راجہ مہندر پرتاپ سنگھ پرحق جتانے کی کوشش

0

اگلے چند مہینوں میں اتر پردیش میں انتخابات ہونے ہیں اور رسمی اعلان سے پہلے ہی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ووٹ بینک کو سنبھالنے اور بڑھانے میں مصروف ہیں۔بی جے پی کو اس بار یہاں سخت چیلنج کا سامنا ہے۔اس انتخاب میں جہاں اتر پردیش کے عوام کورونا بحران میں بی جے پی حکومت کی بدا نتظامی کا حساب لینے والے ہیں، وہیں زرعی قوانین سے ناراض کسانوں کو بھی رام کرنے کا ٹیڑھا مسئلہ حکومت کیلئے سوہان روح بنا ہوا ہے۔ان سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی حکومت مذہب اور قوم پرستی کی آڑ لے رہی ہے۔ پارٹی کے شعلہ بیان لیڈر اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ تو اپنا کام کرہی رہے ہیںکبھی اباجان کا ذکر کرکے ایک مخصوص فرقہ کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں تو کبھی سیاست دانوں اور ان کے اہل خانہ کی جائیداد ضبط کررہے ہیںاور کبھی شہروں اور اضلاع کا نام بدل کرکے ’ہندوستانی ثقافت کو نئی زندگی‘ دے رہے ہیں۔
اسی درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اترپردیش انتخاب کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔کل منگل کو وزیراعظم نریندر مودی اترپردیش کے علی گڑھ پہنچ گئے جہاں انہوں نے راجہ مہندر پرتاپ سنگھ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا۔اگر چہ اس یونیورسٹی کا اعلان وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 2019کے ضمنی انتخاب کے دوران ہی کردیاتھا لیکن اس کا سنگ بنیاد اب جاکر رکھاگیا ہے۔اس یونیورسٹی کے بہانے بی جے پی اترپردیش میں بھاری اکثریت رکھنے والی جاٹ برادری کو اپنے ساتھ کرنے کی کوشش کررہی ہے کیوںکہ راجہ مہندر پرتاپ کا تعلق بھی جاٹ برادری سے ہی تھا۔مغربی اترپردیش کے سیاسی مساوات میں جاٹ برادری اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پوری ریاست میں اس برادری کی آبادی7سے8فیصد ہے لیکن مغربی اترپردیش جس کے ضلع علی گڑھ میں یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھاگیا ہے، جاٹوںکی آبادی تقریباً20فیصد ہے۔زرعی قوانین سے ناراض کسانوں کا تعلق بھی جاٹ برادری سے ہی ہے اورگزشتہ دنوں کسان مہاپنچایت کے ذریعہ انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے بی جے پی کو تشویش میں ڈال رکھا ہے۔اس لیے بی جے پی انتخاب سے قبل ہی جاٹ برادری کے ووٹو ں کو یقینی بنانے کیلئے ایسے اقدامات اور ماحول سازی کررہی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اس موقع پر جو تقریر کی وہ بھی جاٹوں کو ہموار کرنے کی کوشش ہی تھی۔ اس کوشش میں انہوں نے علی گڑھ سے بھی اپنا رشتہ جوڑ لیا۔ علی گڑھ کے مشہور تالوں کا ذکر کرتے ہوئے مودی جی نے لوگو ں کو اپنے بچپن کی ایک کہانی بھی سنادی۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ کا ایک مسلمان تالے بیچنے کیلئے ان کے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں آتا تھا اور ان کے والد سے ان کی اچھی دوستی تھی۔ وہ اکثر اپنے پیسے مودی جی کے والد کے پاس رکھتا تھا اور بعد میں اسے واپس لے لیاکرتاتھا۔اس طرح ان کا علی گڑھ سے بہت پرانا رشتہ ہے۔انہوں نے کہا کہ علی گڑھ جو اپنے تالے کے ذریعہ گھرو ں کی حفاظت کرتاہے یہ یونیورسٹی شروع ہوجانے کے بعد اب پورے ملک کی حفاظت کرے گا۔اسی تسلسل میں انہوں نے راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کو نظرا نداز کرنے کا بھی الزام لگایا اوران کے ساتھ سابقہ حکومتوں بالخصوص کانگریس کی مبینہ ناانصافی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ ایسے عظیم رہنمائوں کی قربانی سے اگلی نسلوں کو واقف ہی نہیں کرایاگیا جنہوں نے ملک کی آزادی کیلئے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا۔وزیراعظم نے کہا کہ 20ویں صدی کی ان غلطیوں کو بی جے پی حکومت 21 ویں صدی میں سدھار رہی ہے۔
وزیراعظم کے اس بیان کو ایک اور مجاہد آزادی و عظیم شخصیت پر بی جے پی کا حق جتانے کی کوشش کے طور پر ہی دیکھا جارہاہے۔ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ جنگ آزادی کے عظیم مجاہدین میں سے تھے۔سیاسی اعتبار سے ان کا جھکائو بائیں بازوکی طرف تھا اور وہ انقلابی نظریات کے حامل ایسے عظیم مصلح ہندوستانی تھے جنہوں نے کبھی ہندو مسلمان کی تفریق نہیں کی۔جنگ عظیم اول کے دوران انہوں نے جب اپنی صدارت میں یکم دسمبر1915کو ہندوستان کی آزادی کیلئے افغانستان میں جلا وطن حکومت قائم کی تو مولوی برکت اللہ بھوپالی کو وزیراعظم اور مولانا عبیدا للہ سندھی کو وزیر داخلہ بنایاتھا۔ایک انقلابی کی حیثیت سے ان کے اچھے تعلقات لینن سے بھی تھے جنہوں نے انہیں روس مدعو کیاتھا۔
جب وزیراعظم مودی ایسے عظیم مجاہد آزادی پرا پنا حق و اختیار جتاتے ہوئے ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کا ازالہ اور 20 ویں صدی کی غلطی کی اصلاح 21ویں صدی میں کررہے ہیں تو انہیں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کی ان خوبیوں کا بھی احترام کرنا چاہیے اورعلی گڑھ کے مسلما نوں سے اپنے والد کی دوستی او ر اعتماد کے رشتہ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ورنہ اسے اصلاح او ر سدھار کے بجائے سیاسی موقع پرستی اورپولرائزیشن کی کوشش سمجھنا غلط نہیں ہوگا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS