عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

0

زین شمسی

سیاست کی دنیا جتنی زہریلی ہوتی ہے اتنی ہی نرالی بھی۔ سیاست ملک کی دِشا اور دَشا طے کرتی ہے۔ اس کے بغیر نہ ہی ملک بھوکا رہ سکتا ہے اور نہ ہی بھر پیٹ کھا سکتا ہے۔سماج کے لاغر و تنومند جسم و جاں پر سیاست کا گھوڑا سرپٹ بھاگتا ہے، بغیر یہ سوچے سمجھے کہ جس نے اسے دوڑنا سکھایا وہ اس کی دوڑ سے کتنا گھائل ہوچکا ہے۔ جمہوریت میں سماج سیاست کی سمت طے کرتا ہے۔ جیسے لوگ ہوں گے ویسی ہی راج نیتی ہوگی ، دوسرے الفاظ میں کہیں تو جیسا اعمال ہوگا ویسا ہی راجا مسلط ہوگااور واضح طور پر کہا جائے تو جیسی روح ویسے فرشتے۔ بھارت کے پس منظر میں جب ہم سیاست کا لفظ بولتے ہیں تو اس کا منفی پہلو ہی اجاگر ہوتا ہے، یعنی ناانصافی، غیر برابری، تعصب، بدعنوانی، مہنگائی، بے روزگاری، استحصال اور غلبہ۔ کبھی ہمارے ذہن میں سیاست کا مثبت پہلو اجاگر نہیں ہوتا، یعنی ترقی، تعمیر، وسائل کی فراہمی، حقوق انسانی کا فروغ یا پھر ذہنی و نفسیاتی آزادی، تاہم سیاست نے ایسے بھی بہت سارے کام کیے ہیں جس سے عوام کو سہولت نصیب ہوئی ، مگر سیاست کا نام آتے ہی پتہ نہیں کیوں ذہن خرابے کی طرف ہی منتقل ہوجاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ سیاست میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں، مگر سیاست آپ میں دلچسپی لیتی رہے گی، گویا کسی بھی سماج میں کسی طرح کی بھی سیاست سے آپ بچ نہیں سکتے،اس کے دائرے آپ کو جکڑ ہی لیں گے۔ پھر آپ جھوٹا سچ اور سچ جھوٹ کی پیچیدگیوں میں ایسے الجھائے جائیں گے کہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے:
سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کو سچائی
کبھی چہرہ نہیں ملتا ، کبھی درپن نہیں ملتا
وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے
عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
دراصل سیاست ایک شعبدہ بازی ہے اور اب یہ ایک ایسے ناٹک کی طرف رواں دواں ہے کہ اسے کرناٹک کا بھی نام دیا جا سکتا ہے۔ دو چار دن پہلے کرناٹک میں ایسا ناٹک دیکھنے کو ملا کہ اس کی مدہوشی میں دہلی کے جنتر منتر پر خواتین پہلوانوں کی آہ بھی سنائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہی منی پور کی آگ دکھائی دیتی تھی۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ دہلی کا پارلیمنٹ کرناٹک میں منتقل ہوگیا۔ پردھان منتری سے لے کر پوری بی جے پی اور بی جے پی کی حمایتی تنظیم بہنوں نے وہیں ڈیرا ڈال رکھا تھا۔بی جے پی سرکار کا کمال یہ ہے کہ اس کی سیاست نے سماج کو بدل دیا ہے، جبکہ جمہوریت میں سماج ہمیشہ سیاست کو بدلنے کی قوت رکھتا ہے۔ مگر جب سے بی جے پی سرکار آئی ہے، اس نے سماج کے ذہن کو اپنے قابو میں رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس نے سماجی سروکار کو بالائے طاق رکھ کر مذہبی سروکار کو حکومت قائم کرنے کی کنجی سمجھ لیا ہے اور ایسا اس لیے ہوا کہ ہندوستانی سماج اپنی کاہلی اور اپنی ناکامیوں کا مداوا بھگوان کی کرپا میں تلاش کرتے ہیں۔ بی جے پی نے اسی بھگوان کو اپنے ساتھ لے لیا، پھر کیا تھا سماج اپنے دکھوں کو بھول کر بھگوان کے سکھوں میں شامل ہوگیا۔گورکھپور کے بی جے پی سانسد اور بھوجپوری فلم اداکار روی کشن نے جب کہا کہ مودی جی رام کو لائے ہیں تو اس وقت غیرہندو بھی شرمسار ہوگئے تھے کہ یہ کیسا مذہب ہے کہ جہاں بھگوان کو بھی انسان لاتا اور لے جاتا ہے۔ ہندو اتنی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ سب کو رام لاتا ہے اور رام ہی لے جاتا ہے۔ مگر سیاست کی اندھی دنیا میں رہنے والے لوگوں نے ان کے بیان پر تالیاں ٹھونکیں ، یہ سوچے بغیر کہ مودی کو رام سے بڑا بنا دیا گیا؟ تو اسے کہتے ہیں کمال کہ سیاست نے دھرم کا سہارا لے کر سماج کے سچے عقیدت مندوں کو اندھا کر دیااور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے خلاف نفرت کا ایسا پروپیگنڈہ تیار ہوا کہ جس میں ایک غریب ملک کی تمام پریشانیاں مذہبی جنون کی شاطرانہ چال میں پھنس گئیں۔
حد تو تب ہوگئی جب پڑھے لکھے لوگ سائنسی فکر و نظریات کے لوگ، فلسفہ اور تاریخ داں لوگ بھی سماج کے اس بدلائو میں بہہ گئے۔10سالہ ناکام اقتدار کے باوجود بس وہ یہ کہہ پاتے ہیں کہ ’تیرا ملنا خوشی کی بات سہی ،تم سے مل کر اداس رہتا ہوں‘ یا پھر یہ کہ ’ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں،اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں‘ اور پھر چپکے سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’اور کیا دیکھنے کو باقی ہے،تجھ سے دل لگا کر دیکھ لیا‘،مگر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اس سیاست سے الگ نہیں ہوپاتے۔ تاہم کرناٹک میں بی جے پی کے لوگوں نے بھی یہ ہمت دکھائی کہ بس بہت ہوگیا اب نچلے بیٹھو۔ شکست اگر صرف سیاسی ہوتی تو بی جے پی کے لیے کوئی فکر کی بات نہیں ہوتی، اس کی فکرمندی میں اس لیے اضافہ ہوگیا کہ اس بار مذہب کی آڑ میں چھپی ان کی سیاست کی دھار کند ہوگئی اور بجرنگی غنڈوں کی حامی سرکار کو خود بجرنگ بلی نے بھی بچاناضروری نہیں سمجھا۔ اب ان کا حال کچھ یوں ہے کہ
زندگی کس طرح بسر ہو گی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
طرہ یہ کہ اسی کرناٹک میں راہل نے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھول رکھی تھی۔وہ پہلے سے ہی کہتے آئے تھے کہ ہمیں مودی جی سے یا آر ایس ا ر ایس سے نفرت نہیں ہے، مجھے ان کے نظریہ سے نفرت ہے، مجھے ان کے غصہ پرپیار آتا ہے ، کیونکہ میں نے ڈرنا چھوڑ دیا۔جو ڈرنا چھوڑ دے گاوہ نفرت نہیں کرے گا۔گویاراہل نے واضح پیغام دیا کہ
تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
مجھ کو غصہ پر پیار آتا ہے
اوریوں بھی کسی نے بہت خوبصورت بات کہی ہے کہ ہم نے قبرستان میں ایسے لوگوں کی لاشیں بھی دیکھی ہیں جو سمجھتے تھے کہ اگر ہم بولیں گے تو مارے جائیں گے۔وہ تب بھی مارے گئے جب خوف نے ان کی زبانیں بند کر رکھی تھیں۔ راہل کی پیار کی دکان نے جنوب کو بی جے پی مکت کردیا ہے۔ شاید2024 سے پہلے بی جے پی کے پاس احتساب کا کافی وقت ہے کہ وہ راہل کی ’پیار کی دکان‘ کے سامنے نفرت کی دکان کھولیں گے یا ان کی بغل میں ترقی کی دکان اور عوام کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ خوابوں کی دنیا سے بیدار ہوں اوراپنے اور سماج کی فلاح و بہبود کے لیے ایسی سیاست سے پرہیز کریں جہاں دولت کچھ لوگوں کے پاس ، عہدے لیڈروں کے رشتہ داروں کے پاس اور دھرم اَدھرموں کے پاس منتقل ہو رہے ہیں۔
(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں)
[email protected]