ہندوستان میں مسلمانوں کی فلاح وبہبود کی چند تجاویز: ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

0

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
مسلمانوں میں چھوٹی چھوٹی قیادتیں تو بہت ہیں جو اس طوفان بلا میں ملت کے شامیانے کا الگ الگ بانس بلا پکڑ کر تھامے ہوئے ہیں اور اس کو زمین پرگرنے سے روکے ہوئے ہیں۔۔ملت مسلمہ ایک بڑی جاندار قوم ہے۔ اندر سے اس کا حو صلہ بہت بلند ہے۔ یہ صحیح معنوں میں ناقابلِ تسخیر قوم ہے جس کو پوری طرح مغلوب نہیں کیا جاسکتاہے۔ اس کے اندر قدرت نے ایسی روح حریت بھر دی ہے جو اسے سارے بندھن توڑ کر آزاد ہونے کو مجبور کرتی ہے۔وہ شکست وفتح سے گھبراتی نہیں ہے بلکہ اس کو کھیل کا فطری اصول مانتی ہے۔اگر آج ہم ہارے ہیں تو کل جیتیں گے۔ یہ دل برداشتہ ہو کر میدان چھوڑ کر بھاگنے میں یقین نہیں رکھتی ہے بلکہ کھیل کو جاری رکھنے میں یقین رکھتی ہے۔ یہ قدرت کے اس اصول کو مانتی ہے کہ جس کی تیاری بہتر ہوگی، جس نے جتنی اچھی تربیت حاصل کی ہوگی، جس کے اندر سمع وا طاعت کا جذبہ جتنا مضبوط ہوگا کامیابی کے امکان اس کے لیے اتنے ہی روشن ہوںگے۔ قدرت اور فطرت کسی کی طرفدار یا جانبدار نہیں ہوتی۔
مسلمان کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ: خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی۔ان کا حال یہ ہے کہ جب وہ سخت آزمائشی حالات دیکھتے ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ سچا ہے یہی تو بات تھی جس کی ہمیں پہلے ہی خبر دے دی گئی تھی اور ان حالات میں گھبرا نے کے بجائے ان پر سکینت کی کیفیت طاری ہوتی ہے پھر وہ ہر آز مایش اور مصیبت کا مقابلہ پورے صبر اور توکل الی اللہ کے ساتھ کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کی طرف جانے والے ہیں اور اپنے معاملات کو اللہ کے حوالے کر کے بز بان حال وہ اعلان کرتے ہیں کہ حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر۔ اس کی فطرت ایسی ہے اس کو جتنا دبا یا جائے گا اتنی ہی قوت سے یہ ابھرے گی۔لہٰذا میں موجود ہ حالات کو ملت کی زبوں حالی نہیں بلکہ ملت کی نشاہ ثانیہ کی علامت مانتا ہوں۔
روحانیت ہوا میں اڑنے کا نام نہیں ہے یہ تو جادوگر ی ہے جو روزانہ جادو گر دکھاتا ہے اور اپنے فن کے داد کے طور پر عوام سے نذرانے وصول کرتا ہے۔ ہمارے ایک دوست ہیں جو اس بات سے پریشان رہتے ہیں کہ ہندوستان میں کوئی صاحب بھی مجیب الدعو ات بزرگ نہیں ہیں جس کی دعا سے ہوا کا رخ بدل جائے۔ اس پر ہمارے بزرگان دین ہی تبصرہ فرمائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
اسلام کی روح اجتما عیت ہے، جس میں خلق، تقویٰ ،انسان دوستی، خدمت، خیر خواہی اور رحمت و رافت کے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ہوا میں اڑنے کو نہیں بلکہ زمیں پر انسان کی طرح چلنا آجائے یہ تقویٰ کی پہچان ہے۔ہمیں سچی رو حا نیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور ایسی موہوم آرزوؤں سے باہر نکلنا چاہیے۔
اسلام دنیا میں ایمان کے ساتھ یعنی اللہ کے احکام کے مطابق اسٹیٹ آف دی آرٹ کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے۔ جو انسان کو ماضی میں نہیں بلکہ حال میں جینے کا سبق دیتا ہے اور مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پر امید رہنے کی تلقین کرتاہے۔
ملک کے حالات سب پر واضح ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ڈرامہ بازیاں سب دیکھ رہے ہیں۔ اس حال میں موہوم آرزوؤں کے سہارے جینا، پر لے درجے کی حماقت ہے۔عملاً بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے۔دستور کی روح نکل چکی ہے۔ کسی دن بھی اس کے کلینکل ڈیڈ ہونے کی اوپچارک گھو شنا ہو سکتی ہے۔ممکن ہے 2024کے الیکشن کے بعد اس کا اعلان کردیا جائے اور اگر مصلحتاً ایسا اعلان نہیں بھی ہوتاہے تو بھی اس کا حقیقی صورتحال پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔یہ صورتحال ابھی برقرار رہے گی۔ اس لیے مختلف طرح کی آزمائشوں کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار رہنا ہے۔ اس انتباہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں آپ کو ڈ ر ا رہا ہوں۔ڈ ر کو تو آپ تین طلاق دے کر دل سے باہر نکال دیجیے اور اس کی جگہ پر تقویٰ اور تو کل الی اللہ کو پورے ایمان اور اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں جاگزیں کر لیجیے۔
میں بار بار ملت کی توجہ ان پہلوؤں کی طرف مبذول کراتا رہا ہوں جس کے بارے میں میرا احساس ہے کہ وہ ملت کی نشاۃِثانیہ میں مددگار ہوگا۔
ہر ماں باپ اپنے گھر پر توجہ دیں اور اپنے بچوں کے ایمان، اخلاق،صحت اور تعلیم پر بھر پور توجہ دیں۔یہ ہماری مدافعت کی پہلی صف ہوگی۔ یہ صف جتنی مضبوط ہو گی ملت اتنی ہی مضبوط ہو گی۔
گھر سے لے کر باہر تک جتنا ممکن ہو سکے امداد باہمی کو فروغ دیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس کو اوپر اٹھانے کی کوشش کریں۔
ذاتی اغراض کی قر بانی اتحاد ملت کی اولین شرط ہے۔ گا ؤں،محلہ، وارڈ، پنچایت کی سطح پر اتحاد ملت کو فروغ دیں اور جو لوگ ملت میں پھوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کو ایکسپوز کریں اور انہیں ملت کو توڑنے اور بانٹنے نہ دیں۔یہ وقت ذات پات اور مسلک برادری کی بنیاد پر آپس میں انتشار پیدا کرنے کا نہیں ہے۔آپ اپنے حقوق کی لڑائی ضرور لڑیں لیکن یہ خیال رہے کہ حد سے تجاوز کر کے ہم اسلام اور مسلمان دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا آلۂ کار نہ بن جائیں۔یہ گھاٹے کا سودا ہے اور ہمیں اتنی سمجھ تو ہونی ہی چاہیے ۔
جو چیز ہمیں ایک بندھن میں پروتی ہے وہ ہمارا ایمان اور اسلام ہے۔اس کو توڑ کر، چھوڑ کر اور اس کو بکھیر کر کوئی بھی چیز حاصل کی جائے گی وہ نقصان کا سودا ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
ہم خیر امت ہیں۔ہم دنیا والو ں کی بھلائی کے لئے پیدا کیے گئے ہیں۔ ہم کو اس ملک میں سرا پا خیر بن کر رہنا ہے اس سا یہ دار اور پھل دار درخت کی طرح اگر کوئی چاہے تو اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں پناہ لے لے اور کوئی چاہے تو پتھر مار کر پھل توڑ لے۔ جو بھی ہماری پناہ میں آئے وہ خود کو پوری طرح محفوظ سمجھے چاہے وہ ہمارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔
اب جبکہ مسلمانوں نے جہاد ترک کر دیا ہے۔مسلمانوں کو میڈیا میں دہشت گرد اور جہادی کہہ کر پکارا جا رہا ہے اور ان کے خلاف پر تشدد ماحول بنا یا جا رہا ہے اور ان کو کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اس ماحول میں حضورؐ نے جو مسلمان کی تعریف بیان کی ہے اس کو یاد کرا نا ضروری معلوم ہوتاہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے سب محفوظ رہیں۔ گویا مسلمان کا وجود کسی بستی اور شہر میں امن کی علامت ہے۔اگر کسی علاقہ میں مسلمان تعداد میں زیادہ ہیں تو وہاں رہنے والے جتنے لوگ ہیں چاہے وہ کسی مذہب، برادری، ذات کے لوگ ہوں، عورت، بچے، بوڑھے اور جوان ہوں سب محفوظ ہیں۔ اس بات کا یقین پوری آبادی کو ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی یہ شبیہ لوگوں کے سامنے پیش کرنی ہوگی اور ان کو یہ اطمینان دلانا ہوگااور جہاں مسلمان کم تعداد میں ہیں وہاں بھی اپنے اس کردار کے ساتھ امن پسند لوگوں کے ساتھ مل کرپروایکٹو ہوکر اپنا مثبت تعارف کرانا ہوگا اور ان طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوںگے۔ (جاری)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS