فوج کی حمایت یافتہ حکومت کو چیلنج: ڈاکٹر برہمدیپ اپونے

0

ڈاکٹر برہمدیپ اپونے

پاکستان کے فوج کے زیرکنٹرول جمہوریت کے طور طریقوں اور آپریشن میں اتنی پیچیدگیاں ہیں کہ اس اسلامک ملک کے غیرجانبدارجمہوریت کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ہے۔ سیاسی لیڈروں کے قتل، حکومتوں کے عدم استحکام، سابق وزیراعظم سمیت بااثر شخصیات کو ملک بدر اور قانونی داؤپیچوں میں الجھانے کی سازشوں میں فوج کو عدلیہ کی بے مثال حمایت ملتی رہی ہے۔ انتظامی سسٹم کی خامیوں سے وابستہ اس ملک کے کئی علاقوں میں قبائلی اور جاگیردار لیڈروں کی اپنی متوازی حکومتیں ہیں۔ فوج، جیو اور جینے دو کی پالیسی پر چل پر جاگیرداری کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ غریبی اور بے روزگاری سے پریشان اور مہنگائی سے بے حال عام عوام کو ایک ڈور میں باندھے رکھنے کے لیے ہندوستان مخالف فوج اور سیاسی پارٹیوں کی مجبوری بن گیا ہے اور وہ اس ہتھیار کا بخوبی استعمال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ایک بار پھر یہ بدنام جمہوریت عام انتخابات کے عالمی مظاہرہ کے لیے تیار ہے۔ کوئی حکومت جمہوریت ہے یا نہیں اس کا اندازہ لگانے کے لیے آزاد اور غیرجانبدار الیکشن پر زور دیا جاتا ہے۔ اس میں مختلف شہری آزادی اور سیاسی حقوق، اظہاررائے کی آزادی، ایسوسی ایشن کی آزادی، پریس کی آزادی، رائے دہی کا حق، امیدواری کے لیے اہلیت کے عوامل اہم ہوتے ہیں۔ وہیں پاکستان کے انتخابات جمہوریت کے اصل معنی اور مقاصد کو جھٹلاتے نظر آتے ہیں۔ مذہبی سیاست، آئی ایس آئی کی سازشوں اور عدلیہ کے فوج کے مطابق فیصلوں کا اثر اس الیکشن کی سمت طے کررہا ہے۔ ملک کے سب سے مقبول لیڈر اور سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہیں تو دوسرے سابق پی ایم نوازشریف پابندیوں سے اچانک آزاد ہوکر وزارت عظمیٰ کے عہدہ کے خاص دعویدار بن گئے ہیں۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ اس کے پہلے فوجی پہرے میں ہوئے عام انتخابات میں عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کو تاریخی فتح ملی تھی۔ 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان کو پاکستان کی فوج کی بڑی حمایت حاصل تھی۔ فوج نے مکمل انتخابی نظام کو منمانے طریقہ سے چلایا۔ عدلیہ پر دباؤ بناکر نوازشریف کے الیکشن لڑنے پر ہی پابندی عائد کردی گئی۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو انہیں اپوزیشن پارٹیوں نے الیکٹڈ نہیں بلکہ سلیکٹڈکہا۔ عمران خان فوج کے دباؤ میں اس طرح کام کرتے رہے کہ داخلی معاملات سمیت خارجی معاملات میں بھی وہ ناکام ثابت ہوئے۔
دراصل پاکستان کے اقتصادی مفادات اور مختلف کاروباروں میں فوجی افسران کی بڑی حصہ داری اور ذاتی مفادات وابستہ رہے ہیں۔ پاکستان کے عام عوام مہنگائی سے بھلے ہی بے حال ہوں لیکن فوجیوں کی سہولیات سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ حکومتیں فوج کے دباؤ میں ہی ملک کا اقتصادی بجٹ طے کرتی ہے۔ ملک میں فوج اور آئی ایس آئی کی تنقید کو جرم مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں فوج کی حمایت کے بغیر نہ تو سیاسی پارٹیاں کام کرسکتی ہیں اور نہ ہی عدلیہ آزادانہ طور پرکام کرسکتی ہے۔
اس وقت پاکستان کے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ روزمرہ کی چیزوں کی بے تحاشہ بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عام عوام بے حال ہیں اور حکومت کے تئیں لوگوں کا غصہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ غیرملکی کرنسی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے، پاکستان کے پاس امپورٹ کے لیے کچھ دنوں اور کام چل جائے، بس اتنے ہی ڈالر بچے ہیں۔ کئی فیکٹریوں کا سامان پاکستان کی بندرگاہوں پر پڑا ہے، لیکن اسے چھڑانے کے لیے کاروباریوں کو بینکوں سے ڈالر نہیں مل پارہے ہیں۔ ہندوستان کا یہ پڑوسی ملک آسمان چھوتے غیرملکی قرض پر سود دینے تک کے لیے بھی جدوجہد کررہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی بدحالی کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان کا فوجی خرچ بہت زیادہ ہے۔ یہاں بنیادی ڈھانچہ پر خرچ بھی قرض کی رقم سے ہی کیا جاتا ہے۔ اس کی سبسڈی بھی ایک مسئلہ ہی ہے۔ شدت پسندوں کے بڑھتے خطرات اور بدتر اندرونی حالات کے ساتھ ہی سرحد پر بھی پاکستان کے حالات بے حد خراب ہیں۔ ہندوستان سے متعلق اس کی بدنیتی پر مبنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور کشمیر پر پاکستانی لیڈران کا زہر اگلنا بدستور جاری ہے۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں داخلی سلامتی سے متعلق بحران شدید ہوگیا ہے۔ افغانستان کے لوگ اور طالبان انگریزوں کے ذریعہ کھینچی گئی ڈورنڈ لائن کو نہیں مانتے۔ پاکستان سے افغانستان میں ڈالر کی اسمگلنگ ہورہی ہے۔ اس وجہ سے پاکستانی روپیہ مزید کمزور ہورہا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاک-افغان سرحد پر دونوں ممالک کے مابین پرتشدد جدوجہد میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں طالبان سے دوستانہ تعلقات رکھنے والی ایک شدت پسند تنظیم تحریک طالبان نے پاکستان کے کئی علاقوں میں دہشت گردانہ حملے کیے ہیں۔ پاکستان کی ایران سے طویل سرحدی لائن ہے اور اب دونوں ممالک میں بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کے حوالہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انتخابی منظرنامہ جس طرح ہندوستان کے اس پڑوسی ملک میں ہے اس سے لگتا ہے کہ نوازشریف کی پارٹی الیکشن جیت سکتی ہے اور وہ ملک کے نئے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ نوازشریف ہندوستان سے دوستانہ رشتوں کی کوششوں کے لیے جانے جاتے ہیں اور انہوں نے وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی کیا ہے۔ لیکن فوج کی حمایت سے اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو ہندوستان سے ان کے تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کامیاب ہوپائیں گی، یہ مشکل ہی نظر آتا ہے۔ پاکستان اگر ہندوستان سے تعلقات بہتر کرے تو اس کا اسے کافی بڑا اقتصادی فائدہ ہوسکتا ہے، ساتھ ہی سرحد پر امن بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے میں بھی کسی بھی حکومت پر وہاں کے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ وہیں پاکستان کی فوج اور جاگیردار طبقہ کی اجارہ داری کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے عام عوام سہولتوں اور معاشی ترقی سے دور رہیں۔ پاکستان میں چلائے جارہے کئی پروجیکٹس اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کے بڑے ٹھیکوں میں فوجی افسر یا ان کے خاندان ملوث رہتے ہیں۔ دیگر ممالک سے سامان درآمد کرکے پاکستان میں فروخت کرنے سے اس بڑے طبقہ کو فائدہ ہوتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کو نظام میں پوری طرح سے حاوی نہ ہونے دینے کو لے کر فوج الرٹ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت مشکل سے ہی اپنی مدت کار مکمل کرپاتی ہے۔ منتخب حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے فوج اپوزیشن پارٹیوں کا سہارا بھی لے لیتی ہے، ملک میں بڑے پیمانہ پر احتجاج و مظاہرے ہوتے ہیں اور فوج ملک کا داخلی امن متاثر ہونے کا خطرہ بتاکر حکومت کو بے دخل کردیتی ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی وزیراعظم فوج کے اثر کو درکنار کرکے ہندوستان سے مضبوط تعلقات کا داؤ نہیں کھیل سکتا۔ بہرحال فوج کی حمایت یافتہ حکومت ایک بار پھر پاکستان میں آنے جارہی ہے، ایسے میں ہندوستان سے تعلقات کو معمول پر لانے یا بہتر ہونے کی امید کرنا سراسر حماقت یا بے وقوفی ہی ہوسکتی ہے۔rvr

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS