ممبئی، ۸ اکتوبر: ریزرو بینک آف انڈیا نے بدھ کو اپنی اہم پالیسی شرح، ریپو ریٹ، ایک چوتھائی فیصد بڑھا کر ۵٫۵۰ فیصد کر دی۔ یہ تقریباً چار سال میں شرح بڑھانے کا پہلا فیصلہ ہے۔ مہنگائی کے بڑھتے خدشات اور مضبوط اقتصادی سرگرمی کے درمیان لیا گیا یہ قدم قرض لینے والے خاندانوں اور کاروبار کے لیے اہم ہے۔ ریپو ریٹ وہ شرح ہے جس سے بینکوں کے لیے مرکزی بینک سے رقم حاصل کرنے کی لاگت جڑی ہوتی ہے۔ اس میں تبدیلی کا اثر مختلف قرضوں تک ان کی شرائط اور بینک کے نظام کے مطابق پہنچتا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چھ رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح بڑھانے کے حق میں متفقہ فیصلہ کیا۔ مرکزی بینک نے اپنا موقف نیوٹرل سے بدل کر سوچ سمجھ کر مالی سختی بڑھانے والا رکھا ہے۔ اس سے مزید اضافے کا امکان کھلا رہتا ہے، لیکن گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ آئندہ تبدیلی کا وقت اور مقدار حقیقی مہنگائی اور ترقی کے اعداد پر منحصر ہوں گے۔ اس لیے آج کی خبر کو اگلی میٹنگ میں لازمی اضافے کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہے۔ ہر نئی میٹنگ میں معیشت کی صورت حال دیکھی جائے گی۔
مرکزی بینک نے سال کے لیے مہنگائی کا اندازہ ۵ فیصد سے بڑھا کر ۵٫۲ فیصد کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اپریل سے جون کی معاشی ترقی ۷٫۸ فیصد رہی، جو پہلے کے اندازے سے زیادہ تھی۔ ان اعداد سے پالیسی کا مشکل توازن سامنے آتا ہے: قیمتوں پر قابو پانے کے لیے قرض کی لاگت بڑھائی جا سکتی ہے، مگر اس سے کاروباری سرمایہ کاری اور گھرانوں کے خرچ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ترقی کا اچھا عدد ہر خاندان کی آمدنی میں یکساں اضافہ ثابت نہیں کرتا، جیسے مہنگائی کا مجموعی عدد ہر چیز کی قیمت نہیں بتاتا۔
بزنس اسٹینڈرڈ نے پالیسی میں سختی اور قریب کی مدت میں شرح کم ہونے کے امکان پر ماہرین کا ردعمل نقل کیا ہے۔ آئی سی آر اے کی چیف اکانومسٹ ادیتی نائر نے فیصلے کو اپنی توقع کے مطابق بتایا اور کہا کہ نئے موقف سے شرح میں کمی کے بارے میں پیغام صاف ہوتا ہے۔ یہ ماہر کی رائے ہے، مرکزی بینک کا مستقبل کے لیے پکا وعدہ نہیں۔ قرض لینے والے کے لیے اصل سوال اس کے اپنے قرض کا معیار، شرح بدلنے کی تاریخ اور بقایا مدت ہے، کیونکہ تمام معاہدے ایک ہی طرح سے نہیں چلتے۔
رائٹرز کی الگ ردعمل رپورٹ میں ماہرین نے خراب مانسون، عالمی اشیا کی بڑھتی قیمتوں اور گزشتہ سال کے مقابلے کی بنیاد جیسے عوامل کا ذکر کیا۔ بعض نے دسمبر میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا۔ یہ پیش گوئیاں ہیں اور نئی معلومات سے بدل سکتی ہیں۔ زرعی پیداوار اور توانائی کی قیمتیں مہنگائی کی بحث میں اس لیے اہم ہوتی ہیں کہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور پیداوار کی لاگت گھر کے بجٹ تک پہنچتی ہے۔ عام شہری کے لیے اس فیصلے کی اہمیت کسی مالی اصطلاح سے زیادہ ماہانہ خرچ اور قرض کی ادائیگی میں ہے۔
پس منظر کے طور پر ریپو سے جڑے فلوٹنگ شرح والے قرض پر اضافہ پہنچنے کے بعد قسط یا قرض کی مدت بدل سکتی ہے۔ لیکن اس خبر کی بنیاد پر ہر قرض کی قسط فوراً اتنی ہی بڑھ گئی، یہ کہنا غلط ہوگا۔ مقررہ شرح والے قرض کی صورت الگ ہو سکتی ہے، اور بینک کی ری سیٹ تاریخ بھی اہم ہے۔ اسی طرح جمع رقم پر منافع کی شرح بڑھنے کا امکان بینک کی الگ پالیسی پر منحصر ہے۔ خبر میں کسی خاص بینک، قرض یا بچت اسکیم کے لیے فائدہ یا نقصان کی ضمانت نہیں دی جا رہی۔
چھوٹے کاروبار کے لیے مہنگا قرض نئی مشین، اسٹاک اور روزمرہ کام کی رقم پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ خاندان کے لیے گھر یا دوسری بڑی خرید کا حساب بدل سکتا ہے۔ یہ عمومی معاشی اثرات ہیں، کسی خاص فرد کی مالی حالت کا فیصلہ نہیں۔ بدھ کے فیصلے کے بعد اہم چیز بینکوں کی حقیقی شرحوں، مہنگائی کے نئے اعداد اور مرکزی بینک کی اگلی وضاحت کو دیکھنا ہوگی۔ فی الحال واضح خبر ریپو ریٹ میں ۲۵ بیسس پوائنٹ کا اضافہ اور پالیسی کے موقف میں تبدیلی ہے؛ اس کے عملی اثرات مختلف قرضوں اور کاروبار میں آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے۔
حوالہ جات
- رائٹرز، مارکیٹ اسکرینر پر، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
- بزنس اسٹینڈرڈ، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
- رائٹرز، ماہرین کا ردعمل، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
تصویر: ریزرو بینک کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری۔






