آیئے کچھ کریں!

0

عمیر انس

ہم کیا کر سکتے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟،یہ سب سے زیادہ پوچھے جانے والا سوال ہے۔جب جب آپ ملک اور ملت کا دکھ بیان کریں گے تب تب آپ کسی کمزوری پر تنقید کریں گے، کسی ناکامی کا جائزہ لیں گے تو آپ سے ضرور پوچھا جائے گا تو پھر ہم کیا کریں؟ میرا بالکل مختصر جواب ہوتا ہے کہ ہمیں مسائل کو حل کرنے والے نقطہ نظر سے تنقید بھی کرنی چاہیے اور اگر اس کا حل آپ کے پاس ہے تو اسے بھی پیش کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے، ہمیں بگڑی کو بنانے والے اور بکھر چکے کو منظم کرنے والے بننا چاہیے۔
میرے نزدیک مسلمان نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی بیروزگاری، غربت اور جہالت نہیں ہے کیونکہ اس مرض میں وہ دنیا میں اکیلے نہیں ہیں، ہر مذہب، نسل، ملک اور زبان کے لوگوں میں غربت ہے، بے روزگاری ہے۔ لیکن جو چیز مسلمانوں کو ان سے الگ کرتی ہے، وہ غالباً دو باتیں ہیں۔ پہلا فرق یہ ہے کہ گزشتہ سو سالوں میں دنیا کی سب سے غریب ترین آبادیاں بھی بشمول مسلمانوں کے ترقی پذیر ہوئی ہیں۔لیکن مسلمان پہلے مسائل کو حل کرنے والوں میں شامل ہوا کرتے تھے، نت نئے علوم وفنون، تکنیک اور تدبیر پیدا کرنے والے تھے اور دنیا کی ساری آبادیاں دور دراز علاقوں سے ان کے علاقوں کی طرف یعنی بغداد، قاہرہ، استنبول، فارس، دمشق، حرمین اور دیگر شہروں کی جانب رجوع کرتی تھیں، بالکل ویسے ہی جیسے آج ہم سب لوگ کسی نہ کسی طرح لندن اور نیو یارک پہنچ جانا چاہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہمارے درمیان ایسے لوگوں کی، ایسے افکار کی اور ایسے حوصلوں کی کمی ہو گئی ہے جو دنیا کو زیادہ بہتر بنانے کے لائق تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ مسلمان دنیا کے سامنے اس وجہ سے زیادہ قابل قبول ہو سکتے ہیں کہ ان کی گندی بستیوں میں منہدم ہوتے اسکولوں میں لوگ کتنا زیادہ مذہب کے ظاہری شعاروں پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انسانوں میں کسی بھی طبقہ کی مقبولیت صرف اسی بات سے ممکن ہے کہ وہ سبھی لوگوں کے لیے کس قدر مفید ہے، ہمارے اعمال ضرور جنت کا ذریعہ ہوں گے لیکن اگر ان اعمال سے آپ کے پڑوس، آپ کے شہر اور ہم وطنوں کو کوئی فائدہ محسوس نہ ہو تو یہ بات قابل حیرت ہے۔ دنیا کی سبھی بہترین ایجادات، دواؤں، ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، تجارتی آسانیاں، کمیونی کیشن اور انفرااسٹرکچر میں نمایاں خدمات انجام دینے والے جو حضرات ہیں، اپنے ذاتی مذہبی خیالات کے باوجود لوگوں کی نظروں میں زیادہ مقبول بھی ہیں۔ اسلامی تاریخ کا یہ مطالعہ جو کئی اسلامی طبقوں نے پیش کیا ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں کامیابی محض ان کے خاص عقیدے کی وجہ سے ہے، درست نہیں ہے۔ان کے عقیدے نے ان کو خود کو مفید بنانے اور نافع بنانے کا فلسفہ دیا جس پر انہوں نے عمل کیا اور مقبول ہوئے۔
اس فکر کو میں سادے الفاظ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کو قیادت کے نقطہ نظر سے سوچنا چاہیے، قیادت نعرے اور جماعتوں کے مناصب کا نام نہیں ہے، قیادت اس رویہ اور سوچ کا نام ہے جو آپ کو اپنے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں ان کی سب سے بہتر طریقے سے مدد کرنے کا راستہ نکالنے میں مدد کرے۔قیادت کی سوچ یہ ہے کہ ہم دنیا کے مسائل کو سمجھنے میں محنت صرف کریں، ان پر تحقیق بھی کریں اور گفتگو بھی۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ مضامین میں لکھا کہ حیرت ہے کہ اس ملک میں مسلمان ماہرین معیشت کی تعداد اتنی کم کیوں ہے؟ نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے معاشی مسائل کو علمی اور تحقیقی طریقوں سے سمجھنے والوں کی تعداد کم ہے بلکہ ملکی معیشت کی بھی مہارت اور دلچسپی رکھنے والوں کی کمی ہے، آپ جس کشتی میں سوار ہیں، اس میں آپ جس حصے میں ٹھہرے ہوں وہ پوری کشتی کے مفادات سے الگ نہیں ہو سکتا۔اور اگر کشتی کو بہتر سمت میں جانا ہے تو اس کے لیے آپ اپنے کمرے کے بجائے پوری کشتی کے سفر کے بارے میں فکرمند ہوں گے۔ مثال کے طور پر حضرت بابر اور دیگر مسلمان سلاطین بہت مثالی مسلمان ہو سکتا ہے کہ نہ ہوں لیکن وہ اپنی اس انسانی خوبی میں بہت نمایاں تھے کہ وہ اپنے آپ کو پورے ملک کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے اقدام کرتے تھے۔خوب غلطیاں بھی کرتے تھے لیکن اکثر وہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے تھے۔ لہٰذا میری دعوت صرف اتنی ہے کہ آپ جہاں جس محلے اور گاؤں میں رہتے ہیں، وہاں پورے اعتماد کے ساتھ اپنے علاقے کے مسائل کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کریں۔ان کو محسوس کریں اور ان کے حل کا حصہ بنیں۔سیکڑوں مدارس ہیں اس ملک میں لیکن اکثر مدارس جزیروں کی طرح ہیں جن کا اپنے اطراف کی آبادیوں سے انسانی رشتہ کمزور ہے۔
دوسرا فرق جو مسلمانوں کو غیر مسلموں سے الگ کرتا ہے اور یہ میرا ذاتی احساس اور کئی مسلم ممالک کے مشاہدے پر مبنی ہے کہ مسلمان نوجوانوں کی بڑی تعداد بلند حوصلوں کی بجائے پست حوصلوں اور معمولی کامیابیوں پر مطمئن اور قانع ہو چکی ہے۔ابن سینا، غزالی، البیرونی، فارابی اور دیگر سبھی علماء اور فلاسفہ اپنی ذاتی زندگیوں میں روٹی کپڑا مکان کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے اگر کام کرتے تو انہوں نے وہ اطمینان بہت جلدی ہی حاصل کر لیا تھا۔ عثمانی سلطنت کا قیام کوئی ذاتی ضرورتوں کی تکمیل نہیں تھی بلکہ بلند انسانی عزائم اور حوصلوں کی تکمیل تھی۔ میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ سارے عظیم انسانوں کو پہلے سے معلوم تھا کہ وہ ایک عظیم کام انجام دینے جا رہے ہیں۔بعض مسلم مورخین نے ایسا تاریخی بیانیہ فروغ دیا ہے کہ گویا کہ بعض عظیم ہستیاں اپنے بچپن سے ہی بڑے کام انجام دینے کا مشن لے کر آئی تھیں۔ یہ ان کے ایک عظیم انسان ہونے کے سفر کی نفی ہے۔ وہ عظیم اس لیے ہوئے کیونکہ انہوں نے عزم اور حوصلوں کے ساتھ زندگی گزاری، مطمئن ہوکر نہیں بیٹھے، معمولی کامیابیوں پر تسلی کر کے نہیں رہ گئے۔یہ بات کہنے میں آسان ہے لیکن ہمارے نوجوان بلند حوصلہ رکھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی زندگیوں میں مطمئن ہونے کی منزل بہت جلدی آتی ہے،کوئی سرکاری نوکری مل گئی، ایک آدھ کروڑ روپے کما لیے،دس بیس ملک گھوم لیے، سو پچاس تقریریں کر لیں، دس بیس لاکھ فالوورس اور فینس ہوگئے۔ میں اپنے مشاہدے سے یہ عرض کروں گا کہ زکوٰۃ دینا، غریبوں میں صدقہ خیرات دے کر نیکی کرنے اور نیکی کو محسوس کرنے والے ہمارے درمیان بہت ہیں لیکن زکوٰۃ دینے اور صدقہ دینے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے، اس کے لیے نوکریاں پیدا کرنے والے مشن چلانا، لاکھوں لوگوں کو معاشی طور پر خود انحصاری حاصل کرنے والا بنانا زندگی بھر صدقہ خیرات کرنے سے لاکھ گنا افضل عمل ہے۔ زندگی بھر تقریریں کرنے سے عوام کو علمی طور پر خود کفیل بنانے کی محنت کرنا کہیں زیادہ افضل ہے۔دو چار کروڑ کما کر زکوٰۃ و صدقے دے کر مطمئن ہو جانے سے زیادہ بہتر ہے کہ آپ ایک ارب پتی بننے کی فکر کریں تاکہ دنیا میں صدقات پر منحصر انسانوں کی تعداد کم سے کم ہوجائے۔ٹیکنالوجی کے ہر اس میدان میں قدم رکھیں جس کا مستقبل ابھی آیا نہیں ہے لیکن آنے والا ہے۔ آنے والی ہر نئی میڈیکل ایجاد میں آپ کی شرکت ہو، آنے والے ہر ہارڈ ویئر میں آپ کا علم شامل ہو، اس سے کم پر مطمئن نہ ہوں۔یہ بات صرف پڑھنے لکھنے والوں کے لیے ہی نہیں خود سیاست دانوں کے لیے بھی ضروری ہے۔کئی مسلم سیاستدانوں کو لگتا ہے کہ اہم مناصب اور وزارتوں تک پہنچ جانا اور وہاں اپنے قریبی لوگوں کے لیے کچھ رعایت لے لینا یا اپنے بچوں کو اگلا سیاسی وارث بنا دینا ہی بڑی کامیابی ہے۔ سیاست کے بڑے سے بڑے منصب تک پہنچنے کی تمنا کرنا اور اس کو حاصل کرنے تک میدان میں بنے رہنا ہی ایک پر عزم سیاستداں کی ضرورت ہے۔کوئی دو سیٹوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے تو آپ بھی بن سکتے ہیں۔ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ اقتدار میں شرکت اور برابری کی منزل پست ہمتی سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔البتہ اس کے لیے لازمی شرطوں کا حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔محض نعروں اور اشتعال پسند تقریروں سے یہ منزل حاصل نہیں ہوسکتی، اس کے لیے سوشل انجینئرنگ بھی ضروری ہے اور ایک جمہوری مزاج بھی۔سیاست لینے اور دینے کا میدان ہے۔ہندوستان میں مسلمان سیاستدانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ سیاست میں کامیاب ہونے کے بعد سب سے پہلے اس سیڑھی کو توڑ دیتے ہیں جس سے چڑھ کر وہ اوپر پہنچتے ہیں۔ ہر پارٹی کا مسلمان رہنما یہی چاہتا ہے کہ اب اس کے بعد یہاں کوئی مسلمان نہ آئے اور وہ اپنی پارٹی کا اکیلا لاڈلا مسلمان بنا رہے۔یہ لالچ کمزور اور پست ہمتی کی نشانی ہے۔میں بلند حوصلوں کی بات اس لیے واضح کر رہا ہوں کیونکہ گزشتہ پچاس سالوں میں ہندوستان میں ہزاروں لوگ نمایاں مقام تک پہنچے ہیں جو اپنے خاندانی اور مالی پس منظر میں ہمارے آپ کے جیسے معمولی لوگ ہی تھے۔آئی ٹی کمپنیوں میں پچاسوں کامیاب کمپنیاں، اسٹارٹ اپس صرف ان کے حوصلوں کی بدولت عروج پر پہنچے ہیں۔ورنہ حیدرآباد میں مسلمانوں کی ناک کے نیچے ایک عظیم آئی ٹی انقلاب برپا ہوگیا جس نے ان کی ریاست کی تصویر بدل کر رکھ دی اور حیدرآبادی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی گلف کی کمائی پر منحصر ہے۔ جب اترپردیش کے سبھی علاقوں کے مسلمان بیحد غریب تھے، اعظم گڑھ کے مسلمان گلف کے پیسوں سے بھرے ہوئے تھے لیکن آج ان کے بچے یہاں تک کہ بنیادی تعلیم میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ان ناکامیوں کے لیے ہماری غربت نہیں بلکہ ہماری پست ہمتی اور پست حوصلے ذمہ دار ہیں۔ لیکن جب جاگے تبھی سویرا۔ صرف دس بارہ سالوں میں بہت سارے مسلم نوجوانوں نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، یہاں تک کہ مدارس کے فضلا نے بھی معاشی میدان میں نمایاں کامیابیاں درج کی ہیں۔ رفتار کم ہے لیکن امکانات نہیں!یہ صرف ایک دو لوگوں کے بدلنے سے نہیں بلکہ قافلوں کے قافلے، جھنڈ کے جھنڈ نکلنے ہوں گے، ایک نئے امپاورمنٹ کے لیے!
جارج ڈبلیو بش نے بھی اپنی دوسری صدارت کی حلف برداری پر دعا کی تھی، اے خدایا مجھے میرے حوصلوں کے مطابق طاقت دے، میری طاقت کے مطابق حوصلے مت دے!
(مضمون نگار سینٹر فار اسٹڈیز آف پلورل سوسائٹیز، تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر ہیں۔)
[email protected]