مہنگے خوردنی تیل کا بحران

0

جینتی لال بھنڈاری

ان دنوں مہنگے خوردنی تیلوں نے نہ صرف غریب طبقہ بلکہ متوسط طبقہ کے کنبوں کے کچن بجٹ کو بھی بگاڑ دیا ہے۔ ملک میں خوردنی تیلوں کے لیے خاص طور پر پام، سرسوں اور مونگ پھلی تیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ہم گزشتہ ایک برس میں خوردنی تیلوں کی ریٹیل قیمتوں کو دیکھیں تو گزشتہ ایک برس میں سبھی تیلوں کی قیمتوں میں اوسطاً تقریباً 60فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے خوردنی تیلوں کی قیمت کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کے تحت درآمد شدہ خوردنی تیلوں پر امپورٹ ڈیوٹی میں کمی سمیت دیگر سبھی ٹیکسوں میں رعایتیں دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی بازار میں پامولین اور سویابین کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کے مقابلہ میں ہندوستان میں ان کی قیمتوں میں کم اضافہ درج کیا گیا۔ خوردنی تیلوں کی بڑھتی قیمتیں اور نامناسب تلہن کی پیداوار ملک کے تکلیف دہ معاشی چیلنج کے طور پر ابھر کر آیا ہے۔
حالاں کہ اس وقت ہندوستان میں اناج بھنڈار بھرے ہوئے ہیں۔ ملک گیہوں، چاول اور چینی کی پیداوار میں خودکفیل ہے اور ان کی برآمد میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ لیکن تلہن کے معاملہ میں ہم اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے لائق پیداوار بھی نہیں کرپارہے ہیں۔ ملک میں گزشتہ تین دہائی سے خوردنی تیلوں کی کمی پڑرہی ہے۔ اسے دور کرنے کے لیے گھریلو تلہن کی پیداوار بڑھانے کے لیے کئی کوششیں کی گئیں۔ حالاں کہ تلہن کی پیداوار بڑھانے میں ’پیلی کرانتی‘ نے اہم رول ادا کیا تھا، لیکن کوئی خاص کامیابی نہیں مل پائی۔ ہرا انقلاب کے تحت جس طرح سے دھان-گندم کے بیجوں پر کام ہوا، ویسا کام تلہن کے شعبہ میں کم ہوا۔ نتیجتاً ملک تلہن کی پیداوار میں پیچھے ہوتا چلا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک میں ضرورت کے مطابق تلہن کی پیداوار نہیں بڑھنے سے خوردنی تیلوں کی پیداوار پر اثر پڑا۔ تلہن کی کھپت کے مقابلہ میں پیداوار کم ہونے سے خوردنی تیلوں کی درآمد پر ہندوستان کا انحصار مسلسل بڑھتا گیا۔ 1990کے آس پاس ملک خوردنی تیلوں کے معاملہ میں تقریباً خودکفیل تھا۔ پھر خوردنی تیلوں کی درآمد پر ملک کا انحصار آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور اس وقت یہ تشویشناک سطح پر ہے۔ اس وقت ہندوستان اپنی ضرورت کے تقریباً 60فیصد خوردنی تیلوں کی درآمد کرتا ہے۔ چوں کہ خوردنی تیلوں کی گھریلو پیداوار ضرورت کی تکمیل کے لیے تقریباً چالیس فیصد ہے، اس لیے یہ ناکافی تلہن کی پیداوار بازار میں خوردنی تیل کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرپاتی۔ نتیجتاً خوردنی تیل کا بین الاقوامی بازار ملک میں خوردنی تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ کئی ممالک کے حیاتیاتی ایندھن کی پالیسیاں(Biofuel Policies) بھی خوردنی تیلوں کی مہنگائی کا سبب بن گئی ہیں۔ مثال کے لیے ہندوستان کو پام آئل کی برآمد کرنے والے ملیشیا اور انڈونیشیا میں پام آئل سے حیاتیاتی ایندھن اور امریکہ میں سویابین کے تیل سے ایندھن کی پیداوار کی جارہی ہے۔ چین کی بڑی کمپنیاں بھی عالمی بازار میں بڑے پیمانہ پر خوردنی تیل کی خریداری کررہی ہیں۔ ہندوستان میں جہاں پام آئل کی حصہ داری 30فیصد سے زیادہ ہے، وہیں سویابین کے تیل کی حصہ داری تقریباً 22فیصد ہے۔ ایسے میں خوردنی تیل کی بین الاقوامی بازار میں قیمتوں میں تبدیلی کا اثر خوردنی تیل کی گھریلو قیمت پر تیزی سے پڑتا ہے۔ گزشتہ ایک برس میں تو ہندوستان میں خوردنی تیلوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہندوستان کو سالانہ تقریباً 65سے 70ہزار کروڑ روپے کا خوردنی تیل درآمد کرنا پڑرہا ہے۔ اتنی بڑی غیرملکی کرنسی ہر برس انڈونیشیا، ملیشیا، برازیل اور امریکہ وغیرہ ممالک کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔ ہندوستان خوردنی تیلوں کی درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔
گزشتہ کچھ برسوں میں ملک میں تلہن کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کئی قدم اٹھائے گئے ہیں۔ لیکن تلہن کی پیداوار میں ملک کو خودکفیل بنانے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہے۔ گزشتہ ماہ مرکزی حکومت نے پام کے تیل کے لیے 11,040کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ نیشنل مشن آن آئل سیڈس اینڈ آئل پام (National Mission on Edible Oil-Oil Palm (NMEO-OP)) (این ایم ای او-اوپی) کومنظوری دی۔ اس کا مقصد ملک میں ہی خوردنی تیلوں کی پیداوار میں تیزی لانا ہے۔ اس کے لیے پام آئل کا رقبہ اور پیداوار بڑھانے کے اہداف کو یقینی بنایا گیا ہے۔ پام کی کھیتی کے لیے تعاون میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے فی ہیکٹیئر 12ہزار روپے دیے جاتے تھے، جسے بڑھا کر 29ہزار روپے فی ہیکٹیئر کردیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 2025-26 تک پام آئل کا رقبہ ساڑھے 6لاکھ ہیکٹیئر بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی کچے پام آئل کی پیداوار 2025-26

اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جب تک ملک میں تلہن کی پیداوار میں ہدف کے مطابق امید افزا اضافہ نہیں کیا جائے گا اور تلہن کی فائدہ مند قیمت نہیں ملے گی، تب تک نہ تو تلہن پیدا کرنے والے کسانوں کے چہرے پر مسکراہٹ آئے گی اور نہ ہی خوردنی تیل صارفین کو راحت ملے گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی خوردنی تیل بازار کے تازہ رُخ اور تلہن کی نئی فصل آنے کے بعد اس سال دسمبر سے گھریلو بازار میں خوردنی تیل کی قیمتیں آہستہ آہستہ کم ہونی شروع ہوںگی۔

تک 11.20لاکھ ٹن اور 2029-30تک 28لاکھ ٹن تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ اب خوردنی تیل مشن کے تحت تلہن کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے پروڈیوسروں کو ضروری کچا مال، تکنیک اور معلومات بآسانی دستیاب کرائی جائیں گی۔ اسی خریف کے موسم میں کسانوں کو مونگ پھلی اور سویابین سمیت مختلف تلہن کی فصلوں کی زیادہ پیداوار والے اور بیماری و جراثیم سے بچاؤ کی صلاحیت رکھنے والے بیجوں کے کٹ مہیا کرائے جائیں گے۔ تلہن کی فصلوں کی آرگینک اور ان آرگینک اقسام کی ترقی اور پیداوار میں اضافہ کے لیے تلہن کی فصلوں میں عوامی تحقیق کے اخراجات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ تلہن کی فصلوں کے لیے اہم ماحولیاتی علاقوں میں کھاد، جراثیم کش، قرض کی سہولت، فصل انشورنس اور توسیع کی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔ بین الاقوامی بازار میں غیرمناسب مقابلہ سے بچنے کے لیے مناسب حفاظتی طریقوں کو اپنایا جانا چاہیے۔
خوردنی تیلوں کا بحران دور کرنے کے لیے غیرروایتی ذرائع سے بھی اچھی کوالٹی والا خوردنی تیل نکالنے کی سمت میں کام کرنا ہوگا۔ ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن چاول کے بہت کم حصہ کا استعمال تیل(رائس بران آئل) نکالنے میں کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بنولے(کاٹن سیڈ) کو بڑی مقدار میں بغیر تیل نکالے ہی مویشیوں کے چارے کی شکل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے میں نئے نیشنل آئل سیڈس مشن کے تحت رائس بران آئل اور کاٹن سیڈ آئل کو بڑھانے سے متعلق پہلوؤں پر توجہ دی جانی مناسب ہوگی۔
یہ قابل غور سوال ہے کہ جب ملک کے زرعی شعبہ سے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل تعاون میں اضافہ ہورہا ہے اور مسلسل زرعی برآمد میں اضافہ ہورہا ہے، تب تلہن کی پیداوار میں افسوسناک صورت حال برقرار ہے۔ واضح ہو کہ زراعت ہی واحد ایسا شعبہ رہا ہے جس میں 3برسوں کی پہلی سہ ماہی میں مسلسل شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر تلہن کی پیداوار میں اچھا اضافہ ہوگا تو زراعت جی ڈی پی میں مزید اضافہ نظر آئے گا۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جب تک ملک میں تلہن کی پیداوار میں ہدف کے مطابق امیدافزا اضافہ نہیں کیا جائے گا اور تلہن کی فائدہ مند قیمت نہیں ملے گی، تب تک نہ تو تلہن پیدا کرنے والے کسانوں کے چہرے پر مسکراہٹ آئے گی اور نہ ہی خوردنی تیل صارفین کو راحت ملے گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ عالمی خوردنی تیل بازار کے تازہ رُخ اور تلہن کی نئی فصل آنے کے بعد اس سال دسمبر سے گھریلو بازار میں خوردنی تیل کی قیمتیں آہستہ آہستہ کم ہونی شروع ہوںگی۔
(بشکریہ: جن ستّا)

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS