ماں کا شاعر منور رانا

0

کل رات ٹیوٹر کا چکر لگا رہا تھا، جب چاروں طرف گھٹا ٹوپ تاریکی کی بادشاہت تھی، چاروں اور باد سرد کی سلطنت قائم تھی، ہر فرد انسانی سے لے کر چرند و پرند پر فصل خنک کی حکمرانی تھی، سبھی پر گرم اور اکسیر سرد کا رعب و دبدبہ تھا، سبھی ٹھنڈی سے دوہائی مانگ رہے تھے اور سنسان سڑکوں پر شیت لہر کی اسیری برقرار تھی کہ ایک سنسنی خیز خبر پر نظر پڑی کہ عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا اس دار فانی کو الوداع کہہ دیا…..اس کے بعد کئی اور میسیج نگاہوں سے نگاہ چار کرنے لگا… إنا لله وإنا إليه راجعون…
بہرحال! میں شاعر صاحب کو زیادہ تر اہل خانہ اور خاندان خاص طور سے ماں پر اشعار پڑھتے سنا ہے، کئی بار میں نے انہیں مختلف ایوارڈ فنکشن میں شاعری کرتے دکھائی دیے، اس لیے ان کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی للک میرے دل میں جگہ بنائی جو آپ کے سامنے پیش ہے….
اردو ہندی ادبی دنیا میں عالمی شہرت یافتہ منور رانا کی پیدائش اتر پردیش کے شہر رائے بریلی میں، سنہ 1952ء میں ہوئی۔ ان کے رشتہ دار مع دادی اور نانی، تقسیم ہندوستان کے وقت پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن ان کے والد صاحب، ہندوستان سے اٹوٹ محبت کی وجہ سے اسی سرزمین ہی کو اپنا مسکن بنا لیا۔
منور رانا کی شاعری میں غزل گوئی ہی نے جگہ لی۔ ان کے کلام میں ‘ماں‘ پر لکھا کلام کافی مشہور ہے ، ان کی غزلیں، ہندی، بنگلہ اور گرومکھی زبانوں میں بھی ہیں۔ منور رانا نے اپنے کلام میں روایتی ہندی اور اودھی زبان کو بخوبی استعمال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے انھیں کافی شہرت اور مقام ملا۔
انہوں نے کچھ کتابیں بھی لکھیں جو درج ذیل ہیں :-
اردو شعری مجموعے:
نیم کا پھول (۱۹۹۳)، کہو ظل الٰہی سے (۲۰۰۰)،منور رانا کی سو غزلیں (۲۰۰۰)، گھر اکیلا ہوگا(۲۰۰۰)، ماں (۲۰۰۵)، جنگلی پھول (۲۰۰۸)، نئے موسم کے پھول (۲۰۰۹)، مہاجر نامہ (۲۰۱۰)، کترن میرے خوابوں کی (۲۰۱۰)
ہندی شعری مجموعے:
غزل گاؤں ( ۱۹۸۱)، پیپل چھاؤں( ۱۹۸۴)، مور پاؤں(۱۹۸۷)، سب اس کے لیے(۱۹۸۹)، نیم کے پھول (۱۹۹۱)، بدن سرائے(۱۹۹۶)، گھر اکیلا ہوگا(۲۰۰۰)، ماں (۲۰۰۵)، پھر کبیر(۲۰۰۷)، شادابہ(۲۰۱۲)، سخن سرائے (۲۰۱۲)۔
نثری تصانیف:
بغیر نقشے کا مکان(۲۰۰۰)، سفید جنگلی کبوتر(۲۰۰۵)، چہرے یاد رہتے ہیں(۲۰۰۸)، ڈھلان سے اترتے ہوئے، پھنک تال

انہیں کئی بار اعزازات سے نوازا گیا :
وششٹھ ریتوراج سمان ایوارڈ – پرمپرا کویتا پرو 2012 ء
امیر خسرو ایوارڈ 2006ء
کویتا کا کبیر سمان اُپادھی 2006، اندور
میر تقی ایوارڈ 2005ء
شہود عالم آفاقی ایوارڈ، 2005ء، کولکتہ
غالب ایوارڈ 2005ء، ادئے پور
ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ 2005ء، نئی دہلی
سرسوتی سماج ایوارڈ 2004ء
مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی ایوارڈ 2011ء (مغربی بنگال اردو اکیڈمی)
سلیم جعفری ایوارڈ 1997ء
دلکش ایوارڈ 1995ء
رئیس امروہی ایوارڈ 1993ء، رائے بریلی
بھارتی پریشد ایوارڈ، الہ آباد
ہمایون کبیر ایوارڈ، کولکتہ
بزم سخن ایوارڈ، بھوساول
الہ آباد پریس کلب ایوارڈ، پریاگ
حضرت الماس شاہ ایوارڈ
سرسوتی سماج ایوارڈ
ادب ایوارڈ
میر ایوارڈ
مولانا ابوالحسن ندوی ایوارڈ
استاد بسم اللہ خان ایوارڈ
کبیر ایوارڈ…..
شاعر منور رانا کا انتقال 71 سال کی عمر میں، بروز اتوار دیر رات، 14/01/2024 کو کچھ خبروں کے مطابق کینسر اور کچھ کے مطابق دل پر دورہ پڑنے سے ہوا….

کچھ میرے پسندیدہ اشعار….
ماں کے موضوع پر :

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
….
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
….
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے
….
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
….
شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں
ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا

ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز
بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیں

نکلنے ہی نہیں دیتی ہیں اشکوں کو مری آنکھیں
کہ یہ بچے ہمیشہ ماں کی نگرانی میں رہتے ہیں
…..
مجھے بھی اس کی جدائی ستاتی رہتی ہے
اسے بھی خواب میں بیٹا دکھائی دیتا ہے

….
تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں
….
ہنس کے ملتا ہے مگر کافی تھکی لگتی ہیں
اس کی آنکھیں کئی صدیوں کی جگی لگتی ہیں
…..
دولت سے محبت تو نہیں تھی مجھے لیکن
بچوں نے کھلونوں کی طرف دیکھ لیا تھا
….
یہ سوچ کر کہ ترا انتظار لازم ہے
تمام عمر گھڑی کی طرف نہیں دیکھا

کسی کی یاد آتی ہے تو یہ بھی یاد آتا ہے
کہیں چلنے کی ضد کرنا مرا تیار ہو جانا

اب آپ کی مرضی ہے سنبھالیں نہ سنبھالیں
خوشبو کی طرح آپ کے رومال میں ہم ہیں

مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی
….
مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالے
مٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھا

کھلونوں کی دکانوں کی طرف سے آپ کیوں گزرے
یہ بچے کی تمنا ہے یہ سمجھوتا نہیں کرتی
….
اے خاک وطن تجھ سے میں شرمندہ بہت ہوں
مہنگائی کے موسم میں یہ تہوار پڑا ہے
…..
ہر چہرے میں آتا ہے نظر ایک ہی چہرا
لگتا ہے کوئی میری نظر باندھے ہوئے ہے
….
پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی

محمد مرسلین محمد جمال الہندی

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS