وجے واڑہ، ۸ اکتوبر: آندھرا پردیش میں بارش کی بڑی کمی کے بعد ۲۱ اضلاع کے ۳۸۸ منڈل خشک سالی سے متاثرہ قرار دیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کا حکم یکم اکتوبر کا ہے، جبکہ اس کی تفصیل اس ہفتے شائع ہونے والی رپورٹوں میں سامنے آئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ۲۸۳ منڈل شدید اور ۱۰۵ درمیانی درجے کی خشک سالی میں شامل ہیں۔ اس اعلان نے خریف کی فصل، دیہی روزگار اور کسان خاندانوں کی مدد کے سوال کو اہم بنا دیا ہے۔ خبر میں اعلان کی اصل تاریخ برقرار رکھی گئی ہے؛ اسے جمعرات کا نیا حکم نہیں بتایا جا رہا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق حکومت نے عام طور پر اکتوبر کے آخر تک انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی خشک سالی کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا۔ ۳۰ ستمبر کو اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے متاثرہ اضلاع کی صورت حال کا جائزہ لیا تھا۔ متعلقہ کارروائی مرکزی حکومت کے خشک سالی انتظام سے متعلق ۲۰۱۶ کے رہنما ضابطے کے مطابق بتائی گئی ہے۔ بارش کی شدید کمی اور ال نینو کے حالات اس فیصلے کے پس منظر میں ہیں۔ جلد اعلان کا مقصد متاثرہ علاقوں کی شناخت اور اگلے انتظامی قدم کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یکم جون سے ۳۱ اگست کے درمیان ریاست میں اوسط بارش ۱۹۷٫۶ ملی میٹر رہی، جبکہ معمول کی مقدار ۴۲۴٫۳ ملی میٹر تھی۔ رپورٹ نے اس عرصے کی کمی ۵۳٫۴ فیصد بتائی ہے۔ یہ پوری مدت اور ریاست کا اوسط ہے، ہر گاؤں یا کھیت کا یکساں حال نہیں۔ کہیں بارش کی تقسیم، کہیں آبپاشی اور کہیں زیر زمین پانی کی دستیابی کے فرق سے نقصان کی صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے مقامی جانچ اور کسان کی اصل فصل کی حالت امداد کے عمل میں اہم رہے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضلع کلکٹروں نے مقامی حالات اور زیر زمین پانی سے متعلق تفصیل کمیٹی کو دی تھی۔ متاثرہ منڈل شمال میں سری کاکلم سے جنوب میں چتور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وائی ایس آر کڑپا میں ۳۷ منڈل متاثرہ بتائے گئے، جبکہ کئی دوسرے اضلاع میں بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ حکام کو ضلع گزٹ میں انگریزی اور تیلگو میں اطلاع جاری کرنے اور ضروری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایسے نوٹیفکیشن اہم ہیں کیونکہ سرکاری امداد اور سہولت کا دائرہ انہی شناخت شدہ علاقوں سے جڑتا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا نے کہا کہ اعلان سے کسانوں کے لیے قرض سے متعلق سہولت اور حکام کے لیے امدادی کام کی راہ کھلتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر متاثرہ کسان کو رقم مل چکی ہے یا تمام قرض معاف ہو گئے ہیں۔ کسی خاص راحت کی مقدار، اہلیت اور تقسیم کے لیے الگ حکم یا ضابطہ درکار ہوگا۔ وجی رام اینڈ روی کے جمعرات کے پس منظر میں بھی یکم اکتوبر کے اعلان اور شدید و درمیانی درجے کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ درجہ بندی مدد کی منصوبہ بندی میں صورت حال کی سنگینی سمجھنے کا حصہ ہے۔
پس منظر میں خشک سالی صرف فصل کی کم پیداوار کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ کھیت میں کام گھٹنے سے مزدور کی آمدنی، مویشی کے لیے چارہ اور گاؤں کے چھوٹے کاروبار پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔ یہ ممکنہ سماجی اثرات ہیں؛ موجودہ خبروں میں ہر اثر کی الگ مقدار نہیں دی گئی ہے۔ کسان کے لیے بوائی پر خرچ ہو چکی رقم اور اگلی فصل کے لیے وسائل دونوں اہم ہوتے ہیں۔ اسی لیے اعلان کے بعد عملی سوال یہ بنتا ہے کہ مقامی نقصان کی جانچ کتنی جلد ہوگی اور مدد کس طرح قابل ضرورت خاندان تک پہنچے گی۔
انڈین ایکسپریس نے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کے پانی کے بہتر استعمال اور گوداوری کے سیلابی پانی سے رائل سیما کو فائدہ پہنچانے سے متعلق بیان کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ حکومت کا پالیسی موقف ہے؛ موجودہ خشک سالی کا فوری حل مکمل ہو جانے کی تصدیق نہیں۔ آنے والے دنوں میں امدادی کارروائی، پانی کی دستیابی اور فصل کے نقصان کی تفصیل زیادہ اہم ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ بات متاثرہ علاقوں کا سرکاری اعلان اور بارش کی نمایاں کمی ہے۔ کسان خاندانوں کے لیے اس اعلان کی کامیابی کا اصل پیمانہ وقت پر اور واضح طریقے سے ملنے والی عملی مدد ہوگا۔
حوالہ جات
- انڈین ایکسپریس، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶
- ٹائمز آف انڈیا، ۳ اکتوبر ۲۰۲۶
- وجی رام اینڈ روی، ۸ اکتوبر ۲۰۲۶ کا پس منظر
تصویر: کھیتی کی فائل فوٹو، روزنامہ سہارا کی میڈیا لائبریری؛ موجودہ خشک سالی سے متاثرہ کھیت کی تصویر نہیں۔






