مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کی وفات پر جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میں تعزیتی نشست

0

میرٹھ ۸،اکتوبر (اسٹاف رپورٹر)

عالمی شہرت یافتہ ادیب و صحافی، نامور عالم دین اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے مہتمم مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال پرملال پر یہاں جامعہ اسلامیہ عربیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میں آج صبح ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں مولانا مرحوم کے محاسن و کمالات ان کی خوبیاں و خدمات وغیرہ کے تذکرہ کے ساتھ ہی مرحوم کے لیے ایصال ثواب و دعائے مغفرت اور پسماندگان و متعلقین واہل ندوہ کے ساتھ اظہار تعزیت کیا گیا

دفتر تعلیمات (دار جدید) میں ہونے والی اس تعزیتی مجلس کے دوران جامعہ کے ترجمان اور آل انڈیا ملی کونسل اتر پردیش کے صدر مولانا آس محمد گلزار قاسمی نے مرحوم کے ساتھ اپنے ذاتی مراسم کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے انتقال کو نہ صرف ندوۃ العلماء نہ صرف ملت اسلامیہ نہ صرف مسلمانان ہند بلکہ عالم اسلام کا خسارہ اور جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ کے لیے ایک اہم سرپرست سے محرومی کا باعث قرار دیا

مولانا قاسمی نے بتایا کہ مولانا مرحوم عالمی سطح کے ادارہ ندوۃ العلماء لکھنو کے مہتمم نامور ادیب و صحافی، مثالی استاذ و مربی اور علوم وفنون کا بحر بے کراں تھے البعث الاسلامی و دیگر مجلات میں ان کی تحریریں عربوں کو شرما دینے والی ہوتی تھیں وہ جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ کے رابطہ اور ضابطہ میں سرپرست اور ہمارے بڑے اہم محسن و مربی تھے جامعہ کے سابق مہتمم حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی نور اللہ مرقدہ سے ان کے گہرے اور پائیدار مراسم تھے

مولانا قاسمی نے مرحوم کے ساتھ ہی مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی مولانا نذر الحفیظ اور مولانا رابع حسنی ندوی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان حضرات نے ندوہ کالج کو دارالعلوم بنانے میں اور اس علمی وراثت کا تمام اکابر سے رشتہ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ساتھ ہی جامعہ گلزار حسینیہ کو بھی اس قدر سپورٹ کیا جو ناقابل بیان ہے۔

جامعہ کے شیخ الحدیث و ناظم تعلیمات مولانا سید عقیل احمد قاسمی نے مولانا اعظمی مرحوم کے ساتھ ہی مذکورہ اکابر ندوہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان حضرات نے ایسے وقت میں ہمارا ساتھ دیا جب ہم خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے تھے ان حضرات نے حوصلہ دیا اور ہم آگے بڑھے آج جو اس جامعہ کے بال و پر اور ظاہری ترقیات نظر آرہی ہیں یہ انہی حضرات کی دین اور مخلصانہ کاوشوں کا نتیجہ ہے خاص طور سے مولانا سعید الرحمن اعظمی کی سرپرستی ھمیں آخر تک حاصل رہی انہوں نے اس سرپرستی کا پورا پورا حق ادا کیا آج یہ چاروں حضرات دنیا سے جا چکے ہیں جو ہمارے لیے اور ادارے کے لیے بڑی محرومی کا سبب ہے اور ان کے لیے دعائے مغفرت و ایصال ثواب ہم پر حق ہے اس موقع پر مولانا قاسمی نے مولانا عبدالعزیز بھٹکلی اور مولانا واضح رشید ندوی کا بھی تذکرہ کیا۔

دریں اثنا جامعہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے تعزیتی بیان میں مولانا اعظمی مرحوم کو دور حاضر کے ممتاز عالم دین بے مثال مقرروخطیب، معروف ادیب و صحافی قرار دیتے ہوئے ان کے انتقال کو ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ قرار دیا

مہتمم جامعہ نے اپنے تعزیتی بیان میں مزید بتایا کہ مولانا اعظمی تصنیف و تالیف دعوت و تبلیغ صحافت و خطابت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیے گئے ہیں عربی زبان و ادب پر ان کی گہری نظر، تنقیدی بصیرت، علمی وقار اور اسلوب بیان انہیں اپنے عہد کے ممتاز اہل علم میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے

مولانا مغیثی نے بتایا کہ مولانا اعظمی کی تحریری وصافتی کاوشیں، علمی مضامین عربی زبان و ادب سے متعلق خدمات اور موثر خطابات ان کے علمی ورثے کا قیمتی حصہ ہے اسی کے ساتھ انہوں نے اپنے والد مرحوم مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی کے ساتھ مرحوم کے گہرے مراسم کا بھی تذکرہ کیا اور جامعہ کو حاصل ہونے والی ان کی سرپرستانہ کاوشوں کا بھی بطور خاص تذکرہ کیا اور ان کے لیے مغفرت کاملہ وبلندی درجات وغیرہ کے لیے دعا کی۔

مولانا سید عقیل احمد قاسمی کی اجتماعی دعا پر تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوئی جس کے اہم شرکاء میں مولانا منقاد احمد قاسمی جسوری مولانا منقاد احمد قاسمی راجپوری مفتی تاج محمد قاسمی مفتی اشرف علی قاسمی مولانا محمد معروف ندوی مولانا محمد مصطفی قاسمی مولانا روشن ضمیر قاسمی مفتی رحمت اللہ قاسمی مفتی محمد شاہد لکیم پوری مفتی ریاض الدین قاسمی وقاری محمد اسلم فرقانی وغیرہ بطور خاص قابل تذکرہ ہیں

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS