Image:Outlook India

نئی دہلی (ایس این بی) : جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ جس قانون کے تحت یہ گرفتاریاں ہوئی تھیں، وہ ملک کے آئین کے رہنمااصولوں کے سراسرخلاف ہے، اس لئے ہم ضمانت سے مطمئن نہیں ہیں، بلکہ ضمانت کی جگہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ عدالت یہ مقدمہ خارج کردیتی، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ عدالتی نظام کی سست رفتاری پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کسی بے گناہ کو ذاتی عنادیاتعصب کی بناپر گرفتارکرکے جیل بھیج دے تو اس کو بھی انصاف کے حصول میں مہینوں اورسالوں لگ جاتے ہیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملہ میں ملزم ٹھہرائے گئے نوجوان کے پورے خاندان کو تعصب کی بنیادپر پولیس نے گرفتارکرلیا تھا، جن میں پردہ نشیں خواتین بھی شامل تھیں ، انصاف اورقانون کا تقاضہ تویہ تھا کہ اصل ملزم کو ہی پولیس گرفتار کرتی، مگر اس نے فرقہ پرست طاقتوں کے دباؤمیں ان لوگوں کو ہی گرفتارکرلیا، جن کا کوئی جرم نہیں تھا ۔ سوال یہ ہے کہ پولیس نے مذکورہ خاندان کے ساتھ، جو توہین آمیزسلوک کیا، اس کی تلافی کس طرح ہوگی ؟ کیا یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ نہیں ہے ؟کیا یہ معززعدالت کا فرض نہیں تھا کہ وہ پولیس کو اس کیلئے سرزنش کرتی، تاکہ آئندہ کیلئے یہ بات ایک نظیر بن جاتی اور پھر پولیس کسی بے گناہ کو اس طرح ذلیل کرنے کا حوصلہ نہ کرپاتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان کی رہائی کے احکامات تب جاری کئے، جب لڑکی یہ بیان دے چکی ہے کہ اسے کسی نے نہیں بھگایا، بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس تعصب پر مبنی آئین مخالف قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑرہے ہیں۔ درمیان میں عدالتوں کے ذریعہ ریاستی سرکارکو نہ صرف لتاڑاگیا، بلکہ اس سے حلف نامہ داخل کرنے کو بھی کہا گیا، مگر اس کے باوجود تبدیلی مذہب روکنے والے اس آرڈیننس پر اب ریاستی گورنرسے بھی دستخط کرالیا گیا ہے ، اب تک اس نئے قانون کے تحت جتنی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور خودریاستی حکومت نے عدالت کو جو اعدادوشمارپیش کئے ہیں، اس کے مطابق ان گرفتاریوں میں 99فیصدمسلمان ہیں۔ یہ بات ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ قانون مسلم نوجوانوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی غرض سے ہی لایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS