اترپردش میں درخت سے لٹکی ملی دو نابالغ لڑکیوں کی لاشیں، سنجے سمیت تین گرفتار

0

نئی دہلی: اترپردیش کے گھاٹم پور علاقے کے ایک گاؤں میں اینٹوں کے بھٹے کے قریب ایک کھیت میں دو لڑکیوں کی لاشیں درخت سے لٹکی ہوئی ملی ہیں۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ان نابالغوں کے ساتھ چند روز قبل عصمت دری کی گئی تھی۔ یہ لڑکیاں اینٹوں کے اس بھٹے میں کام کرتی تھیں۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (لا اینڈ آرڈر) ہریش چندرا نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ 16 اور 14 سال کی لڑکیوں کے ساتھ کچھ دن پہلے ٹھیکیدار رامروپ نشاد، اس کے بیٹے اور بھتیجے نے اجتماعی عصمت دری کی تھی اور ملزمان نے ان کی عصمت دری کی۔ بلیک میلنگ کے لیے ویڈیو بھی بنائی گئی جس کی وجہ سے ان لڑکیوں نے بدھ کے روز یہ سخت قدم اٹھایا اور درخت سے لٹک کر خود کشی کر لی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے ٹھیکیدار رام روپ نشاد (48)، اس کے بیٹے راجو (18) اور بھتیجے سنجے (19) کو گرفتار کیا ہے۔ تینوں ہمیر پور ضلع کے رہنے والے ہیں۔ چندرا نے کہا، ’’ہم نے گرفتار افراد کے موبائل فون سے ان لڑکیوں کی ویڈیوز اور تصاویر برآمد کی ہیں اور یہ موبائل فون فارنسک ماہرین کو بھیجے جائیں گے۔ ان ملزمان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 376D (گینگ ریپ)، 306 (خودکشی کے لیے اکسانا) اور POCSO کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: رام رحیم کو پیرول دینے سے پہلے ہم سے اجازت لیں، ہائی کورٹ کا ہریانہ حکومت کو حکم

انہوں نے بتایا کہ دونوں نابالغ لڑکیاں بدھ کی شام لاپتہ ہو گئی تھیں اور کئی گھنٹوں کے بعد ان کی لاشیں درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئیں۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ موت کی وجہ اور گینگ ریپ کے الزامات کی حقیقت معلوم ہو سکے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS