انتخابی احتجاج کے بعد راہل اور پرینکا کے خلاف مقدمات، کانگریس کا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

0
راہل گاندھی کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ موجودہ گرفتاری یا احتجاج کی تصویر نہیں۔
راہل گاندھی کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ موجودہ گرفتاری یا احتجاج کی تصویر نہیں۔

نئی دہلی، ۸ اکتوبر: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر افراد کے خلاف کم از کم تین ایف آئی آر درج کی ہیں۔ دی پرنٹ نے ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکاری کام میں رکاوٹ اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر حملے سے متعلق الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ الزامات ہیں، جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں۔ احتجاج اور اس پر پولیس کارروائی نے انتخابی فہرستوں کے تنازع کے ساتھ جمہوری احتجاج کے طریقے کو بھی بحث میں لا دیا ہے۔

دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق بدھ کا ٹکراؤ اس وقت ہوا جب اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں ونڈسر پلیس کے قریب روکا گیا۔ پرینکا گاندھی آئین کی نقل کے ساتھ سڑک پر لیٹ گئیں، جبکہ راہل ان کے پاس کھڑے رہے۔ پولیس نے رہنماؤں کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔ بعض ویڈیو مناظر کے حوالے سے ہاتھا پائی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسے مناظر کی قانونی جانچ اور ان کا مکمل سیاق الگ اہمیت رکھتے ہیں؛ کسی مختصر ویڈیو سے پوری ذمہ داری طے نہیں ہوتی۔

راہل گاندھی نے اس سے پہلے ممکنہ مقدمات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف پہلے ہی متعدد ایف آئی آر ہیں، مگر احتجاج نہیں رکے گا۔ تازہ مقدمات کے بعد سیاسی تنازع کا رخ مزید سخت ہوا ہے۔ کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کی مانگ کر رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی جانچ میں اہل لوگوں کے نام متاثر ہوئے اور اس سے حکمران بی جے پی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ کمیشن اور حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، اس لیے انہیں ثابت شدہ انتخابی دھاندلی کے طور پر نہیں لکھا جا سکتا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی بدھ کی رپورٹ کے مطابق راہل گاندھی کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا اور بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ دوسرے اپوزیشن ارکان اور مظاہرین بھی حراست میں لیے گئے تھے۔ رپورٹ نے بتایا کہ یہ مسلسل دوسرے دن کی کارروائی تھی۔ عارضی حراست، مقدمہ درج ہونا اور عدالت سے سزا تین مختلف باتیں ہیں۔ موجودہ خبر میں ان مرحلوں کو الگ رکھنا ضروری ہے، تاکہ سیاسی کشیدگی کے دوران پڑھنے والے کو درست معلوم ہو کہ کس بات کی تصدیق ہوئی ہے اور کیا ابھی الزام یا تفتیش کا حصہ ہے۔

منگل کو شائع ہونے والے ایسوسی ایٹڈ پریس کے پس منظر کے مطابق ووٹر لسٹ کی خصوصی جانچ کے خلاف احتجاج گزشتہ ہفتے کئی جگہ پھیلا۔ اس میں طلبہ، شہری گروپ اور نوجوانوں کی کاکروچ تحریک بھی شامل ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر نام ہٹنے سے شہری ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور کمیشن کا موقف بے ضابطگی کے الزام کی تردید پر مبنی ہے۔ یہ اختلاف صرف کسی ایک سیاسی رہنما کی گرفتاری تک محدود نہیں؛ اصل بحث فہرست کی درستگی، اعتراضات کی سماعت اور اہل ووٹر کی شمولیت سے متعلق ہے۔

جمعرات کو بنگلورو میں بھی ہزاروں افراد کے احتجاج کی خبر سامنے آئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا کہ نوجوان تحریک اور طلبہ گروپوں نے وہاں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دہلی میں راہل گاندھی کی حراست کی تصاویر اس مہم میں گردش کر رہی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کئی شہروں میں اٹھ رہا ہے، لیکن ہر مقام کی تعداد، پولیس کارروائی اور مطالبات کو الگ جانچنا ضروری ہے۔ ایک شہر کی خبر کو پورے ملک کی مکمل صورت حال قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

پس منظر میں سب سے اہم عوامی سوال یہ ہے کہ ووٹر اپنے نام اور کسی اعتراض کی صورت حال کیسے جانچ سکے اور شکایت پر صاف جواب کیسے ملے۔ سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے ساتھ انتخابی ادارے کی قابل اعتماد وضاحت بھی ضروری ہے۔ دوسری طرف پرامن احتجاج اور پولیس اہلکاروں کی حفاظت دونوں کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ مقدمات کی تفتیش قانونی ذمہ داری طے کرے گی، جبکہ ووٹر لسٹ کا تنازع متعلقہ ریکارڈ، قواعد اور شکایات کی جانچ سے واضح ہوگا۔ آئندہ پیش رفت میں پولیس کی تفصیلی کارروائی، اپوزیشن کا جواب اور الیکشن کمیشن کی وضاحت اہم ہوں گے۔

حوالہ جات

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS