اُسے نہیں ہے شکوہ قلم کا اندازہ

0

ایم پی نیتھانیل
(مترجم: محمد صغیر حسین)

تمل ناڈو کے کانچی پورم ضلع کے نلّور گاؤں میں، 8نومبر کو، اِسراویل موسِس نام کے ایک 26سالہ ٹیلی ویژن صحافی کو ہلاک کردیا گیا۔ اُس کا قصور یہ تھا کہ اس نے اراضی پر ناجائز قبضے اور گانجے کی فروخت پر ایک رپورٹ دے دی تھی۔ بعد میں اُن چار افراد کو گرفتار کرلیا گیا جنہوں نے اس پر حملہ کیا تھا۔ اُسی دن ایک دوسرے صحافی، 35سالہ سید عادل وہاب کو بھوپال کے مضافات میں واقع ایک جنگل میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
اس سے قبل، 14جون 2018کو کشمیر ٹائمز کے مدیراعلیٰ، موقر صحافی شجاعت بخاری کو تین جنگجوؤں نے شری نگر کے قلب میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا جب وہ آفس سے گھر لوٹ رہے تھے۔ وادی میں قیام امن کے بارے میں ان کے نمایاں افکار و خیالات جنگجوؤں کو ہضم نہیں ہورہے تھے۔
وہ صحافی جو بدعنوانیوں اور سماج مخالف عناصر کی بداعمالیوں کا پردہ فاش کرتے ہیں یا جو انتظامیہ کے اشارئہ ابرو پر رقص نہیں کرتے، اُن پر حملوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پوری دنیا میں صحافیوں کو جان کا خطرہ لاحق ہے۔ بدقسمتی سے، گزشتہ چند سالوں سے، ہندوستان ورلڈ پریس فریڈم انڈکس میں نیچے کی جانب پھسلتا جارہا ہے۔ Reporters Without Borders کی سالانہ رپورٹوں کے مطابق، ہندوستان عالمی انڈکس میں بتدریج نیچے جارہا ہے۔ 2018میں اگر یہ رینک 138تھی تو 2019میں یہ 140ہوگئی اور اس سال مزید گر کر 142پر پہنچ گئی۔
اقوام متحدہ کے مطابق، ’’صحافت دنیا کے خطرناک پیشوں میں سے ایک ہے‘‘ ۔ 2006 سے اور 2019 کے درمیان پوری دنیا میں 1,200سے زیادہ صحافی مارے گئے ہیں۔ یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اوسطاً ہر چار دنوں میں ایک صحافی کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ صحافیوں کے قتل کے دس واقعات میں بہ مشکل تمام ایک قاتل کو سزا ملتی ہے وگرنہ سب بے داغ چھوٹ جاتے ہیں۔
2009میں فلپائن میں 32صحافی موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے، 2016میں افغانستان میں دس ہلاک کردیے گئے اور 2018میں کابل میں جو خودکش بم حملہ ہوا، اُن میں جو لوگ مارے گئے اُن میں دس صحافی بھی تھے۔
ایک غیرسرکاری تنظیم کے ذریعہ گزشتہ سال جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 2014 اور 2019 کے درمیان 198صحافیوں پر حملوں کے نتیجے میں 40صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صحافیوں کے قتل کے واقعات بڑے شہروں کے مقابلے میں چھوٹے شہروں میں زیادہ اور آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ بنگلورو میں 2017 میں شہرئہ آفاق صحافیہ گوری لنکیش کا سفاکانہ قتل بھی ان وارداتوں میں سے ایک ہے۔ اس قتل کی بازگشت پورے ملک میں سنی گئی تھی جس نے پولیس کو قتل کی تفتیش کے لیے مجبور کردیا۔
کم سزایابیاں
ہر سال مارے جانے والے صحافیو ںکی تعداد میں روزافزوں اضافے کے رجحان کو ملحوظ نگاہ رکھتے ہوئے پریس کونسل آف انڈیا(PCI) کے چیئرمین جسٹس چندرامولی کمار پرشاد نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ’’وہ صحافیوں کے تحفظ اور اُن پر ہونے والے حملوں اور دست درازیوں کے معاملات کے سریع تصفیوں کے لیے ایک مخصوص قانون بنائے۔‘‘ پریس کونسل آف انڈیا کے ریکارڈز سے معلوم ہوتا ہے کہ صحافیوں پر حملوں کے 96%معاملات میں ملزمان بے داغ چھوٹ جاتے ہیں۔
باعث تشویش یہ ہے کہ اس بات پر مشکل سے ہی زور دیا جاتا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے سخت ترین قوانین کی اشد ضرورت ہے۔ اس جہت میں، مہاراشٹر پہلی ریاست ہے جس نے ایک قانون Maharashtra Media Persons and Media Institutions (Prevention of Violence & Damage or Loss of Property)Act, 2017 وضع کیا ہے جس کی رو سے صحافیوں پر کوئی بھی حملہ، غیرضمانتی اور قابل دست اندازی ہوگا اور جس کی تفتیش ایک ایسا افسر کرے گا جس کا درجہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے کم نہ ہوگا۔ اس ایکٹ کے تحت تین سال تک کی قید اور/یا50,000/-تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ صحافی کو لگنے والی چوٹ کے معالجے کے اخراجات کا معاوضہ بھی حملہ آور کودینا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ صحافی کے سازو سامان کے نقصان کا ہر جانہ بھی مجرم کو ادا کرنا پڑے گا۔
مہاراشٹر کے قانون کی اتباع میں، چھتیس گڑھ بھی، چھتیس گڑھ پروٹیکشن آف میڈیا پرسنزایکٹ (Chhattisgarh Protection of Media Persons Act) بنانے کے آخری مرحلوں میں ہے۔ اس ایکٹ میں صحافیوں کی تعریف وسیع تر معنوں میں متعین کرتے ہوئے، اس کے دائرے میں ڈرائیوروں، یہاں تک کہ صحافیوں کے رشتے داروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سزا کے متعلق اس کی دفعات کی رو سے حملہ آور کو تعزیرات ہند(IPC) کی متعلقہ دفعات کے تحت سزاکا حق دار ٹھہرایا جائے گا۔ اس ضمن میں، جو سرکاری خدمت گار اپنے فرائض سے کوتاہی میں ملوث پایا جائے گا، وہ ایک سال تک کی قید اور/ یا 10,000/-جرمانے کا سزاوار ہوگا۔
اگرچہ ان دو ریاستوں نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے قوانین کے نفاذ میں پہل کردی ہے لیکن دوسری ریاستوں کو ابھی اسی نقش قدم کی پیروی کرنی ہے۔ یہ کام جس قدر جلد ہوجائے اسی قدر بہتر ہوگا۔
(بشکریہ:دی ہندو)
(صاحب مضمون سبکدوش انسپکٹر جنرل آف پولیس، سی آر پی ایف ہیں)
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS