انجینئر محمد خالد رشید علیگ: ہندوستان کی صدارت اور جی 20- کے چیلنجز

0
Nusa Dua : India's Prime Minister Narendra Modi, left, holds the gavel besides Indonesia's President Joko Widodo during the handover ceremony at the G20 Leaders' Summit, in Nusa Dua, Bali, Indonesia, Wednesday, Nov. 16, 2022.AP/PTI Photo(AP11_16_2022_000109A)

انجینئر محمد خالد رشید علیگ

جی 20- جس کا مفہوم Group of Twenty ہے یہ دنیا کے بیس ترقی یافتہ اور ان ترقی پزیر ممالک کاایک خود ساختہ گروپ ہے جن ممالک کی اقتصادی ترقی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ممالک میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کے مستقل ممبران امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس کے علاوہ ہندوستان، برازیل، جنوبی افریقہ، جاپان، جنوبی کوریا، سعودی عرب، انڈونیشیا، اٹلی، میسکو، ترکی، جاپان، آسٹریلیا، ارجنٹینا انڈونیشیا، جرمنی اور یورپین کنیشن شامل ہیں۔ اس گروپ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتاہے کہ دنیا کی GDP میں 80 فیصد حصہ اس گروپ کا ہے یعنی دنیا کی مجموعی گھریلو پیدا وار کا 80 فیصد ان 20 ممالک سے آتاہے نیز یہ کہ یہ ممالک دنیا کی 60 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا کی کل تجارت میں ان 20ممالک کا حصہ 75 فیصد ہے۔ اس گروپ کا قیام 1999 میں اس وقت عمل میں آیا جب ان ممالک کے وزرائے خزانہ اور سینٹرل بنک کے سربراہان دنیا میں اقتصادی بحران کا کوئی مستقل حل تلاش کرنے کی غرض سے جمع ہوئے تھے۔ اس کے 10سال بعد2008 سے اس گروپ کی اہمیت اور افادیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کے سربراہان کے سالانہ سربراہ اجلاس کا انعقاد عمل میں آنے لگا کچھ تجزیہ نگارجی20- کو G7 کی توسیع بھی قرار دیتے ہیں جس کا قیام 1975 میں عالمی اقتصادی بحران کا کوئی حل نکالنے کے لیے ہوا تھا۔اس گروپ میں دنیاکی 6طاقتور اقتصادی ممالک امریکہ، جاپان، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی شامل تھے۔ بعد میں کناڈا بھی اس گروپ کا ممبر بنا اور یہ گروپ G7 ہو گیا۔ ایک بار پھر 1998 میں اس کی توسیع ہوئی جب روس کو اس گروپ میں شامل کیا گیا۔ یہ گروپ اپنے آپ کو دنیامیں جمہوری اداروں کے تحفظ، جنسی برابری، اظہار خیال کی آزادی اور مساوات کا علمبردار تصور کرتا تھا۔ لہٰذا2014 میں کریمیا پہ روسی قبضہ کے نتیجہ میں روس کی ممبرشپ کو منسوخ کر دیا گیا اور ایک بار پھر یہ گروپ G8 سے G7 بن گیا کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب 1999 میں G7 کے کچھ ممالک کو یہ احساس ہوا کہ اس نظریہ کو مزید آگے بڑھائے جانے کی ضرورت ہے اور دنیا کے بڑے ممالک کو بھی اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے تو G20 کا قیام عمل میں آیا جس میں چین ہندوستان سمیت کئی اور ترقی پزیر ممالک کو شامل کرکے دنیا کے بڑے حصے کو نمائندگی فراہم کی گئی حالانکہ ابھی بھی پولینڈ اسپین، ہالینڈ جیسے ممالک اس فورم میں شمولیت کے خواہش مند ہیں جن کا دنیا کی GDP میں اہم حصہ ہے دوسری طرف کچھ عناصر کو شکایت ہے کہ افریقہ کے غریب ممالک کو نظر انداز کرنا درست نہیں وہیں کچھ ناقدین مانتے ہیں کو کہ G20 جیسے فورم اقوام متحدہ کی اہمیت اور اختیارات پر اثر انداز ہوکر اس کی افادیت کو متاثر کرتے ہیں ان کے خیال میں اس میں شک نہیں کہ G20 دنیا کو اقتصادی مندی سے نکالنے میں اہم رول ادا کر سکتا ہے لیکن یہ کام اقوام متحدہ میں سیکورٹی کاؤنسل کی طرز پر ایک اقتصادی کاؤنسل بنا کر بھی کیا جا سکتا ہے جس کے ممبران کو چننے کا اختیار اقوام متحدہ کے ممبران کو حاصل ہو کچھ تجزیہ نگاروں کی رائے میں G20 کو اپنے فیصلوں کو نافذ کرانے کے لیے اختیارات کاملنا بھی ضروری ہے۔
بہرحال 2023 میں G20 کا سربراہی اجلاس دہلی میں منعقد ہوگا اور اگلے ایک سال ہندوستان کو اس گروپ کی صدارت کا شرف بھی حاصل ہوگا۔ موجودہ حالات میں دنیا جس بحران سے گزر رہی ہے روس اور یوکرین کی جنگ اگرختم بھی ہو جائے تو بھی اس کے منفی اثرات کافی مدت تک جاری رہیں گے جس کے نتیجہ میں دنیا کو ایندھن اور خوراک سپلائی کو یقینی بنانا ہوگا جس کے لیے ترکی بحر کاہل میں ایک محفوظ راہ داری کی وکالت اسی اجلاس میں کر چکا ہے۔ عالمی اکنامی جو ابھی پوری طرح کوروناکے زخموں کو بھر نہیں پائی ہے وہ کسی جدید زخم کو نہیں جھیل پائے گی حالانکہ بالی میں امریکہ اور چین کے صدور کی طویل ملاقات ہوئی، ہو سکتاہے اس ملاقات میں لال آنکھوں کا تبادلہ بھی ہوا ہو لیکن امریکہ اور چین کے تعلقات نہایت نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں اگر یہ صورت حال مزید خراب ہوئی تو پوری دنیا کو اس کی اقتصادی قیمت چکانی پڑسکتی ہے۔ G20 کا اجلاس تو ایک معتدل قرار داد پاس کرنے میں کامیاب رہا جس نے روس کو مزید ناراضگی سے بچالیا لیکن G7 روس پہ پابندیاں لگانے کو بے چین ہے۔ ان پابندیوں کے بھی منفی اثرات مرطب ہونے کی قوی امید ہے یوروپ میں اقتصادی مندی کا دور جاری ہے جو برطانیہ سے نکل کر امریکہ پہنچناہی چاہتا ہے اس صورت حال میں G20 کے سامنے سنگین چیلنج موجود ہیں جن کے لیے کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا جو سبھی کے لیے قابل قبول ہو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بطور صدر ہندوستان کے لیے بڑا چیلنج ہوگا کہ اقتصادی مندی اور جنگ کی وجہ سے بے اعتمادی کے ماحول کے اثرات کو ختم نہیں تو کم کرنے کے لیے فضاء ہموار کی جائے۔ مودی جی گزشتہ اجلاس میں خوراک اور توانائی پہ مزید کسی قسم کی پابندی کے خطرہ کا اظہار پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اس نازک صورت حال میں G20 کس طرح اپنا کردار ادا کرے گا یہ کہنا فی الحال مشکل ہے لیکن دنیا کے پاس انڈونیشیا کے صدر کے اس نعرے پر عمل کرنے کے سواکوئی دوسرا راستہ نہیں ہے جو انہوں نے اجلاس کے اختتام پہ کہا کہ
ہم ایک ساتھ واپسی کریں گے
ہم ایک ساتھ مضبوط ہوںگے
[email protected]