امریکہ بند کرے گا گوانتا نامو حراستی مرکز

بائیڈن انتظامیہ نے امریکی فوجی جیل کے مستقبل کے بارے میں باضابطہ طور پر جائزہ لینے کا آغاز کیا

0
Activists wearing prison jumpsuits and black hoods participate in a demonstration against the Guantanamo Bay detention camp, opened 18 years ago, and calling for its closure and "accountability for torture", near the White House, in Washington, U.S., January 11, 2020. REUTERS/Mike Theiler

واشنگٹن( ایجنسیاں)
وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن گوانتانامو جیل بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی مدت صدارت کے اختتام پر اس جیل کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ جیل کو بند کرنے سے متعلق ٹائم ٹیبل کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں جین ساکی نے کہا ہم یقینا ایسا کرنا چاہتے ہیں ہم اسے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے متنازع جیل کو بند کرنے اور گوانتانامو بے میں امریکی فوجی جیل کے مستقبل کے بارے میں باضابطہ طور پر جائزہ لینے کا آغاز کیا ہے۔ آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں اس جیل کو بند کرنے کے لیے ایگزیکٹو طریقہ کار پرعمل درآمد کیا جائے گا۔ قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے کہا کہ ہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کونسل کے عمل کو لاگو کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گوانتا نامو جیل کو بند کرنے کا فیصلہ ہمیں سابقہ انتظامیہ سے ورثے میں ملا ہے۔ یہ جیل 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن پر حملوں کے بعد قائم کی گئی تھی۔ امریکہ نے نائن الیون حملوں میں ملوث دہشت گردوںکو گرفتار کرنے کے بعد گوانتا نامو جیلوں میں لے جایا گیا۔ گوانتا نامو جیل کے قیام اور اس میں قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے امریکی حکومتوں کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ سابق امریکی صدر براک اوبامہ نے اس جیل کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا مگر انتظامی مشکلات کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے جب کہ ٹرمپ نے اس بدنام زمانہ قید خانے کو بند کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS