چین کے صدر شی جن پنگ بنے مزید طاقتور

0

محمد عباس دھالیوال

دنیا کے بعض دیشوں کے رہنما ایسے ہیں جن کا انتخاب نہ صرف اس ملک کو بلکہ عالمی برادری کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان کے انتخاب سے دنیا کے مختلف ممالک کی پالیسیوں پہ گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ ان رہنماؤں میں امریکہ، روس، چین اور ہندوستان کے رہنماؤں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔
ابھی حال ہی میں جیسے کہ ہم نے دیکھا کہ چین کے صدر شی جن پنگ ایک بار پھر سے صدر کے طور پر منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اب ان کی طاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ گزشتہ اتوار کو جس طرح سے انہیں روایات کے بر عکس حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کے طور پر مزید ایک مدت کے لیے نامزد کیا گیا میرے خیال میں اس کی اس سے قبل مثال نہیں ملتی۔ دراصل صدر شی جن پنگ کی اس کامیابی نے ان کے حامیوں کو بھی مزید طاقت ور بنا دیا ہے جو کہ چین میں معاشرے کو کنٹرول اور معیشت کی ترقی کے شی جن پنگ کے وژن کی حمایت کرتے ہیں۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ شی جن پنگ نے پہلی بار 2012 میں کامیاب ہو کر اقتدار سنبھالا تھا۔ انہیں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے طور پر تیسری بار پانچ سال کی مدت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ شی جن پنگ کی نامزدگی سے پارٹی کی اس روایت کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے، جس کے مطابق ان کے پیش رو 10 برس بعد رخصت ہو جاتے تھے۔
دریں اثناء کچھ لوگوں نے اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا ہے کہ 69 سالہ رہنما تاحیات اقتدار میں رہنے کی کوشش کریں گے۔ ہفتے کو شی جن پنگ کے پیش رو 79 سالہ ہو جن تاؤ کو بعض افراد بازو تھامے پارٹی کے مرکزی اجلاس سے اچانک لے گئے جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا تھا کہ آیا شی جن پنگ پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو نکال کر اپنے اختیارات میں اضافہ کر رہے ہیں،لیکن بعد ازاں چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ہو جن تاؤ کی صحت خراب ہے اور انہیں آرام کی ضرورت ہے۔ جبکہ اس سے قبل چین کے نمبر دو رہنما اور وزیراعظم لی کی چیانگ کو قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا ان کو کاروباری اصلاحات اور نجی کاروبار کے فروغ کا حامی سمجھا جاتا تھا۔ لی کی چیانگ کو ہٹائے جانے کے بعد سات اراکین پر مشتمل کمیونسٹ پارٹی کی طاقت ور پولیٹ بیور یا قائمہ کمیٹی تشکیل دی گئی ، جس پر شی جن پنگ کے قریبی ساتھیوں کا غلبہ ہے۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ لی کی چیانگ کی عمر پارٹی کے غیر رسمی رٹائرمنٹ کی عمر 68 سال سے ایک سال کم تھی البتہ اس کے باوجود انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ادھر ماہرین کا خیال ہے کہ چین میں قیادت کی تبدیلیوں کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب پارٹی نے 10 برس میں دو بار کانگریس کا اجلاس کیا۔ حالیہ عرصے میں چین کو کورونا وبا کی وجہ سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے شہر بند ہو ئے اور کاروبار متاثر ہوا۔ جبکہ مبصرین کے مطابق حالیہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ شی جن پنگ قابلیت سے زیادہ وفا داری پر یقین کرتے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے چین کے سب سے طاقتور رہنما شی جن پنگ کی جانب سے خود کو کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کے طور پر ایک اور مدت دیے جانے کے بعد ، تجارت، سلامتی اور انسانی حقوق پر چین کو دنیا کے ساتھ مزید کشیدگی کے امکانات کا سامنا ہے۔
شی نے اندرون ملک کنٹرول کو سخت کر دیا ہے اور وہ بیرون ملک ،چین کا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے چین کی اقتصادی طاقت کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں واشنگٹن نے بیجنگ پر امریکی اتحاد، عالمی سلامتی اور اقتصادی قوانین کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ شی کی حکومت، انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی تعریف کو تبدیل کر کے اپنی خلاف ورزیوں پر تنقید کا رخ موڑنا چاہتی ہے۔
ادھر اس بابت لندن اسکول آف اکنامکس کے ولیم کالہان کا ڑی کا کہنا ہے کہ ’عالمی نظام ٹوٹ چکا ہے اور چین کے پاس جواب موجود ہے۔‘ بقول ان کے ’ شی جن پنگ روز بروز، چین کے اسٹائل کے ، عالمی نظام کے ایک آفاقی ماڈل کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو سرد جنگ کی طرح کے تنازعات کی طرف واپس لے جاتا ہے۔
شی نے ٹیکنالوجی میں مزید خود انحصاری، تیز تر فوجی ترقی اور بیرون ملک بیجنگ کے ’بنیادی مفادات‘ کے تحفظ کی اپیل کی۔ تاہم انہوں نے ایسی پالیسیوں میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا جس کے نتیجے میں، بیجنگ کے، واشنگٹن اور اپنے ایشیائی پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔
اس موقع پر شی نے 1949 کے انقلاب کے بعد کے زمانے کو ایک سنہری دورسے تعبیر کر تے ہوئے، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی رہنما کی حیثیت سے کمیونسٹ پارٹی کے کردار کو بحال کرکے، اس پرمبنی ’چینی قوم کی عظیم تجدید‘ کی اپیل کی۔
ادھر ایشیا سوسائٹی کے صدر اور سابق آسٹریلوی وزیر اعظم کیون رڈ نے ’فارن افیئرز‘ میں لکھا ہے کہ ’شی کی جانب سے مارکسسٹ-لیننسٹ آرتھوڈوکس کو اپنانا اس طرح کی کسی بھی خوش فہمی کو ختم کر دینا ہے کہ شی کا چین پرامن طریقے سے اپنی سیاست اور معیشت کولبرل انداز میں استوار کر سکتا ہے۔‘
ادھر شی جن پنگ کی قیادت کے حوالے سے معروف تجزیہ کار کالہان کا کہنا ہے کہ اس حکومت کا ’سوشل کریڈٹ‘نامی اقدام، افراد کا سراغ لگا کر انہیں فراڈ سے لے کر کوڑا کرکٹ پھیلانے تک جیسی خلاف ورزیوں پر سزائیں دیتا ہے۔ کالہان مزید کہتے ہیں کہ ’زیرو کووڈ‘ایپ جو اسمارٹ فون ایپس استعمال کرنے والے افراد کو ٹریک کرتی ہے، لاکھوں افراد کو ان کے گھروں تک محدود کر دیتی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ شی جن پنگ چینی معاشرے کو کس انداز میں کام کرتا دیکھنا چاہتے ہیں،’جو بہت زیادہ آمرانہ اور بعض اوقات مطلق العنانیت کے زمرے میں آتا ہے۔‘
[email protected]