مڈل اسکول کی سطح پر زراعتی تعلیم کا آغاز ہونا چاہئے: مودی

0

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے مڈل اسکول کی سطح پر زراعتی تعلیم کی شروعات پر زور دیتے ہوئے ہفتہ کے روز کہا کہ اس سے بچوں میں کاشتکاری کے بارے میں سائنسی فہم کو وسعت ملے گی اور زراعت سے متعلق کاروبارکی ترقی ہوگی۔
نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بندیل کھنڈ میں واقع رانی لکشمی بائی سنٹرل زراعتی یونیورسٹی،جھانسی کی تعلیمی اورانتظامی عمارت کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مڈل اسکول کی سطح پر زراعتی تعلیم کے آغازہونے سے بچوں میں زراعت کی سائنسی سوچ میں اضافہ ہوگا اور ان کے خاندانوں کو زراعت سے متعلق کاروبار کی معلومات بھی دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں بہت ساری تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق کے ساتھ  زراعت کا براہ راست رشتہ ہے اور زراعت کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے کیلئے مستقل کوششیں کی جارہی ہیں۔ زراعتی یونیورسٹیاں اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نوجوان سائنسدانوں کو زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے پوری لگن سے کام کرنا چاہئے۔
مودی نے کسانوں کو کاروباری بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے روزگار اور خود کا روزگار ملے گا۔ کسانوں کو صنعت کی طرح بندھنوں سے آزاد کرنے کے لئے حکومت نے زراعت کے میدان میں تاریخی اصلاحات کی ہیں۔ منڈی اور اشیائے ضروریہ کے قوانین میں اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ کسان اپنی پیداوار کہیں بھی بیچ سکے۔
مودی نے کہا کہ گاؤں کے قریب انڈسٹری کلسٹر کی تعمیر کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپے کا انفراسٹرکچر فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ کسان کی پیداواری تنظیمیں اب اسٹوریج سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور فوڈ پروسیسنگ یونٹ بناسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ملک میں صرف ایک زراعتی تحقیقاتی ادارہ تھا، لیکن اب اس طرح کے تین دیگر انسٹی ٹیوٹ قائم ہوچکے ہیں۔ ان اداروں میں سے ایک جھارکھنڈ اور دوسرا آسام میں ہے۔ مربوط زراعت کے لئے بہار کے موتیہاری میں ایک انسٹی ٹیوٹ قائم کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے اس بار ملک کی متعدد ریاستوں میں ٹڈیوں کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بندیل کھنڈ کے علاقے میں 30 سال بعد ہوا تھا لیکن اس سے سائنسی طریقے سے جنگی بنیادوں پر نمٹا گیا تھا جس سے کاشتکاروں کی فصلوں کو بہت کم نقصان پہنچا تھا۔
مودی نے بندیل کھنڈ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے سیکڑوں تالاب بنائے گئے ہیں اور ہر گھر نل یوجنا پر تیزی سے کام جاری ہے۔
وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے ریاستوں کے اشتراک سے بہترڈھنگ سے  کام کیا جارہا ہے۔ کورونا بحران کے باوجود  ربیع کی فصلوں کی اچھی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS