اومیکرون کے بڑھتے معاملات، پھر بھی انتخابی ریلیوں جیسی لا پروائی

0

لاک ڈاؤن یا ریلیوں پر پابندی، فیصلہ حکومت کو کرنا ہوگا
عبیداللّٰہ ناصر
کورونا کی تیسری لہر اومیکرون نے دنیا کو پھر لرزہ بر اندام کردیا ہے۔ دوسری لہر میں خاص کر ہندوستان میں موت کا جو تانڈو ہوا تھا، اس کے آنسو ابھی خشک بھی نہیں ہوئے تھے کہ تیسری لہر کی دستک نے پھر ہمارے سامنے سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اس کی اہم وجہ اگلے مہینہ سے شروع ہو رہے پانچ اسمبلیوں کے انتخابات ہیں، جس کی مہم کے لیے بڑی بڑی ریلیاں کی جا رہی ہیں جس میں لاکھوں لوگ بنا کسی احتیاطی تدبیر کے شریک ہو رہے ہیں جو ایک طرح سے تباہی کو دعوت دینا ہے، ایک ایسی تباہی جو نہ صرف انسانی المیہ ہو سکتی ہے بلکہ جو ابھی تک ابھر نہ سکنے والی اقتصادی تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ حکمراں جماعت سے لے کر اپوزیشن کی چھوٹی سے چھوٹی پارٹی تک کو اس کا احساس نہیں ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں جبکہ مین اسٹریم میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا جیسے وسائل موجود ہیں، ان بڑی ریلیوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے لیکن سیاست داں پرانے روایتی طریقوں پر ہی انحصار کر رہے ہیں۔الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے انتخابی ریلیوں پر پابندی لگانے کا مشورہ دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور کہاکہ وہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ کیا کمیشن کو اموات کا انتظار ہے؟اس کے علاوہ ملکی معیشت کو اگر لاک ڈاؤن جیسے انتہائی قدم کی تباہی سے بچانا ہے تو بھی ہمیں انتخابی ریلیوں پر پابندی لگانے سمیت انسانوں کے ہر اجتماع پر پابندی لگانی ہوگی۔
کورونا کی اس تیسری لہر سے لڑنے کی ہماری تیاریوں کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ مرکزی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ مرکزی حکومت نے کووڈ-19سے لڑنے کے لیے23 ہزار123کروڑ روپے کا جو ایمرجنسی فنڈ مختص کیا تھا وہ ریاستی حکومتوں نے مجموعی طور سے صرف 17فیصد ہی استعمال کیا ہے۔ مرکزی وزیر صحت منسکھ مندواڈیا نے ریاستی وزرائے صحت اور وزارت صحت کے اعلیٰ افسروں کی ایک ہنگامی میٹنگ میں یہ انکشاف کرتے ہوئے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ اس فنڈ کا بحسن و خوبی استعمال کر کے وہ تمام ڈھانچہ جاتی سہولیات تیار کریں جو اس مرض سے لڑنے کے لیے ضروری ہیں۔ملک میں اومیکرون کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر پہنچ چکی ہے صرف ایک دن یعنی گزشتہ اتوار کو ہی تقریباً25لاکھ لوگوں کے مرض میں مبتلا ہونے کی رپورٹ ملنے سے مرکزی وزارت صحت میں کھلبلی مچی ہے حالانکہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس دہلی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گلیریا نے کہا ہے کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اومیکرون کی یہ لہر کورونا کی دوسری لہر کی طرح تباہ کن نہیں ہے۔
تادم تحریرموصول اطلاع کے مطابق اب تک 406 مریض ہلاک ہو چکے ہیں یہ تعداد کوئی معمولی نہیں کہی جا سکتی، اسی لیے مرکزی وزارت صحت نے ریاستی حکومتوں کو گائڈ لائن جاری کرکے تمام احتیاطی اقدام کرنے، ضرورت پڑنے پر ہوٹلوں لاجوں کو وقتی اسپتال میں تبدیل کرنے آکسیجن کی بھرپور سپلائی یقینی بنائے رکھنے جیسے ضروری قدم اٹھانے کو کہا ہے۔ ریاستی حکومتوں نے رات کا کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے حالانکہ یہ مضحکہ خیز قدم ہے کیونکہ سردیوں کی ان ٹھٹھرتی راتوں میں بہت ضرورت پڑنے پر ہی کوئی شخص گھر سے باہر نکلتا ہے پھر بھی یہ مناسب قدم ہی کہا جائے گا۔ ضرورت بھیڑبھاڑ سے عوام کو بچانے کی ہے لیکن الیکشن کے نشہ میں اس جانب توجہ نہیں دی جا رہی ہے، دوسری لہر میں بھی الیکشن مہم میں ہونے والی لاپروائی کا خمیازہ بھگتا گیا تھا اور اس بار بھی یہی غلطی کی جا رہی ہے۔ظاہر ہے حکومت لاک ڈاؤن جیسا بڑا فیصلہ تو نہیں کرسکتی کیونکہ اب معیشت کو اس طرح منجمد کرنے کا جوکھم نہیں اٹھایا جاسکتا، کیونکہ معیشت ابھی تک نوٹ بندی اور لاک ڈاؤن کی تباہ کاری سے ابھر نہیں پائی ہے اور ایسا کوئی انجماد اسے بستر مرگ پر پہنچا دے گا لیکن بھیڑ بھاڑ سے بچنے، ماسک کا یقینی استعمال کرنے، ٹیکہ ضرور لگوانے جیسے احتیاطی قدم تو اٹھائے جا سکتے ہیں اور یہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی خود کی بھی ذمہ داری ہے۔
ادھر وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد کہ ٹیکہ لگانے کا اگلا مرحلہ 3جنوری سے شروع ہوگا اور اس میں بچوں کی ٹیکہ کاری بھی شامل ہوگی،15سے18سال تک کے بچوں کو بھی کورونا کے پہلے ٹیکہ کے لیے رجسٹریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ایج گروپ کے بچوں کی تعداد تقریباً10کروڑ ہے۔ رجسٹریشن شروع ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر ہی تقریباً ساڑھے تین لاکھ بچوں کے رجسٹریشن ہو جانے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس مرض کو لے کر عوام میں کتنی بے چینی ہے۔
عذاب الٰہی کے طور پر دنیا پر نازل ہوئی کورونا کی تباہ کاری سے ابھی دنیا ابھر بھی نہیں پائی تھی کہ اب اس کے نئے ویرینٹ اومیکرون نے ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔کورونا کی دوسری لہر میں ہندوستان میں جو تباہی آئی تھی اور جس طرح ملک میں طبی سہولیات کی پول کھلی تھی اس کو دیکھتے ہوئے امید یہی کی جانی چاہیے کہ حکومت نے تمام تدارکی اقدام کر رکھے ہوں گے۔ حکومت کے ساتھ ہی ساتھ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ کورونا سے متعلق تمام پروٹوکولس کی سختی سے پابندی کریں۔ جسمانی دوری برقرار رکھنا، ماسک کا یقینی استعمال اور بھیڑبھاڑ سے بچنے کی اشد ضرورت ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کی تباہ کاری جس میں شاید ہی کوئی ایسا شخص بچا ہو جس نے اپنے کسی قریبی، کسی خاص کو نہ کھویا ہو پھر بھی وہ احتیاط اور تدارکی اقدام آج نظر نہیں آتے جن کے حالات متقاضی ہیں۔
اومیکرون کے سلسلہ میں ایک اسٹڈی میں سامنے آیا ہے کہ اس نئے ویرینٹ نے معمولی سردی زکام کے وائرس سے مل کر میوٹیشن کیا ہے۔اسٹڈی کے مطابق ویرینٹ نے ایسے کسی دوسرے وائرس کے جینیٹک میٹریل کے ساتھ میوٹیشن کر لیا ہے جسے جسم انسانی کا امیون سسٹم پہلے سے پہچانتا ہے۔اس ریسرچ ٹیم کے لیڈر ڈاکٹر سندر راجن نے بتایا کہ اومیکرون جب انسانی خلیوں پر حملہ کرتا ہے تو وہ شکل و صورت میں کافی کچھ اسی جیسا ہو جاتا ہے، اس طرح یہ وائرس امیون سسٹم کو چکمہ دے دیتا ہے اور ہمارا امیو ن سسٹم اس وائرس پر حملہ نہیں کر پاتا جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ نیا ویرینٹ زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اس کی معمولی علامتیں ہی ظاہر ہوں۔
سائنسدانوں کے پاس بھی ابھی کئی سوالوں کے جواب نہیں ہیں، جیسے یہ ابھی واضح نہیں ہوپایا ہے کہ کیا دوسرے ویرینٹ کے مقابلہ میں اومیکرون زیادہ متعدی ہے، کیا اس سے سنگین مسئلہ ہوسکتا ہے یا یہ پھیلنے کے معاملہ میں ڈیلٹا کو پیچھے چھوڑ دے گا؟ ایک دوسری اسٹڈی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جب انسانوں سے جانوروں تک کورونا پہنچتا ہے تب نئے ویرینٹ کے بننے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔ امریکہ کے ایک ریسرچر نے بتایا کہ انسان کئی طرح کے جانوروں کی قربت میں رہتا ہے اس وجہ سے وائرس کئی اسپشیز کی قربت میں آ جاتا ہے۔
کورونا کی دوسری لہر کی زبردست تباہ کاری کے باوجود عوام اور حکومت دونوں کی لاپروائی اظہر من الشمس ہے۔ طبی خدمات اب بھی اتنی ہی لچر اور ناکافی ہیں جتنی کورونا کی دوسری لہر کے دوران تھیں۔ حکومت بھلے ہی کتنے ہی بلند بانگ دعوے کرے حقیقت یہی ہے کہ اگر خدا نخواستہ تیسر ی لہر بھی اتنی ہی شدید ہوئی جتنی دوسری لہر تھی تو طبی خدمات اسی طرح بھر بھرا کے ڈھیر ہو جائیں گی جیسے دوسری لہر کے دوران ہوئی تھیں۔عوام بھی کچھ کم لا پروا نہیں ہیں، اتنی بڑی تباہی اور المیہ کا شکار ہونے کے باوجود عوام میں بھی کوئی فکر مندی دکھائی نہیں دیتی ہے اور معمولات زندگی پہلے جیسے ہی چل رہے ہیں یہاں تک کہ ٹیکہ کاری کی رفتار بھی بہت سست ہو گئی ہے، کروڑوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ٹیکہ کی پہلی ڈوز لینے کے بعد ابھی تک دوسری ڈوز نہیں لی ہے۔ سوشل دوری برقرار رکھنے اور ماسک کے استعمال میں زبردست لاپروائی ہورہی ہے۔ حکومت کو اس سمت میں پھر سخت رخ اختیار کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ کووڈ-19 کی جانچ کی رفتار بھی بہت سست کر دی گئی ہے، اس جانب حکومت کو فوری توجہ دینی ہوگی۔
حکومت کا جو فرض ہے وہ تو اسے ادا ہی کرنا چاہیے لیکن عوام کو بھی خود اپنی صحت کا خیال رکھنا ہوگا اور وہ تمام پابندیاں خود پر عائد کرنی ہوں گی جو کووڈ-19 سے بچنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان میں سماجی دوری برقرار رکھنا اور ماسک کا استعمال سر فہرست ہے کیونکہ کووڈ -19 ابھی ختم نہیں ہوا ہے، صرف کمزور پڑا ہے اور اس نئے ویرینٹ اومیکرون کے آنے جانے سے خطرہ اور بڑھ گیا ہے۔ حالانکہ ماہرین اسے جان لیوا نہیں مان رہے ہیں پھر بھی اگر اس کے ہاٹ اسپاٹ ابھرتے ہیں تو دوسری جگہ اس کے پھیلنے کو روکنے کے اقدام کرنے ہوں گے۔حالانکہ اومیکرون کو لے کر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے مگر احتیاط لازمی ہے اور یہ احتیاط عوام کو بھی برتنا ہوگی اور حکومت کو بھی۔کورونا کے ٹیکے ہمارے سائنسدانوں نے ریکارڈ وقت میں تیار کر لیے تھے، اومیکرون کی دوا اورٹیکہ بھی جلد ہی دستیاب ہوجائے گا۔ عوامی بیداری اور حکومت کی ہوشیاری اور بروقت ضروری اقدام سے بنی نوع انسان کو اومیکرون سے بھی بچا لیا جائے گا، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
عالمی صحت تنظیم کے سر براہ ٹیڈر وس گبیرئسس نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو متحد ہوکر کورونا کا مقابلہ کرنا چاہیے، تبھی ہم اسے شکست دے سکتے ہیں۔سال نو کے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ سبھی ملکوں کو محدود قوم پرستی اور خود غرضی سے بلند ہوکر بنی نوع انسان کو اس مرض سے بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے اور ٹیکوں کی جمع خوری سے بچتے ہوئے غریب ملکوں کو بھی ٹیکے فراہم کرنا چاہیے تاکہ وہاں کے عوام کو بھی اس مرض سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکوں کی فراہمی میں اس غیر برابری کی وجہ سے کورونا سے لڑنے میں دقت آرہی ہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS