بابری مسجد کی شہادت ہم بھلا نہیں سکتے!

0

احمد حسين مظاہری

6/دسمبر برصغیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہم کبھی بھول نہیں سکتے نہ ہی ہماری آنے والی نسلیں کبھی بھولیں گیں،مسلمانانِ ہند کو تقسیمِ ہند کے بعد جس بڑے سانحہ سے گزرنا پڑا وہ سانحہ بابری مسجد کی شہادت ہے۔آج کادن بابری مسجد کی شہادت یاد دلاتا ہے آج کی تاریخ (6/دسمبر 1992) ہی میں متنازعہ بابری مسجد کی عمارت مسمار کرکے پیوندِ زمین کردی گئی تھی،مسجد کے میناروں کے زمین بوس ہونے سے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو جو چوٹ لگی ہے اس زخم کو بھر نے میں خاصی دن لگیں گے۔
یہ سانحہ عظیم ہےپُرغم وپُرالم ہے۔شہادت خواہ مومن کی ہو یا اللّٰہ ربُّ العزت کے کسی بھی گھر کی ایک عبرت آموز تاریخ مرتب ہوتی ہے۔
آہ……….بابری مسجد تین گنبدوں والی یہ قدیم مسجد شہنشاہ ”بابر“ کے دور میں اودھ کے حاکم ”میرباقی اصفہانی“ نے ۹۳۵ھ /۱۵۲۸ء میں تعمیر کرائی تھی،مسجد کے مسقف حصہ میں تین صفیں تھیں اور ہر صف میں ایک سو بیس نمازی کھڑے ہوسکتے تھے،صحن میں چار صفوں کی وسعت تھی،اس طرح بیک وقت ساڑھے آٹھ سو مصلی نماز ادا کرسکتے تھے۔(مقالاتِ حبیب ج /٣)
یہ بات بھی آپ لوگوں کے گوش گُزارکردوں کہ (1949) تک بابری مسجدکسی اختلاف و نزاع کے بغیر مسلمانوں کے قبضہ میں رہی اور ضروری اس بات کی تھی کہ قومی یکجہتی اور جذباتی ہم آہنگی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے تو اس کے برخلاف 22/ دسمبر 1949کی درمیانی شب کو ہنومان گڑھی کے مہنت ابھےرام اپنے چیلوں کے ہمراہ مسجد کی دیوار پھاند کر اس میں گھس گئے اور اس کے درمیانی گنبد میں عین محراب کے اندر رام کی مورتی رکھ دی اس وقت مانو پرشاد ایک کانسٹیبل وہاں متعین تھا،اس نے تھانہ میں رپورٹ درج کرائی کہ ابھے رام داس،شکل داس، سدرش داس،اور پچاس ساٹھ نامعلوم آدمیوں نے مسجد کے اندر جاکر مورتی رکھ دی ہے جس نقص امن کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔(بحوالہ:بابری مسجد شہادت سے قبل)
۶ /دسمبر کی وحشتناک تاریخ آگئی،ایڈوانی، سنگھل، ونے کٹیار،اوما بھارتی وغیرہ دولاکھ کارسیوکوں کی فوج لئے اجودھیا کے میدان میں پہلے ہی سے موجود تھے،ان لیڈروں کی رہنمائی میں کارسیوا شروع ہوئی اورتشدد پر آمادہ تربیت یافتہ کارسیوکوں نے گیارہ بج کر پچپن منٹ پر بابری مسجد پر دھاوا بول دیا اور بغیر کسی مزاحمت کے پورے اطمینان سے چار بجے تک اسے توڑتے اور ملبہ کو دور پھینکتے رہے یہاں تک کہ صفحہ زمین سے بابری مسجد کا نام و نشان ختم کر دیا گیا۔(مقالات حبیب ج/٣)
آج کی تاریخ مسلمانوں کے لیے یوم سیاہ ہے، ہم مسلمان بابری مسجد کی شہادت کو بھلا نہیں سکتے کیونکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہےکہ جہاں پر ایک مرتبہ مسجد قائم ہوجائے اس پر تاقیامت مسجد کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
بابری مسجدجو مسلمانوں کی ایک تاریخی وراثت تھی اور ایک عرصے سے یہ مسجد اختلاف کی جگہ بن گئی تھی۔پھر 6/دسمبر کا وہ دن آیا جس دن یہ مسجد شہید کردی گئی،جس کی پاداش میں ملک بھر میں احتجاج جاری رہے،فسادات برپا ہوئے کشت و خون ہوا۔ بابری مسجد ایک انتہائی دیرینہ سیاسی،تاریخی اورسماجی و مذہبی متنازعہ ہے۔
یقیناً یہ بات آپ لوگوں سے مخفی نہیں ہوگی کہ سپریم کورٹ نے(9) اکتوبر/2019 کی صبح ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کی ہدایت بھی دی گئی تھی،تاہم ہم مسلمان وہاں تاقیامت مسجد ہی مانتے ہیں اور مانتے رہیں گے کیونکہ عرش سے لے کر فرش تک یہ جگہ مسجد ہی رہے گی اس کا کوئی بدل نہیں ہے۔
کچھ نام نہاد مسلمان کہتے ہیں بابری مسجد کی شہادت کی تائید کرتے ہیں اور شہدائے بابری مسجد کی مذمت کرتے ہیں ۔تُف ہے اُن لوگوں پر….. ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ اس سلسلے میں من و عَن سپرد قرطاس کررہا ہوں۔
بسم الله الرحمن الرحیم… الجواب:بابری مسجد شہید کرنے والے یقیناً ظالم ہیں۔اس شہادت کی تائید کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔یہ سخت گنہ گار قرار پائیں گے۔ اس مسجد کی بازیابی کے لئے سعی کرنا مسلمانوں کا فرض ہے۔ یہ مقدمہ 1949ء سے قائم ہے اور اب تک عدلیہ نے فیصلہ نہیں دیا اس لئے اس پر اعتماد کرنا مشکل ہے، باقی مجبوری ہے،قانوناً جب تک فیصلہ نہ ہو لڑتے رہنا چاہئے۔اس سلسلہ میں جنہوں نے سعی کی وہ قابلِ اجر ہیں اوراس کی حفاظت میں جو مسلمان مارے گئے وہ شہید ہیں۔اس کی بازیابی کے لئے کوشش کرنے والے لائق مدح وستائش ہیں۔اس مسجدسے دستبردار ہونا درست نہیں ہے۔الجواب صحيح: محمد عبد الله /الجواب صحيح : کفیل الرحمن /محمد ظفیر الدین /مفتی دارالعلوم دیوبند(ماخوذ:بابری مسجد شہادت سے قبل…)
حق جل مجدہ نے قرآن مجید میں ببانگ دُہل ارشاد فرمایا:اوراس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے کی ممانعت کردی اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کی، ایسے لوگوں کا حق نہیں ہے کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اوران کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔ ( سورہ بقرہ /114)
لہذا آج کی تاریخ مسلمانانِ ہند کے لیے یوم سیاہ ہے جملہ مسلمان سے التجا ہے کہ مسجدوں میں قنوت نازلہ کااہتام کریں اور ان شہداء کے لیے دعا کریں جنہوں نے بابری مسجد کے لیے اپنی جان قربان کردی اوردارِفانی سے دارالبقا کوچ کرگیے! اللہ تعالیٰ ان شہداء.. کو اعلی علیین میں مقام کریم سے سرفراز فرمائے۔( آمین)
آہ۔۔۔۔۔!اے بابری مسجد ظالموں نے تجھے شہید کردیا لیکن تیری اَن مٹ داستان تاقیامت امر رہے گی۔بقول راقم:احمد….

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS