یونیفارم سول کوڈ

0

اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات سے قبل جیتنے کیلئے جو حربہ وہاں کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اختیارکیا تھا، وہی اب گجرات اسمبلی انتخابات میں بھوپیندر بھائی پٹیل آزمانے جارہے ہیں۔ اتراکھنڈ میں بھی عین انتخابات کے وقت وہاں کے وزیر اعلیٰ دھامی نے اچانک اعلان کردیا کہ اگلی بار اقتدار میں آئیں گے تو ریاست میں یونیفارم سول کوڈ نافذ کریں گے۔ انہوں نے صرف اعلان کیا تھا، اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد کابینہ کی پہلی میٹنگ میں اس کی تجویز کو منظوری دی تھی ۔ اب اتراکھنڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکومت گجرات نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کیلئے ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں ایک پینل تشکیل دینے کی تجویز کو منظوری دی ہے۔ اس کا بی جے پی کو کتنا فائدہ پہنچے گا ، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اتراکھنڈ میںپارٹی نے اسے الیکشن میں خوب اچھالا اوراس کا فائدہ بھی اسے پہنچا تھا،کئی اسمبلی حلقوں میں ووٹوں کا پولرائزیشن ہوا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ 1995سے پارٹی ہر الیکشن میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کامسئلہ اٹھاتی رہی ہے، لیکن یہ صرف انتخابی منشور اورجلسوں وریلیوں تک محدود رہا۔ اب عملی طور پر اس کی طرف باقاعدہ قدم بڑھاناشروع کیا ہے۔ کابینہ میں تجویز کو منظوری دی جارہی ہے اورکمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔ ویسے گجرات میں اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی 3بار واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں رہے، ان کے بعد آنندی بین اور وجے روپانی نے بھی اقتدار سنبھالا لیکن حکومت کی سطح پر یہ مسئلہ کبھی زیر بحث نہیں آیا۔ اب اچانک کیا ضرورت پیش آگئی کہ پارٹی نے ٹھیک اسمبلی انتخابات کے اعلان اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے قبل یونیفارم سول کوڈکے ایشو کو گرم کرنے کی کوشش کی ہے ۔
اتراکھنڈ میں جن سیاسی حالات میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے ،گجرات میں بھی کم وبیش ویسے ہی ہیں ۔ دونوں میں بہت کچھ یکسانیت پائی جاتی ہے ۔اتراکھنڈ میں ایسے حالات میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے، جب وہاں5برسوں کے اندر 3باروزیراعلی کو تبدیل کیا گیا ۔سب سے پہلے ترویندرسنگھ راوت وزیراعلیٰ بنائے گئے، ان کے بعدتیرتھ سنگھ راوت اورسب سے آخر میں انتخابات سے تقریباً 4ماہ قبل پشکر سنگھ دھامی کو اقتدارسونپا گیا ۔کچھ ایساہی حال گجرات کا ہے ۔وہاں اسمبلی کی موجودہ میعاد میں پونے 4سال وجے روپانی نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اورساڑھے 13مہینوں سے بھوپیندرپٹیل کی قیادت میں حکومت چل رہی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ کسی بھی ریاست میں وزیراعلی کی تبدیلی 2ہی صورتوں میں کی جاتی ہے۔ ایک اس سے پارٹی میں ناراضگی اورگروپ بندی بڑھ رہی ہو ۔دوسری صورت یہ ہے کہ لوگ سرکار سے خوش نہیں ہوں اورحکومت مخالف لہر چل رہی ہو۔ اتراکھنڈ میں جو حالات تھے ، نہ وہ کسی سے مخفی ہیں اور نہ گجرات کے حالات۔ ایسی صورت میں سیاسی پارٹیاں 2طریقوں سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ،یاتو وہ مفت اسکیموں کے اعلان سے لوگوں کو خوش کرتی ہیں یا جذباتی ایشوز کی سیاست کرتی ہیں ۔تجربہ بتاتا ہے کہ یہ حربہ ہر دور میں اورہر الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے ۔یونیفارم سول کوڈ کا ایشو بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے جو الیکشن کے وقت زیربحث آتا ہے ۔شاید اسی لئے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے اس پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ حقیقت میں یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ریاستی سطح پر کیوں، قومی سطح پر کیوں نہیں کرتے ؟ کیاوہ اس کیلئے لوک سبھا انتخابات کا انتظار کررہے ہیں ؟
رہی بات یونیفارم سول کوڈ کی تو مطلق اس کی باتیں خوب کی جاتی ہیں ،لیکن اب تک ایسا کوئی خاکہ کسی کے پاس نہیں ہے،جسے وہ ملک کے سامنے پیش کرسکے۔ گوا میں جو یونیفارم سول کوڈ نافذ ہے ،وہ وہاں کے حالات کے لحاظ سے ہے اور وہ فارمولہ پورے ملک میںنہیں چل سکتا،لیکن جس طرح ایک ریاست سے دوسری ریاست میں ا س کی طرف قدم بڑھایا جارہا ہے ، کوئی بعید نہیں 2024 کے عام انتخابات کے اعلان سے پہلے قومی سطح پر کوئی قدم اٹھادیا جائے۔ بہرحال اتراکھنڈ سرکار نے یونیفارم سول کوڈ کے تعلق سے کوئی وضاحت نہیں کی تھی لیکن گجرات سرکار نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ آئین کے تحت جن بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے ، ان کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اورہندو میرج ایکٹ اور مسلم پرسنل لاکااحاطہ یونیفارم سول کوڈ کے تحت کیا جائے گا ۔اگر ایسا کیاجاتا ہے تو لوگوں کی بے چینی کچھ کم ہوسکتی ہے ۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS