب برائی کی سردار ہے(الزواجر) ۔اللہ کے نبیؐ نے ارشاد فرمایاکہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ ہر گز شراب نہ پیئے اور جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب ہو(طبرانی)َ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک حدیث حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ آپؓ فرماتیں ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوگئی تو میں نے ہیالے میں نبیذ بنایا(جو کھجور سے بنایاہوا ایک قسم کا مشروب ہے ) اللہ کے رسولؐ میرے گھر تشریف لائے تو وہ ابل (چولھے پر) رہی تھی ۔آپؐ نے فرمایا ام سلمہ یہ کیا ہے ؟میں نے عرض کیا میری بیٹی بیمار ہے اس کی دوا بنا رہی ہوں ۔آپؐ نے فرمایاکہ اللہ نے حرام کردہ اشیاء میں میری امت کے لئے شفا نہیں رکھی ہے ۔ ایک حدیث حضرت وائل حضرمیؓ سے مروی ہے کہ طارق بن سوید ؓنے آپؐ سے شراب کے بارے میں پوچھا ، آپؐ نے ان کو منع فرمایاتو انہوں نے کہا یا رسو ل اللہ میں تو صرف دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، حضور ؐ نے ارشاد فرمایاکہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ یک بہت بڑی بیماری ہے (مشکوۃ)۔ مذکورہ احادیث سے شراب کی حرمت اور اس کی قباحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو ا کہ حرام اشیاء میں شفا نہیں ہے ۔
ایک جگہ اللہ کے حبیب ؐ نے ارشاد فرمایا کہ شراب نہ پیو کہ یہ ام الخبائث ہے اور ایسی ام الخبائث کہ انسان شراب کی حالت کبھی کبھی اپنی ماں اور پھو پھی کے ساتھ بھی بدکاری کر بیٹھتا ہے ۔ اوربھی بہت سی حدیثیںشراب کی مذمت میں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔شراب پینے والوں کے بارے میں اللہ کے حبیبؐ نے بے شمار احادیث میں وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔حضورؐ نے فرمایاکہ جو دنیا میں شراب پیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جہنمی سانپوں کا زہر پلائے گا جسے پینے سے پہلے ہی اس کے چہرے کا گوشت گل کر برتن میں گر جائے گا اور جب وہ اسے پئے گا تو اس کا گوشت اور کھال ادھڑ جائے گی جس سے جھنمی اذیت پائیں گے (روح البیان ج ۴ ) ۔ ایک جگہ اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا اللہ تعالیٰ اسے آخرت میں جہنم کی پیپ پلائے گا (روح البیان )۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ دائمی طور پر شراب پینے والااگر مر گیا اسی حالت میں تو دربار خداوند ی میں اس طرح آئے گا جیسے ایک بت پرست(مشکوۃشریف)َ۔حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میری عزت وجلال کی قسم جو بندہ ایک گھونٹ بھی شراب پیئے گا میں اس کو اتنا ہی پیپ پلائوں گا اور جو بندہ میر ے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اسے مقدس حوض سے پلائوں گا (امام احمد بن حنبلؓ)۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے اللہ کے نبی ؐ نے فرمایا ـ کہ اللہ نے تین آدمیوں پرجنت حرام کردی ہے ۔وہ تین یہ ہیں (۱)ہمیشہ شراب پینے والا(۲)والدین کی نافرمانی کرنے والا (۳)دیوث جو اپنے اہل میں بے حیائی کو دیکھے اور منع نہ کرے(نسائی)۔
شراب انسان کے لئے دین ودنیا دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے۔ دینی نقصان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو خرید کر اپنی آخرت برباد کرلیتا ہے ۔ دنیوی نقصان یہ ہے کہ مختلف قسم کی مہلک بیماریا ں لاحق ہوجاتی ہیں جو ہلاکت کا سبب بنتی ہیں ،لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ہیں ،شراب پینے والابے مروت ہوجاتا ہے ،سماج اور معاشرہ کے لئے درد سر بن جاتا ہے ۔بس اتنا سمجھ لیں کہ شراب میں ہر طرف سے تباہی اور بربادی ہے، مال کی بھی اور جان کی بھی ۔اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے ۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS