مفت اناج اسکیم:بوٹی دے کر بکرا لینے کی قواعد

0

عبیداللّٰہ ناصر

مودی حکومت نے23دسمبر کو ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں ملک کے81کروڑ لوگوں کو5کلو مفت اناج دینے کی اسکیم کو رواں سال2023میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی حلقہ اسے اس سال نو ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی الیکشن اور اگلے سال یعنی 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کی تیاری کے طور پر دیکھ رہا ہے جبکہ ماہرین معاشیات خاص زرعی معاشیات کے ماہرین اسے ایک خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں جو مستقبل میں ملک کے زرعی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ پنجاب سے ممبر پارلیمنٹ اور زرعی امور کے ماہر سردار سمرن جیت سنگھ مان نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ دنیا میں گیہوں کی قلت بڑھ رہی ہے خاص کر جنگ سے تباہ یوکرین میں جو سب سے زیادہ گیہوں پیدا کرنے والا ملک ہے، اگر جنگ جاری رہی تو وہاں گیہوں کی کھیتی تباہ ہو جائے گی اور ساری دنیا کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس لیے حکومت کو نہ صرف گیہوں اور دیگر اناجوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے قدم اٹھانے چاہئیں بلکہ کسانوں کو بھی مطمئن کرنا چاہیے، اس کے لیے سوامی ناتھن کمیٹی کی سفارشات لاگو کرنا ضروری ہے۔ ظاہر ہے اس کے ساتھ ہی گیہوں کا وافر بفر اسٹاک بھی برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ دنیا میں گیہوں کی قلت ہو تو بھی ہندوستان کے عوام کو اس سے محفوظ رکھا جاسکے لیکن جس طرح حکومت سیاسی فائدہ کے لیے یہ کھیل کھیل رہی ہے، اسے کسی بھی طرح حق بجانب نہیں قرار دیا جا سکتا۔کووڈ وبا کے دوران خاص کر لاک ڈاؤن کے دور میں تو حکومت کی یہ نوازش حق بجانب کہی جا سکتی تھی لیکن اب اس کا کوئی جواز نہیں دکھائی دیتا۔
اس سلسلہ میں حکومت نے جو کھیل کیا ہے، اسے بھی سمجھنا کافی دلچسپ ہوگا۔آپ کو معلوم ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت نے غذائی تحفظ قانون بنایا تھا جس کے تحت خط افلاس سے نیچے رہنے والوں کو دو روپے فی کلو گیہوں اور تین روپے فی کلو چاول دینے کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ معمولی قیمت اس لیے رکھی گئی تھی کہ غریبوں کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچے اور وہ یہ احساس نہ کریں کہ حکومت انھیں بھک منگا فقیر سمجھ کر انہیں مفت غلہ فراہم کر رہی ہے۔ کلاسیکی اکنامکس سے لے کر جدید اکنامکس تک کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ سرکار کبھی کسی کو کچھ بھی مفت میں نہ دے بلکہ جوکر سکتے ہیں ان سے کام کروا کر انہیں چاہے رائج در سے زیادہ مزدوری دے لیکن کچھ بھی مفت نہ دے، بھلے ہی اس کے لیے وہ تالاب کھدوائے، پھر اسے پاٹ دے پھر کھدوائے اور پھر پٹوائے یعنی عوام میں مفت خوری کی عادت نہ ڈالی جائے اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔اس طرح مودی حکومت نے مسلمہ سماجی اور معاشی اصولوں کو توڑ کر عوام کی عزت نفس سے بھی کھلواڑ کیا ہے، انہیں مفت خوری کی طرف بھی راغب کیا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس طرح مفت غلہ بانٹ کر مودی سرکار بی جے پی کو سیاسی فائدہ تو پہنچا رہی ہے لیکن سرکاری خزانہ پر زبردست بوجھ ڈال رہی ہے، سرکاری پیسہ خرچ کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا بی جے پی کی شاطرانہ حکمت عملی ہے۔ ایک طرف حکومت مفت ریوڑی بانٹنے کے خلاف سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتی ہے، دوسری طرف خود وہی کام عوامی فلاح و بہبود کے نام پر کرتی ہے۔ یہاں یہ لازمی سوال اٹھتا ہے کہ ایسے کیا حالات ہیں کہ خشک سالی ہے، سیلاب سے تباہی یا کوئی دوسری آفت ارضی و سماوی ہے کہ عوام کو بھکمری سے بچانے کے لیے مفت غلہ فراہم کرنا ضروری ہے وہ بھی متاثر علاقوں میں نہیں بلکہ پورے ملک میں تقریباً75تا80فیصد عوام کو۔ کیا ملک کی معاشی حالت اتنی تباہ ہو چکی ہے کہ عوام کو مفت غلہ پر زندہ رکھا جا سکے ؟ایک طرف حکومت پانچ ٹریلین کی معیشت بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، دوسری طرف 80 فیصد عوام کو مفت غلہ فراہم کر رہی ہے ناطقہ سر بہ گریبان ہے اسے کیا کہئے۔حکومت کی اس دریادلی کا کوئی جواز تو ہونا چاہیے۔
اب ذرا حکومت کی اس دریا دلی کی معیشت بھی سمجھئے۔ ایک سرکاری محکمہ نیشنل سیمپل سروے تنظیم کے جائزہ کے مطابق دیہی علاقوں میں تقریباً ساڑھے گیارہ کلو اور شہری علاقوں میں تقریباً ساڑھے نو کلو اناج فی کس درکار ہوتا ہے۔ پردھان منتری غریب کلیان یوجنا جس کے تحت یہ مفت اناج دیا جا رہا ہے، اس میں فی خاندان5کلو اناج مفت دیا جائے گا جبکہ اس کی ضرورت اس کے دوگنی ہوگی۔دیہی علاقوں میں جسے ساڑھے گیارہ کلو اناج چاہیے، اسے پانچ کلو ملے گا یعنی اسے ساڑھے چھ کلو فی کس بازار سے یا سرکاری سستے غلہ کی دکان سے خریدنا ہوگا۔ہندوستان میں پانچ افراد پر مشتمل ایک خاندان سمجھا جا تا ہے۔ اس طرح ہر خاندان کو اب25-30کلو اناج بازار یا سرکاری دکان سے خریدنا ہوگا، یہاں حکومت کھیل کر گئی۔اس نے منموہن حکومت کے غذائی تحفظ قانون کو اپنی پردھان منتری غریب کلیان یوجنا میں ضم کر دیا ہے اور سرکاری سستے غلہ کی دکان پر ملنے والے اناج کا نرخ بڑھا دیا ہے۔اب ان دکانوں پر گیہوں اورچاول سابقہ نرخ سے دوگنی قیمت پر ملتا ہے۔ اس طرح25کلو اناج خریدنے پر اسے ماہانہ تقریباً 700 روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔اسے کہتے ہیں چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی ۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ عوام کی سمجھ میں حکومت کی یہ حکمت عملی آ رہی ہے یا نہیں۔
یہ درست ہے کہ حکومت نے ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ عوام کو اپنی ضرورت بھر کا غلہ کھلی مارکیٹ سے خریدنا پڑے اور اسی میں ان دھنا سیٹھوں کے وارے نیارے ہوجائیں گے جو غلہ کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور جنہوں نے مستقبل میں ہندوستان کی زراعت پر قبضہ کرنے کے لیے ابھی سے بڑے بڑے گودام تعمیر کرا رکھے ہیں۔ ہندوستانی کسانوں کو سلام کہ انہوںنے ایک زبردست تحریک چلا کر جس میں سیکڑوں کسانوں کو شہید ہونا پڑا، ہندوستانی زراعت اور غذائی تحفظ پر ایک بڑے خطرہ کو ٹال دیا لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، حکومت جس کام کا تہیہ کیے ہوئے ہے اور جس میں اس کے کرم فرماؤں کا مفاد وابستہ ہے، اسے کتنے دنوں تک کسان اپنی طاقت سے روکے رکھ سکیںگے۔ یہ مفت غلہ ایک طرح سے پرانی کہاوت کی صداقت ثابت کر رہا ہے کہ بوٹی دے کر بکرا ہتھیا لیا جائے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]