سی اے اے:کئی افراد پولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہوئے، جسم سے گولی نہیں ملی 

0

فیروز آباد :چوڑیوں اور شیشوں کی فیکٹریوں کا یہ قصبہ اتر پردیش میں شہریت قانون کے خلاف حالیہ مظاہروں میں سب سے زیادہ متاثر ہوا۔جس کو پولیس کی سخت کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دسمبر 20 کو ریاست میں پولیس کی کارروائی میں 19 ہلاکتوں میں سے 6 فیروز آباد میں ہوئیں اور18 پولیس اہلکاروں سمیت 75 زخمی ہوئے۔زیادہ تر معاملات میں اسپتال کا کہنا ہے کہ یہ افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے لیکن انہیں ان کے جسموں سے گولی نہیں ملی۔ متاثرین میں سے تین کو دہلی کے ایمس اور صفدرجنگ اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا ، جبکہ ایک کو دارالحکومت کے اپولو اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں ان کی ریڑھ کی ہڈی کا علاج چل رہا تھا۔
فیروز آباد پولیس اب بھی اپنی بات پر قائم ہے کہ انہوں نے ایک بھی گولی نہیں چلائی۔ ان چھ افراد کی اموات کے معاملے میں ، پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے اور ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی)اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ایس این اسپتال فیروز آباد کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آر کے پانڈے کا کہنا ہے کہ جن تین لاشوں کے پوسٹ مارٹم کیے گئے ہیں ان میں سے دو لاشوں میں گولیاں داخلہ اور خارج بھی ہوئیں،لیکن جسم کے اندر کوئی گولی نہیں ملی۔ تیسرا معاملہ سر میں چوٹ کا تھا اور اس سے گولیوں کے نشانات نہیں ملے۔
فیروز آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سچندرا پٹیل نے کہا پولیس نے کسی بھی لاش کو اسپتال نہیں پہنچایا۔ فیروز آباد میں 3 لاشوں کے ہوئے پوسٹ مارٹم سے ہمیں اس بات کی اطلاع ملی کی 2 لاشوں کے جسم سے گولیاں اندر اور باہر نکلنے کے نشانات ہیں۔ ہمیں دہلی میں ہونے والے تین پوسٹ مارٹم کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ایس ایس پی نے مزید کہا ’ہم نے آئی پی سی کی دفعہ 304 کے تحت اموات کے تمام 6 مقدمات میں ایف آئی آر درج کرلی ہیں ، یہ بات نوٹ کی جائے کہ اس دن مظاہرہ پر تشدد تھا اس کے باوجود پولیس نے کوئی گولی نہیں چلائی۔
تقریباً تمام اموات قصبے نینی گلاس قصبے کے گرد و نواح میں ہوئیں۔ جبکہ فیروز آباد میں بیشتر شیشے اور چوڑی فیکٹریاں ہندوئوں کی ملکیت ہیں، لیکن ملازمین کی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔
نبی جان:فیروز آباد جنوبی پولیس اسٹیشن علاقے میں محمد گنج کے رہائشی اس تشدد میں ہلاک ہوئے۔ یہ اروشی روڈ پر واقعہ چوڑیوں کی ورکشاپ میں کارکن تھے۔ اس کے والد ایوب نے بتایا کہ انہیں سینے میں گولی لگی ہے۔ نبی ورکشاپ سے گھر لوٹ رہے تھے کہ اسے گولی مار دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے دوست اسے گھر لے آئے اور ہم اسے ایس این اسپتال لے گئے ، جہاں انھیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
راشد:رام گڑھ پولیس اسٹیشن علاقے میں واقع کشمیری گیٹ کا رہائشی، راشد اس تشدد میں ہلاک ہوئے ان کے والد نور محمد الیاس کالو نے بتایا کہ راشد جزوی طور پر معذور تھے اور چوٹیوں کی ورکشاپ میں کام کر کےروزانہ 150 سے 200 روپے کماتے تھے۔ احتجاج کے روزراشد اپنی مزدوری لینے گئے اس کا کسی احتجاج سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ کالو نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے صبح 4 بجے کے قریب لاش کو دفن کرنے پر مجبور کیا۔
اورار:(25 )سالہ اورار کودہلی کے ایس این میڈیکل کالج سے اپولو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی طبی ریکارڈوں سے پتا چلا ہے کہ ان کے سینے سے متعدد چھوٹے دھاتی مواد دیکھا گیا۔ ایس این میڈیکل کالج رپورٹ میں آتشیں اسلحہ کی مشتبہ چوٹ کا ذکر ہے۔
محمد شفیق:(45 )سالہ شفیق بھی چوڑی ورکشاپ میں کام کرتے تھے۔26 دسمبر کو ان کی موت صفدر جنگ اسپتال میں ہوگئی۔ان کے سر میں چوٹ لگی تھی۔ صفدرجنگ اسپتال نے ہمیں کاغذات نہیں دیئے اور کہا کہ یہ صرف پولیس کو دیئے جائیں گے۔ شفیق ہمیشہ کسی بھی تنازعہ سے دور رہے۔
ایف آئی آر میں گولی لگنے کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن صفدرجنگ میں کیے گئے ایکسرے میں سر میں گولی لگنے والی چوٹ کا ذکر ہے۔
ہارون:فیروز آباد کے 30 سالہ ہارون بھینسوں کے تاجر تھے26 دسمبر کو دہلی کے ایمس ٹروما سنٹر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ان کے خاندان والوں کے مطابق یہ اس طرح کے تنازعات سے دور رہتے تھے۔
ایف آئی آر میں گولی کی چوٹ کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے، لیکن اس کی طبی رپورٹ میں گولی کا ذکر ہے۔ 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS