صدرجمہوریہ کے احساسات

0
compstudio.in

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہاہے کہ ایساکہا جاتا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی بھیڑ بڑھ رہی ہے اورمزید جیلیں بنانے کی ضرورت ہے، یہ کیساوکاس یا ترقی ہے؟ہم مزید جیلوں کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ جیل تو بند ہونا چاہئے ،ہمیں ان کی تعداد کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان غریبوں کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ، جو جیلوں میں ہیں، یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کون لوگ ہیں ؟انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ جیل میں بند لوگوں کے بارے میں سوچیں ،تھپڑ مارنے کے جرم میں کئی سالوں سے جیل میں بند لوگوں کے بارے میں سوچیں ،ان کو نہ تو اپنے حقوق کا پتہ ہے نہ آئین کی تمہید کا اورنہ ہی بنیادی حقوق اور فرائض کا ، ان کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا ہے ۔ان کے گھروالوں میں انہیں چھڑانے کی ہمت نہیںرہتی ، کیونکہ مقدمہ لڑنے میں ہی ان کے گھرکے برتن تک فروخت ہوجاتے ہیں ۔ دوسروں کی زندگیاں ختم کرنے والے تو باہر گھومتے ہیں ، لیکن عام آدمی معمولی جرم میں برسوں جیل میں پڑا رہتا ہے ۔ صدرجمہوریہ نے مذکورہ احساسات یوم آئین پر منعقدہ تقریب کے اختتام پر ظاہر کئے ۔اس موقع پر مرکزی وزیرقانون کرن رجیجو نے بھی اسی طرح کی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری توجہ نچلی عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہے،انہوں نے مختلف عدالتوں میں زیرالتومقدمات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں 70ہزار تو ہائیکورٹوں میں 70لاکھ اورنچلی عدالتوں میں 5کروڑ مقدمات کا انبار ہے ،جن کے تصفیہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔
ملک کے غریب اورکمزورلوگوں کی انصاف تک عدم رسائی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے ۔برابرکسی نہ کسی پہلو سے اٹھایاجاتا رہتاہے ۔معمولی معمولی جرم میں لوگ برسوں جیلوں میں رہتے ہیں۔ بہت سے زیرالتوامقدمات کے چکر میںبھی جیلوں میں پڑے رہتے ہیں ۔ صرف اس وجہ سے کہ یاتو انہیں قانون کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہوتی ۔یا گھروالوں کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں ہوتے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے وکیل کے توسط سے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ حکومت کی معافی اوررہائی کی پالیسی کے تحت بھی رہا نہیں ہوپاتے ۔ جبکہ 20-20 سال کی سزا والے قیدی پیسے خرچ کرکے ضمانت یا پیرول پر جیل سے باہر آجاتے ہیں ۔ کچھ معافی کے تحت رہا ہوجاتے ہیںاور متاثرین کوناانصافی کا احسا س دلاتے رہتے ہیں ۔شاید صدر جمہوریہ نے یہ جملہ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا ہے کہ دوسروں کی زندگیاں ختم کرنے والے تو باہر گھومتے ہیں، لیکن عام آدمی معمولی جرم میں برسوں جیل میں پڑا رہتا ہے۔غرضیکہ مصیبت میںرہتے ہیں تو صرف غریب اورکمزور لوگ ، جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔صدر جمہوریہ کی یہ بات سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ مقدمہ لڑنے میں غریبوں کے گھروں کے برتن تک فروخت ہوجاتے ہیں۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ آزاد ہندوستان میں شہریوں کو یہ دن دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ہم ہر سال 26نومبر کویوم آئین مناتے ضرورہیں ۔اوراس کیلئے باقاعدہ تقریب کا بھی انعقاد کرتے ہیں، لیکن نہ تو اپنا محاسبہ کرتے ہیں اورنہ اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آئین کے ہر لفظ پر عمل ہورہا ہے کہ نہیں ، آئین مرتب کرنے والوںنے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا ، وہ شرمندہ تعبیر ہورہا ہے کہ نہیں ۔ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہورہے ہیں کہ نہیں۔انصاف یا عدالتوں تک ہر کسی کی رسائی ہورہی ہے کہ نہیں۔ کسی کے ساتھ ناانصافی، تفریق یا جانب داری تو نہیں ہورہی ہے ۔
صدرجمہوریہ کی یہ بات غور طلب ہے کہ قیدیوں کی تعدادگنجائش سے زیادہ ہونے کی وجہ سے مزید جیلیں بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ جیلوں کو بند ہوناچاہئے اور ان کی تعداد کم کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر کون لوگ ہیں ، جو جیلوں میں بند ہیں ؟ کیا ان کی تعداد کم نہیں کی جاسکتی ؟ظاہر ہے کہ جس دن ہم اس پہلو سے سوچنا شروع کردیں گے اورقدم اٹھائیں گے ۔ موجودہ جیلوں میں ہی قیدیوں کی تعداد کم ہونے اورمزید کی گنجائش پیداہونے لگے گی ۔جیلوں کی تعداد بڑھانا مسئلہ کا حل نہیں ، بلکہ جرائم پر قابو پانے اورجیلوں کے قیام کا جو مقصد ہے ، اس کے مطابق سزایافتہ قیدیوں کا جائزہ لینے سے مسئلہ حل ہوگا ۔پھر جہاں نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک مقدمات کا انبار ہو، وہاں لوگوں کو آسانی سے انصاف کیسے مل سکتا ہے؟ جب حالات ایسے ہوں گے توہم بہتری کی امید کیسے کرسکتے ہیں ؟
[email protected]