’جبراَ تبدیلی ٔ مذہب کرانے کا الزام بے بنیاد‘

0

نئی دہلی (پریس ریلیز): شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل
خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ خود بھی پکے اور سچے مسلمان بنیں اور نوجوانوں کی دینی تربیت میں مشغول رہیں۔
انہوںنے کہا کہ ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں آئندہ سال الیکشن ہونے والے ہیں اترپردیش میں بھی 2022میں الیکشن ہیں
اسی لئے فرقہ پرستی او رمسلم دشمنی کو بڑھاوا دینے میں فرقہ پرست تنظیمیں پیش پیش ہیں کہیں مسلمانوں کی لنچنگ ہورہی
ہے تو کہیں مسجدوں اور مدرسوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔کچھ چینل بھی بدنام کرنے میں آگے آگے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ
6-7 مہینے یہی عمل چلتا رہے گا اس سے حکمت عملی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے سپریم کورٹ کے
حالیہ فیصلہ کو سراہا۔ پٹیشن میں جبراََ تبدیلی ٔ مذہب کا الزام لگا تے ہوئے کہا گیا تھا کہ مسلم اکثریت والے نوح میں ہندوؤں
پر دباؤ بنایا جا رہا ہے ۔یہاںکے ہندو دہشت میں ہیں یہاں پولیس ناکافی ہے اس لئے نیم فوجی دستہ کو تعینات کیا جائے
۔انہوںنے کہا کہ سپریم کورٹ نے پٹیشن کو خارج کر دیا اس سے فرقہ پرست عناصر کو زبردست جھٹکا لگا ہے اس فیصلہ
کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ایسے ہی حکومت کوبھی فیصلے لینے چاہئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جبراََمذہب تبدیل کرانے کا
مسلمانوں پر الزام غلط اور بے بنیاد ہے ۔مذہب اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ مفتی مکرم نے یوپی اقلیتی کمیشن کے نئے
چیئرمین اشفاق سیفی سے مطالبہ کیا کہ مساجد و مدارس نیز مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور
پچھلے سالوں میںجن پر ظلم ہوا ہے انہیں انصاف دلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ڈی میڈیکل کالج گورکھپور کے ڈاکٹر
کفیل خان کی معطلی ابھی تک چل رہی ہے حالانکہ الٰہ آباد ہائی کورٹ سے بھی انہیں الزامات سے بری کر دیا گیا ہے ۔انہوں
نے انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کو بھی خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مسئلہ پر غور کیا جائے ابھی تک ان کی سنوائی
نہیں ہوئی ہے ۔یوپی اقلیتی کمیشن کو اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے حق کا ساتھ دینا چاہئے ۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS