ملک میں سیمی کنڈکٹر کی کھپت 2030 تک 110 ارب امریکی ڈالر کے پار ہونے کی امید :مودی

0
businesstoday.in

ہندوستان ایک مضبوط معیشت کی جانب گامزن
بنگلورو، (ایجنسیاں) :وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہاکہ ہندوستان ایک مضبوط معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے اور ملک میں سیمی کنڈکٹر کی کھپت 2030 تک
110 ارب امریکی ڈالر کے پار ہونے کی امید ہے اور یہ دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھتا اسٹارٹ اَپ ’ایکوسسٹم‘ ہے۔ مودی نے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کےلئے
ہندوستان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آج کہا کہ ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر کی کھپت 2026تک 80بلین ڈالر اور 2030تک 110بلین ڈالر سے
تجاوز کرنے کی امید ہے ۔وزیر اعظم نے سیمی کان انڈیا سمٹ 2022کا ورچول افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ ’ہمارے پاس سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کےلئے غیر معمولی ہنر ہے
، جو دنیا کے 20فیصد سیمی کنڈکٹر ڈیزائن انجینئروں کے برابر ہے۔ ہمارے ملک میں تقریباً تمام ٹاپ 25سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کمپنیوں کے اپنے ڈیزائن یا آر اینڈ ڈی مراکز
ہیں‘۔ انہوں نے ہندوستان میں اس کانفرنس کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے آج کی دنیا میں سیمی کنڈکٹرز کے اہم کردار پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ ’
ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے کلیدی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر قائم کرنا ہمارا اجتماعی مقصد ہے ۔ ہمارا مقصد ہائی ٹیک، اعلیٰ معیار اور
اعلیٰ بھروسے کے اصول کی بنیاد پر اس سمت میں کام کرنا ہے ۔وزیر اعظم نے ہندوستان کو سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کےلئے سرمایہ کاری کے ایک پرکشش مقام کے طور
پر اجاگر کرنے کی 6 وجوہات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان 1.3بلین ہندوستانیوں کو جوڑنے کےلئے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر بنا رہا ہے۔ ہندوستان نے حال ہی میں
مالی شمولیت، بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبوں میں جو پیشرفت کی ہے اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ’ہم نظم و نسق کے تمام شعبوں میں
زندگیوں کو بدلنے کےلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال صحت اور تندرستی سے لے کر شمولیت اور بااختیار بنانے تک میں کررہے ہیں‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان
چھ لاکھ دیہاتوں کو براڈ بینڈ سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ آئی او ٹی اور فائیوجی اور کلین انرجی ٹکنالوجی میں صلاحیتوں کی ترقی جیسے اقدامات کے ساتھ اگلی ٹیکنالوجی
انقلاب کی قیادت کرنے کی راہ پر گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے ساتھ مضبوط اقتصادی
ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ ہندوستان کی اپنی سیمی کنڈکٹر کی کھپت 2026تک 80بلین اور 2030تک 110بلین سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ
ہندوستان نے کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید آسان بنانے کےلئے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ہیں۔
25,000سے زیادہ کمپلائنس کو ختم کرنے ، لائسنسوں کی خود تجدید کی طرف بڑھنے ، ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ریگولیٹری فریم ورک میں شفافیت اور رفتار اور
دنیا کے سب سے زیادہ سازگار ٹیکسیشن ڈھانچے میں سے ایک جیسے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مہارت کی ترقی میں 21ویں بڑی سرمایہ
کاری اور صدی کی ضروریات کےلئے نوجوان ہندوستانیوں کی تربیت میں زبردست سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو
تبدیل کرنے کےلئے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب انسانیت ایک صدی میں ایک بار ہونے والی وبائی بیماری کا مقابلہ کر رہی تھی، ہندوستان نہ صرف اپنے
لوگوں کی صحت کو بہتر بنا رہا تھا بلکہ اپنی معیشت کی حالت کو بھی بہتر بنا رہا تھا۔
وزیر اعظم مودی نے پیداواری ترغیبی اسکیموں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ 14کلیدی شعبوں میں 26بلین سے زیادہ کی ترغیبات پیش کی گئی ہیں۔ اگلے
5سالوں میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ریکارڈ ترقی کی توقع ہے ۔