اترپردیش میں امن و امان

0

اترپردیش میں امن و اما ن اور نظم و نسق کی صورتحال کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ یوگی جی کا یہ ’ رام راجیہ ‘ جرائم کے مختلف معاملات کی وجہ سے ہمیشہ ہی سرخیوں میں رہاہے ۔ گزشتہ دو برسوں سے سنگین جرائم کے معاملات میں تو اس نے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی )کی حالیہ دنوں آنے والی رپورٹ میں بھی کئی چشم کشاحقائق بیان کیے گئے ہیں۔لیکن وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس سے انکاری ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت میں ’غنڈہ راج ‘ ختم ہوگیا ہے۔
لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اترپردیش میں نہ صرف غنڈے، موالی اور شرپسند آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ پولیس افسران بھی غنڈہ گردی کی نئی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں۔گورکھپور کے ایک ہوٹل میں کانپور کے تاجر کے ساتھ پولیس کی بربریت بھی اسی غنڈہ گردی کی بدترین مثال ہے ۔کانپور سے تعلق رکھنے والا منیش گپتا نامی ایک تاجر اپنے چند دوستوں کے ساتھ گورکھپور کے ایک ہوٹل میں مقیم تھا، جہاں پولیس پیر کی رات اس کے کمرے کی تلاشی لینے آئی۔اس تلاشی کے دوران پولیس افسران نے منیش شکلا کے ساتھ جو سلوک کیا اس کا نتیجہ تاجر منیش شکلا کی موت کی صورت میں نکلا ۔گھر والوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے تلاشی کے نا م پر منیش کی اتنی پٹائی کی کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں منیش کے جسم پر زخموں کے نشانات ملے ہیں اور ڈاکٹروں نے موت کی وجہ بھی پٹائی ہی بتائی ۔ لیکن جب منیش کی بیوی نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرانا چاہاتو پولیس نے اس میں رکاوٹ ڈالی ۔اس پورے واقعہ کے سلسلے میں منیش کی بیوی کا ویڈیو جب وائرل ہوا تو اپوزیشن نے حکومت پر تنقید شروع کردی۔ بہوجن سماج پارٹی نے اس واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا، کانگریس کی یوپی انچارج پرینکا گاندھی نے منیش کے اہل خانہ سے بات چیت کی، معاملہ طول پکڑتا دیکھ کر حکومت کو بھی مداخلت کرنی پڑی ۔ دیر سے ہی سہی لیکن وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ منیش کے گھر پہنچے اور اس کی اہلیہ کو سرکاری نوکری و معاوضہ دینے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد پولیس بھی سرگرم ہوئی اور ایف آئی آر درج کرتے ہوئے 6پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیاگیا ہے ۔
لیکن اس واقعہ نے اترپردیش میں عام آدمی کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوال کھڑے کردیے ہیں ۔ابھی دو تین ہفتے قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے علی گڑھ میں یوگی جی کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا کہ اترپردیش میں پہلے غنڈے اور مافیا راج کرتے تھے لیکن اب اترپردیش میں کوئی مجرم جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے ۔این آ ر سی بی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اترپردیش میں2019کے مقابلے میں 2020 میں زیادہ جرائم کے معاملا ت درج کیے گئے ہیں۔2019کے مقابلے 2020 میں پورے ملک میں اغوا کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن اکیلے اترپردیش میںاغوا کے 12913 معاملات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس پر سے عوام کا اعتماد ختم ہورہاہے ۔ جرائم کے معاملات میں ایف آئی آر تک درج نہیں کی جارہی ہے ۔ گزشتہ سال ستمبر کے ہی مہینہ میں ہاتھرس کی دلت بچی کی آبروریزی کا کریہہ واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔ آبروریزی کے بعد نہ صرف اس مظلوم بچی کا قتل کردیاگیا بلکہ اس کی لاش کو راتوں رات جلاکر ثبوت بھی مٹانے کی کوشش کی گئی اور یہ سب پولیس کی نگرانی اور سرپرستی میں ہوا۔مجرمانہ معاملات کو مذہبی رنگ دے کر اس کے سیاسی استعمال کے بھی سیکڑوں واقعات سامنے آچکے ہیں ۔ قا نون کی حکمرانی قائم کرنے کے بجائے پولیس انکائونٹر کو فروغ دیا جارہاہے ۔ بدنام زمانہ وکاس دوبے واقعہ اس کی مثال ہے۔
شرپسندوں کی سیاسی سرپرستی کے معاملے میں بھی اترپردیش ریکارڈ بنارہاہے ۔ مجرموں کو پکڑنے کیلئے دوسری ریاستوں سے جانے والی پولیس فورس پر حملہ جیسے واقعات بھی اسی اترپردیش میں ہورہے ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کوقتل کی دھمکی دینے والے شرپسند کی گرفتاری کیلئے مغربی بنگال سی آئی ڈی کی ٹیم حال ہی میں علی گڑھ گئی تھی جس پر یوپی پولیس کی موجودگی میں شرپسندوں نے حملہ کیا اور بنگال کی پولیس و سی آئی ڈی ٹیم کو تشدد کا نشانہ بنایا۔اس سے پہلے عدالت نے ملزم یوگیش کے خلاف وارنٹ بھی جاری کیالیکن یو پی پولیس نے اس وارنٹ کی تعمیل تک نہیں کی ۔یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ ملزموں کو مکمل سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔
اترپردیش میں بھارتیہ جنتاپارٹی نے ’ رام راجیہ ‘لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج ساڑھے چار برس گزرچکے ہیں، بی جے پی کا یہ وعدہ کہیں پورا ہوتا نظرنہیں آرہاہے۔ ریاست میں نہ تو ’ رام راجیہ‘ قائم ہوا ہے اور نہ ہی جرائم کے معاملات میں کوئی کمی آئی ہے۔ چند مہینوں بعد پھر اسمبلی انتخاب ہونے ہیں جس کیلئے بی جے پی پھر رام راجیہ لانے اور غنڈہ راج ختم کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ بہترہوتا کہ نئے وعدے کرنے سے قبل بی جے پی اپنے پرانے وعدوں پر بھی ایک نظر ڈال دیتی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS