کسانوں کے زراعتی قوانین کو لیکر جنتر منتر اور گردونواح میں سکیورٹی سخت

0
scroll.in

نئی دہلی: (یو این آئی) نئے زراعتی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی کے جنتر منتر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔
حکومت دہلی اور پولس نے منگل کے روز بتاریخ 22 جولائی سے 9 اگست تک کسانوں کو تاریخی جنتر منتر پر 11 بجے سے 5 بجے تک دھرنا دینے کی اجازت دی ہے۔
ادھر پولس نے بتایا کہ اس وقت پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس بھی جاری ہے،اسلئے جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقے میں سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے بدھ کے روز یہاں کہا کہ جمعرات کے روز تقریبا 200 کسان اس دھرنے میں شامل ہوں گے۔ دھرنا میں شامل کسانوں کے بارے میں فیصلہ جوائنٹ کسان مورچہ ہی کرے گا۔ کسان بسوں کے ذریعہ احتجاج کے مقام پر پہنچیں گے۔ کسان پولس کی نگرانی میں آئیں گے اور شام کو اپنا دھرنا ختم کریں گے۔ دھرنا پرامن ہوگا اور کورونا وائرس کے اصولوں پر عمل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جوائنٹ کسان مورچہ نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین 11 راؤنڈ کے مذاکرات کے بعد بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے۔ سات ماہ سے زائد عرصے سے کسان دارالحکومت کی سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS