حصول علم میں ایک خاتون کی سبق آموز جدوجہد : عبدالعزیز

0

عبدالعزیز

قریب چالیس برس پہلے کی بات ہے کہ مہاراشٹر کے ایک ضلع کے مستقر پر ایک صاحب امریکہ سے زراعت کے شعبہ میں پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری لے کر آئے اور زرعی کالج میں پروفیسر ہوگئے۔ باوجود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے کٹر مذہبی قسم کے آدمی تھے۔ اپنے گھر والوں کو پردہ کی سختی سے پابندی کرواتے۔ ان کی ایک لڑکی گرلز ہائی اسکول کی چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی جو سائیکل رکشہ میں پردہ باندھ کر خود بھی برقعہ میں ملفوف ہوکر آتی جاتی۔ ایک روز وہ پردہ سے باہر چہرہ نکال کر دیکھ رہی تھی۔ غضب ہوا کہ ابا جان کی نظر راستہ سے آتے ہوئے پڑگئی۔ شام میں یہ لڑکی گھر واپس آئی تو وہ اس پر برس پڑے اور زور سے منہ پر طمانچہ مارا کہ لڑکی کا ایک دانت ٹوٹ کر گرگیا اور منہ لہولہان ہوگیا۔ دوسرے ہی دن لڑکی کا نام اسکول سے خارج کروالیا اور گھر سے باہر قدم رکھنے کی ممانعت کردی۔

یہ سارا واقعہ گرلز ہائی اسکول کی ہیڈ مسٹریس عائشہ بیگم کے علم میں آیا۔ ویسے یہ واقعہ ساری آبادی میں مشہور ہوچکا تھا۔ یہ غریب، ذہین اور مظلوم طالبہ اور خواتین کی مدد کا نصف صدی کے دوران ایک شاندار ریکارڈ رکھتی ہے۔ انھوں نے ان پروفیسر صاحب سے ملنے کیلئے وقت مانگا۔ وہ بڑی مشکل سے راضی ہوئے کہ دیوان خانہ کے درمیان پردہ ہوگا اور پردہ کی اوٹ سے بات ہوگی۔ محترمہ نے پروفیسر صاحب کو بہت سمجھایا کہ ایک معصوم لڑکی کو اتنی سخت سزا دینا اور اسکول ہی سے خارج کرلینا مناسب نہیں، لیکن وہ کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔ محترمہ نے کہاکہ جب تک آپ اپنی لڑکی کو دوبارہ اسکول نہ بھجوائیں گے میں یہاں سے ٹلنے والی نہیں ہوں۔ جب جاکر پروفیسر صاحب کے اندازِ فکر میں نرمی پیدا ہوئی۔ ہیڈ مسٹریس کی شخصی ذمہ داری پر وہ اپنی لڑکی کو دوبارہ اسکول بھیجنے پر آمادہ ہوگئے۔

اس واقعہ کے دو سال بعد ان پروفیسر صاحب کا اچانک انتقال ہوگیا۔ وہ 26 سال کی بیوہ اور پانچ بچوں کو اس دنیا میں بے سہارا چھوڑ کر چلے گئے۔ کوئی تیسرے دن محترمہ کو معلوم ہوا کہ پروفیسر صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ کسی اور مقام پر تھیں۔ وہاں سے سفر کرکے پرسہ دینے کیلئے واپس آئیں۔ جب میں نے اس خاتون کو دیکھا جس کا سفید رنگ پیلا پڑچکا ہے اور وہ بجائے رونے دھونے کے ساکت و خاموش بیٹھی ہوئی ہیں۔ پوچھنے پر کہنے لگیں کہ شوہر کے جانے کا غم تو بہت ہے لیکن ان پانچ بچوں کا کیا ہوگا (جن میں دودھ پیتا بچہ بھی تھا)۔ اسی روز مالک مکان کا نوٹس بھی موصول ہوا تھا کہ مکان فوراً خالی کردیں۔ بیوہ کے والد ریٹائرڈ پولیس آفیسر تھے اور دیہات میں زمیندار تھے۔ انھوں نے کہاکہ وہ اپنے گھر واپس آجائے اور ماہانہ ایک تھیلا غلہ کا وہ انتظام بھی کر دیں گے۔
“When Troubles Come, They Come in Battalions”. (Shakespear)
(جب بلائیں آتی ہیں تو فوج در فوج آتی ہیں)
عائشہ بیگم نے دلاسہ دیا اور اس اجنبی خاتون کو اپنے وسیع مکان میں رہنے کا مشورہ دیا۔ وہ دوسرے ہی روز بجائے اپنے والد کے گھر جانے کے محترمہ عائشہ بیگم کے مکان آگئیں اور مہر کی کچھ رقم تھی وہ کام آئی۔
اصل کہانی شوہر کے انتقال کے بعد شروع ہوتی ہے۔ شوہر کا مرنا کیا تھا کہ خاندان کے سب ہی افراد پر تعلیم کے دروازے کھل گئے۔ مرحوم تو لڑکیوں کی تعلیم کے دشمن تھے۔ اس بیوہ نے تعلیم کیلئے جو جدوجہد اور جانفشانی کی ہے ایسی مثال بہت کم دیکھنے یا سننے میں آئی۔ محترمہ عائشہ بیگم کہتی ہیں کہ میں نے صرف اپنے گھر میں رہنے کا سہارا دیا لیکن وہ اس نے سہارے کو غنیمت جان کر ایسی مثال قائم کر دی کہ میں آج تک دنگ ہوں۔ اگر ڈپٹی نذیر احمد کو اس خاتون کی تعلیمی جدوجہد کا علم ہوجاتا تو شاید وہ عورتوں کی تعلیم و تربیت پر ’’مرأۃ العروس‘‘ جیسا ایک اور ناول لکھ ڈالتے۔

اس خاتون نے ارادہ کرلیا کہ وہ خود تعلیم حاصل کرے گی اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائے گی۔خود تو کچھ پڑھی لکھی تھیں۔ دو سال کے عرصے میں مراٹھی کی تین کتابیں پڑھ ڈالیں اور انگریزی میں ABCD سے شروع کرکے ساتویں جماعت کی انگریزی پڑھنے، لکھنے، سمجھنے کے قابل ہوگئیں۔ محترمہ عائشہ بیگم روزانہ گھنٹہ دو گھنٹے ٹیوشن دیتیں۔ جب انھیں دن میں فرصت نہ ملتی تو رات دو بجے اس خاتون کو نیند سے جگا دیتیں، پھر تعلیم شروع ہوتی۔ نہ تو اس خاتون کو نیند آتی اور نہ اس مدر ٹریسا کے جذبۂ خدمت کی آگ مدھم ہوتی۔

یہ خاتون مشین پر سلائی اور اِمبرائیڈری کے کام میں طاق تھیں۔ عائشہ بیگم اپنے اثرات اور تعلقات کی بنا پر کئی خاندانوں کے کپڑے سلوائی کیلئے لے کر آجاتی تھیں اور ہوم ورک دیتیں۔ یہ خاتون دن و رات سلائی کرتیں۔ اس طرح بچوں کی پرورش ہوتی گئی۔ بالآخر وہ مڈل (درجہ ہفتم) کے امتحان میں کامیاب ہوگئیں اور چند ہی دنوں میں مڈل ٹرینڈ ہوکر کسی گورنمنٹ پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئیں۔ اس طرح معاشی حالات کسی حد تک بہتر ہوگئے۔ اس خاتون نے اس راز کو پالیا تھا کہ جو غریب، بے کس، بے سہارا ہیں وہ معاشرے میں تعلیم ہی سے اوپر آسکتے ہیں۔ان کے چھ بھائی بہن دیہات میں رہتے تھے جو زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ معمولی سی زراعت کے کام میں لگے ہوئے تھے۔ انھیں خیال آیا کہ اپنے بھائی، بہن اور رشتہ داروں کے بچوں کو دیہات سے لاکر اپنے پاس رکھ کر تعلیم کا انتظام کرنا چاہئے۔ چنانچہ 25-30سال کے عرصے میں ان بچوں کی تعداد پچاس سے زائد ہوگئی۔ آپ یہ سن کر حیرت میں پڑجائیں گے کہ ان میں کوئی آج گریجویٹ سے کم نہیں۔بی اے، بی ایس سی، ایم اے، ایم ایس سی، ایم ایڈ، پی ایچ۔ڈی، بی ای، ایم بی بی ایس، پانچ چھ ڈاکٹر، چھ ساتھ انجینئر، لیکچرر، پروفیسر، گزیٹیڈ آفیسر، اسکول کے ٹیچرز وغیرہ ہیں۔ حال ہی میں اسی خاتون کا ایک لڑکا محترمہ عائشہ بیگم سے ایک عرصہ کے بعد ملنے آیا جو ماہانہ تیس ہزار روپئے تنخواہ پاتا ہے اور وہ صاحبزادی جن کا دانت ٹوٹ گیا تھا ان کی ایک لڑکی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے جن کی شادی بھی ایک ڈاکٹر سے ہوئی ہے۔ ’ہمہ خاندان آفتاب است‘ کی مثال۔

دو سال قبل یہ خاتون اورنگ آباد سے حیدر آباد تشریف لائی تھیں۔ محترمہ عائشہ بیگم کے ذریعہ اس خاتون سے میری ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں میں نے کہاکہ مولانا سید سلیمان ندویؒ کا قول ہے کہ ’’اگر ایک غریب ذہین لڑکے کو اعلیٰ تعلیم دلوادو تو پھر اس کی تیسری، چوتھی پشت تک اس کے خاندان میں کوئی غریب باقی نہیں رہے گا‘‘۔کہنے لگیں وہ تو بہت دور کی بات ہے۔ دیکھئے میں نے اپنے ہی خاندان کی موجودہ نسل کو مختصر سی مدت میں تعلیم سے آراستہ کرواکر انھیں معاشرہ میں بہت بڑا مقام ملتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔

اس خاتون کی تعلیمی جدوجہد کو ہم نے ’’انقلابی‘‘ لکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک متوسط خاندان کی غریب دیہاتی لڑکی جس کو لکھنے پڑھنے کا شدبد ہو، افتادِ زمانہ نے اسے آسمان سے زمین پر پٹخ دیا ہو، اپنے بچوں کو جس طرح تعلیم دینے کی جدوجہد کی اور خود مڈل تک پڑھنے میں کامیاب ہوئیں، بے شک داد دینے کو جی چاہتا ہے، لیکن ایک تعلیمی مشن کے طور پر اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے پچاس سے زائد لڑکے اور لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم تک کسی نہ کسی طرح اپنی نگرانی میں انتظام کرنا بھی حیرت انگیز ہے۔ ایسی مثال کسی دولت مند بڑے خاندانوں میں بھی آج تک دیکھنے اور سننے میں نہیں آتی ہے۔
یہاں پر عائشہ بیگم کے تعلیمی مشن کا ایک روشن پہلو سامنے آتا ہے۔ اگر یہ نیک نفس خاتون ایسے نازک وقت پر انھیں سہارا نہ دیتیں اور پانچ بچوں کی ماں کو جس کو وہ پوری طرح نہ جانتی ہوں، اپنے گھر لاکر ٹھہرالینا بڑے حوصلے کا کام ہے ورنہ یہ دمکتا موتی کہیں کوڑے کرکٹ، کنکر پتھروں میں گم ہوجاتا۔ محترمہ عائشہ بیگم بار بار کہتی رہیں کہ میں نے ایسی جفا کش، دور اندیش، جرأت مند، مصمم ارادہ والی نیک نفس، شگفتہ مزاج خاتون جس کی پیشانی پر کبھی شکن نہ آیا ہو اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ اے گمنام، نیک نام خاتون تیری زندگی اور کشمکش حیات، تیرا حوصلہ، تیرا تعلیمی مشن، سیکڑوں خاندانوں کیلئے مینارۂ نور ثابت ہوگا۔
(استفادہ از: تعلیم ایک تحریک، ایک چیلنج)
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی
(اقبال)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS