غزل : جشن سالِ نو

0

عالیہ
اسسٹنٹ پروفیسر ذاکر حسین کالج، دہلی

پھر سے دی دستک نئے سال نے
گرمجوشی سے اپنے وجود کا احساس دلاتا ہوا
داخل ہو رہا ہے ہمارے شب وروز میں
روحِ انساں میں امنگِ نو کی اٹھی ہے لہر
فکرِ آدم نے تخلیق کئے نئے منصوبے
کو بہ کو روشن ہوئیں شمعِ نو
عاشقان خوش خیال
معشوقان خوش خرام کے ساتھ
سالِ نو منانے چلے
نئی فضا ہے، نیا سماہے، سب کچھ نیا نیا سا
شروع ہو چلا ہے مبارکبادوں کا سلسلہ
تا حد نظر خوش لباس بے فکروں کا اژدہام
جگمگاتی راتوں کے درمیاں
مگر ، اْس طرف سڑک کے کنارے
نیم برہنہ زن
ننھے بچے کو بغل میں دبائے
اوس کی چادر کے نیچے
جھریوں بھرے سیاہ ہاتھ گرم کرتے ہوئے
منتظر ہے، صبحِ نو کی