2008 بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر معاملہ :پھانسی کی سزا کے خلاف عارض خان نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی

0
India TV

نئی دہلی (ایس این بی) : 2008کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹرمعاملہ میں پھانسی کی سزا پائے عارض خان عرف جنید نے اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ ساکیت کورٹ نے اسے 15مارچ کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس نے اپنی اپیل ایڈووکیٹ ایم ایس خاں کے توسط سے داخل کی ہے اور ذیلی عدالت کے فیصلہ کو بے بنیاد بتاتے ہوئے اسے رد کرنے کی مانگ کی ہے۔ اپیل میں کہا گیاہے کہ نچلی عدالت کے فیصلہ میں کئی اہم ثبوتوں کو نظرانداز کیاگیا ہے۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس نے انسپکٹر پر گولی چلائی، ساتھ ہی وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ ایسے میں نچلی عدالت کا فیصلہ رد کیا جائے۔ ساکیت کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سندیپ یادو نے اپنے فیصلہ میں اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے جنید کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس پر 11لاکھ روپے کا جرمانہ بھی لگایا تھا اور اس رقم سے شہید پولیس افسر موہن چند شرما کے رشتہ داروں کو 10لاکھ روپے دینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے عارض خان کو آئی پی سی کی دفعات 186,ۢ 333,353,302, 307, 174A اور اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 27کے تحت قصوروار قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ عدالت نے مانا تھا کہ انسپکٹر موہن چند شرما کے قتل کے پیچھے عارض کا ہاتھ تھا۔
فریق استغاثہ نے عدالت سے کہا تھا کہ جس طرح سے پولیس افسر شرما کو انکاؤنٹر کے دوران قتل کیاگیا تھا، اس سے سماج ششدر ہوگیا تھا۔ اس معاملہ کے ملزم شہزاد کو عدالت 2013 میں ہی عمرقید کی سزا دے چکی ہے۔ انکاؤنٹر کے دوران عارض اور شہزاد بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ دراصل اس انکاؤنٹر کی کہانی 13ستمبر 2008 کو دہلی کے قرول باغ، کناٹ پلیس، انڈیا گیٹ اور گریٹر کیلاش میں ہوئے سیریل بم دھمانہ سے شروع ہوتی ہے۔ اس دھماکہ میں 26لوگ مارے گئے تھے جبکہ 133افراد زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے جانچ میں پایا تھا کہ بم دھماکہ کو دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین نے کرایا تھا۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS