کورونا ویکسین اور ہندوستانی مسلمان

0

شاہد زبیری

کورونا وبا کی خبرسب سے پہلے چین کے ووہان سے آئی تھی اور پوری دنیا ابھی اس خبر کی ہولناکی سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ کورونا کے وائرس نے پو ری دنیا کو اپنے شکنجہ میں کسنا شروع کر دیا۔ پہلی لہر سے لے کر دوسری لہر تک لاکھوں لوگ اس وبا کی وجہ سے لقمۂ اجل بن گئے خود ہمارے ملک میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 4لاکھ کے قریب لوگ ابھی تک اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں پوری دنیا کی طرح ہندوستان بھی اس وباکے ہاتھوں انسانی جانوں کے اتلاف کے علاوہ شدید معاشی بحران کا شکار ہے ۔کورونا کی اس عالمی وبا کو لے کرہمارے ملک میں سیاست بھی خوب ہو رہی ہے اور سوا ارب سے زیادہ آبادی والے اس ملک کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے ابھی تک ایک چوتھائی آبادی کو ہی کورونا ویکسین لگا ئی گئی ہے ۔اس چو تھا ئی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب کتنا ہے اب یہ سوال بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے ہر چند کہ وبا کو ئی بھی اور کیسی بھی ہو وہ کسی کا مذہب اور دھرم پوچھ کر اس کو اپنا شکار نہیں بنا تی، ہمارے ملک میں کورونا کی دوسری لہر نے جو قیامت ڈھائی اس کے گواہ ہمارے شمشان گھاٹ اور قبرستانوں میں آنے والے جنازے اور گنگا میںتیرنے والی لاشوں سے لگا یا جا سکتا ہے۔ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ کورونا کی پہلی لہر کے لئے میڈیا کے ایک گروپ اور چند سخت گیر ہندو تنظیموں نے تبلیغی جماعت کو ذمّہ دار ٹھہراکر بلی کا بکرا بنا دیا تھا اور جماعت کے ملکی اور غیر ملکی افراد کو سخت آزمائش میں مبتلا کر دیا تھا۔

زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ ہے لیکن دوا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا تو عین سنّت ہے۔ کورونا ویکسین کو اسی کے تحت لگوانا چاہئے اس سے گریز صحت اور جان کیلئے تو خطرہ ہے ہی اس سے ملّت کی تصویر بھی مسخ ہوتی ہے یہ دھیان رکھنا چا ہئے ۔

اس تناظر میں اگر میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرے کہ ہندوستانی مسلمان کورونا ویکسین لگوانے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں اور جان بو جھ کر کورونا ویکسین نہیں لگوارہے ہیں تو اس کو سنجیدگی سے لیا جا نا چا ہئے ۔ان دنوںمسلمانوں پر ایسا ایک الزام اترا کھنڈ کی بی جے پی سرکار کے سابق وزیرِ اعلیٰ ترویندر سنگھ راوت کے حوالہ سے گردش کررہا ہے ۔ ترویندر راوت کا مبینہ بیان کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ اور اس بیان کے پسِ پشت کیا مقاصد کا ر فرما ہیں اس بحث کو طول دینے کی بجا ئے یہ جاننا ضروری ہے کہ زمینی حقیقت کیا ہے ؟ جو ذی ہوش اور باخبر طبقہ ہے وہ جانتا ہے کہ سر کر دہ اور ذمّہ دار علماء کی طرف سے کورونا ویکسین کی بابت مثبت بیان سامنے آچکے ہیں اور آرہے ہیںاور سرکردہ علماء کی طرف سے مسلمانوں کی تخصیص کے بغیر عام لوگوں سے کورونا ویکسین لگا ئے جانے کی اپیلیں کی جا رہی ہے ۔ فقہ اکیڈمی کے ذمّہ دار اور مسلم پرسنل لاء بورڈ سے وابستہ ممتاز عالم، مولا نا خالد سیف اللہ رحمانی کا بیان ویکسین کی تائید میں پہلے ہی سامنے آچکا تھا۔ دارالعلوم دیو بند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم کا بیان 15مارچ2021 کو اس وقت سامنے آیا تھا جب انہوں نے بذاتِ خود اور ان کے ساتھ دارالعلوم کے نائب مہتمم نے کورونا ویکسین لگوائی تھی۔ مہتمم صاحب کا تازہ بیان 13جون کو ایک ہندی روزنامہ میں شائع ہواہے جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا اس وباسے ملک کے تمام باشندوں کو مل کر جنگ لڑنی ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہمارے ملک ہی میں نہیں دیگر ممالک میں بھی افواہوں کا بازار گرم ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا کہ جس سے ویکسین کی مخا لفت کی جا سکے۔ انہوں نے تازہ بیان میں بھی لوگوں سے ویکسین لگوانے کی اپیل کی اور کہا کہ دارالعلوم دیو بند کے کافی لوگ ویکسین کیلئے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔15جون 2021کو جماعتِ اسلامی ہند کے شعبہ شریعہ کونسل کی طرف سے بھی کونسل کے لیٹر ہیڈ پر اس عنوان سے رہنمائی کی گئی ہے کہ ’کورونا سے حفاظت کیلئے ویکسین لگوانا جا ئز ہے ‘ اس بیان میں کہا گیا کہ بہت سے مسلمان سوال کررہے ہیں کہ کیا ویکسین لگوانا جائزہے؟شریعہ کونسل جماعتِ اسلامی ہندمیں اس پر غور کیا گیا جس کے بعد 6نکات کے تحت تفصیل سے رہنما ئی کی گئی ہے ۔ 4-5-6 میںشریعہ کونسل نے نہایت وضاحت کے ساتھ کہا کہ اگر ویکسین میں کوئی حرام چیز شامل ہو تو بھی فقہا نے اسے لگوانے کی اجازت دی ہے اور کہا کہ یہ اجازت اس لئے دی ہے کہ اوّلاًحرام چیز کی تبدیلی ِماہیت کے بعد اس کی حرمت ختم ہو جا تی ہے ۔ثانیاًشدید ضرورت کے وقت حرام چیز کا استعمال جائز ہے۔ وبا پھیلی ہو یا مرض لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو اس سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا لاحق ہو جا نے کے بعد اس کا علاج کرانا ۔شریعہ کونسل کے اس بیان میںآخری سطر میں صاف کہا گیاکہ جس نے ویکسین نہ لگوائی ہو اسے چاہیئے کہ وہ لازماًدیگر احتیا طی تدا بیر اختیار کرے تاکہ نہ خود مرض میں مبتلاہو اور نہ مرض کے پھیلنے کا سبب بنے۔ ’فتویٰ آن لائن‘ کے معروف مفتی ارشد فاروقی اعظمی نے بھی اس مسئلہ پر عالمِ اسلام کے فقہا کے فتاویٰ اور آراء پر مبنی اپنی ایک ویڈیو میں ویکسین کے جائز ہو نے کی تصدیق کی۔ہر چند کہ دارالعلوم دیو بند کے واضح مؤقف کے باوجود جا معہ مظاہر علوم یا مدرسہ مظا ہر علوم وقف کی طرف سے کوئی بیان ویکسین کے جا ئز یا نا جا ئز ہونے کے سوال پر ہمارے سامنے نہیں آیا تاہم نجی گفتگو میں جامعہ مظاہر علوم کے نائب ناظم اور مفتی، مفتی سیّد صالح الحسنی نے کہا کہ اس مسئلہ کا تعلق مسلم طبیبِ حاذق سے ہے صرف دارالافتاء سے نہیں اس پر مسلم حاذق اطبّا کی آرا اور تحقیق کو بھی سامنے رکھ کر عمل کرنا چاہئے ۔
دارالعلوم دیو بند کے مہتمم ، فقہ اکیڈمی کے سکریٹری اور جماعتِ اسلامی ہند کے شعبہ شریعہ کونسل اور فتویٰ آن لائن کی طرف سے جاری اپیلوں کے علاوہ دیگر مسالک کے علماء اور دینی اداروں کی اس مسئلہ پر کیا آرا ہیں اور کیا شرعی مؤقف ہے وہ ہمارے سامنے نہیں، جن مؤقر دینی اداروں اور ممتاز علماء کی طرف سے کورو نا ویکسین کے جائز ہونے اور اس کو بطور احتیاط لگوائے جا نے کی اپیلیں جاری کی گئی ہیں اور رہنمائی کی گئی ہے اس پر مسلمانوں کا بالعموم کیا رویہ ہے اور اس پر وہ کتنا عمل کررہے ہیں تو سچی اور کڑوی بات یہ ہے کہ مسلم اکثر یتی بستیوں، دیہی اور شہری علاقوں کے مسلمان بحیثیت مجموعی کورونا ویکسین لگونے کے حق میں نظر نہیں آتے اور اس کے لئے مختلف حیلے حوالے پیش کئے جارہے ہیں ۔ کچھ نا واقفیت کی بنا پر اور کچھ سوشل میڈیا پر دین کے پیرایہ میں پھیلائی گئی افواہوںاور گمراہ کرنے والی جھوٹی یوٹیوب ویڈیوکی بھرمار نے ویکسین کے خلاف وہ سب کچھ بھر دیا ہے جو اس سے پہلے ’پولیو ڈراپ‘کے بارے میں تھا۔
ایک طبقہ ایسا بھی جس کی نظر میں یہ سارا کھیل ڈرگس مافیا اور دنیا کی بڑی طاقتوں کا ہے جس کا شکار پوری دنیا کو بنایا جا رہا ہے۔ مسلمان بحیثیتِ مجموعی کورونا ویکسین لگوارہے ہیں کہ نہیں حقیقت جاننی ہوتو آپ کسی بھی ویکسین سینٹر پر جائیں اور وہاں ریکارڈ دیکھیںتو اکثر یت برادرانِ وطن کی سامنے آئے گی جو ویکسین لگوا رہی ہے آپ دیہی علاقوں کے مسلمان اساتذہ سے دریافت کریں تو وہ آپ کو بتا ئیں گے کہ یہ گائوں مسلم اکثریت کا ہے، کچھ دلت گھر بھی ہیں لیکن ویکسین صرف دلتوں نے لگوائی ہے ۔ ہمیں اس حقیقت کو جھٹلانے یا اس پر پردہ ڈالنے کی بجا ئے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کون سی ایجنسیاں ہیں جو سرکاری ہیلتھ اسکیموں اور فلاحی منصوبوں سے مسلمانوں کو دور رکھنے کے لئے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور ہمارے مجموعی مزاج اور جذبات کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کی تصویر کو ملکی سطح پر مسخ کرنے کے لئے افواہوں کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں پہلے مسلمانوں کے اذہان اور فکر کو افواہوں اور فرضی اندیشوں اور خطرات سے پرا گندہ کرو اور پھریہ پرو پیگنڈہ کرو کہ مسلمان پہلے ’پولیو ڈراپ‘ا پنے بچوں کو نہیں پلاتے تھے اور اب ’کوروناویکسین نہیں‘ لگوارہے ہیں۔ اترا کھنڈ کے سابق بی جے پی کے وزیرِ اعلیٰ ترویندر سنگھ راوت کا مبینہ بیان بھی اسی کی طرف اشارہ کرتاہے ۔ہر چند کہ ہمارے ملک میں ایسے ’ودوان‘ اور‘ مہان‘ لوگ آج بھی موجود ہیں جو کورونا کا علاج گو بر سے اور گائے کے پیشاب سے کررہے ہیں اور ہون سے کورونا کو بھگا رہے ہیں ایسے لوگ پہلے بھی موجود رہے ہیں جب ملک میں چیچک( سیتلا) پھیلی تو اس سے بچنے کیلئے سیتلا ماتا کے مندر بنا دئے جو آج بھی موجود ہیں۔قطع نظر اس کے ملّی تنظیموں اور علماء کو مسلمانوں کو کورونا ویکسین لگوانے کے لئے صرف اپیلیں اور فتاویٰ پر ہی اکتفا نہیں کر نا چا ہئے بلکہ اس کے لئے ملک گیر سطح پربیداری مہم شروع کرنی چا ہئے اور گھر گھر جا کر لوگوں کو کو رونا ویکسین لگوانے کیلئے آمادہ کرنا چاہئے اور اس میں ان کی مدد کرنا چا ہئے تاکہ مسلمان بحیثیتِ مجموعی اس کوروناکی وبا سے خود کو بچانے میں کامیاب رہیں۔ بلا شبہ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ ہے لیکن دوا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا تو عین سنّت ہے۔ کورونا ویکسین کو اسی کے تحت لگوانا چاہئے اس سے گریز صحت اور جان کیلئے تو خطرہ ہے ہی اس سے ملّت کی تصویر بھی مسخ ہوتی ہے یہ دھیان رکھنا چا ہئے ۔
٭٭٭

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS