کاؤز ٹائٹل میں ذات لکھنے کے خلاف سپریم کورٹ سے فریاد

0

نئی دہلی: راجستھان میں درخواست کے عنوان یعنی کاؤز ٹائٹل میں ذات کا نام درج کرنے کا ایک منفرد معاملہ سامنے آنے کے بعد اس عمل کو 
ختم کرنے کی  ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جےآئی) سے فریاد کی گئی ہے۔
 ایک وکیل نے سی جے آئی کو خط لکھ کر کورٹ فائلنگ میں بحث عنوان / حلف ناموں / میمو میں فریق کی ذات کا ذکر کرنے کے’قدیم روایتی عمل‘پر تشویش کا اظہار 
کیا ہے اور اسے فوری طور پر ختم کرنے کی ان سے درخواست کی ہے۔
 وکیل امت پئی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ ہندوستانی قانونی نظام اور آئین میں ذات / مذہب کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اس طرح كاؤز ٹائٹل میں فریق کی ذات کا 
ذکر کرنا مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔ 
انہوں نے لکھا ہے کہ ہم وطنوں کو سات دہائی پہلے اپنا آئین حاصل ہوا تھا، لیکن ذات / مذہب سے متعلق دقیانوسی اور روایت پر مبنی باتیں یہاں کی آب و ہوا میں اتنی 
داخل ہوچکی ہیں کہ 70 سال بعد بھی یہ جاری ہے. یہ مکمل طور پر غیر ضروری ہے، کیونکہ ذات / مذہب کا ذکرعدالتی انتظامیہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ 
قابل غور ہے کہ یہ مسئلہ راجستھان ہائی کورٹ کے سامنے دائر ایک ضمانت عرضی کے پس منظرمیں اجاگر ہوا ہے، جس کے عنوان میں درخواست گزار کی ذات کا 
ذکر کیا گیا ہے۔ متعلقہ معاملے نے اس وقت میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا جب اس معاملے میں ایک وکیل ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران بنیان پہن 
کر بنچ کے سامنے پیش ہوا تھا۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS