ڈوبھال کی روسی ہم منصب سے ملاقات، افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں تبادلہ خیال

0
Image:PTI

نئی دہلی/ کابل (ایجنسیاں) :ہندوستان پڑوسی ملک افغانستان میں بڑے پیمانے پر ہورہے تشدد کے درمیان جنگ بندی پر زور دے رہا ہے۔ ساتھ ہی ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ ہندوستان نے افغانستان میں امن کیلئے پہلی بار طالبان سے بھی رابطہ کیا ہے۔ دراصل 11ستمبر تک امریکہ اپنی فوج کو افغانستان سے پوری طرح ہٹا لے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے واپسی کے بعد طالبان ایک مرتبہ پھر طاقتور ہوجائیں گے۔ اسی کے پیش نظر ہندوستان نے طالبان سے رابطہ کیا ہے۔
دوسری جانب قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران اپنے روسی ہم منصب سے افغانستان ، بحر الکاہل خطوں اور انسداد دہشت گردی اور سلامتی کے موضوعات پر بات چیت کی۔ذرائع کے مطابق مسٹر ڈوبھال نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر روسی قومی سلامتی کے مشیر نیکولائی پٹروشیف سے علیحدہ طویل ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر ڈوبھال نے ہند- بحر الکاہل کے خطے میں ہندوستان ، امریکہ ، جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان چوطرفہ اتحاد کے بارے میں مسٹر پیٹرشیف کے کچھ خدشات پر ہندوستان کے مؤقف کی وضاحت کی۔ ذرائع کے مطابق مسٹر ڈوبھال نے جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے خاتمے اور سلامتی سے متعلق تعاون کے سلسلے میں ہندوستان کا رخ پیش کیا۔ دونوں اعلیٰ عہدیداروں نے سلامتی کے تناظر میں ہندوستان اور روس اور ان کی سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان تعاون کے بارے میں مزید بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ ماحول میں اس ملاقات کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔مسٹر ڈوبھال نے گزشتہ روز یہاں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی، جس میں انہوں نے افغانستان میں گزشتہ 2 دہائیوں میں کی جانے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور عوام کی فلاح و بہبود کو اوّلین ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایس سی او میں افغانستان سے متعلق رابطہ گروپ کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر نے دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد اور اقوام متحدہ کے کالعدم دہشت گرد تنظیموں اور افراد کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسلحہ کی غیرقانونی اسمگلنگ اور ڈارک ویب ، مصنوعی ذہانت ، بلاک چین اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو دہشت گردوں کے ذریعہ نئی ٹکنالوجی خصوصاً ڈرونز کے استعمال کی نگرانی اور روک تھام کی ضرورت کا اظہار کیا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here