اعداد کے پیچوں میں الجھتے نہیں نوجوان

0

محمد حنیف خان

ایسی ترقی اور اعلیٰ معیشت جس کی بنیاد نوجوانوں کے خواب، جذبات اور ہندستان کے مستقبل کی لاش پر ہو، ملک کو ضرورت نہیں ہے۔ہندوستان اس وقت دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن چکا ہے،ہر طرف بغلیں بجائی جا رہی ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ 2014میں جب وزیراعظم نریندر مودی نے عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت ہندوستان دنیا کی ساتویں معیشت تھی لیکن ان کی محنتوں اور منصوبہ سازی کی وجہ سے اب وہ تیسری معیشت بن چکا ہے۔لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اس تیسری بڑی معیشت ہونے کا عوام کو فائدہ کیا ملا؟ کیا ان کی طرز زندگی میں کچھ بدلاؤ آگیا؟ کیاخوشحالی ان کا مقدر بن گئی؟کیاہر شخص پیٹ بھر کے کھانا کھانے لگا؟کیا بچوں کی تعلیم میں آسانی پیدا ہوگئی؟کیا نوجوانوں کو پڑھنے اور آگے بڑھنے کے وسائل میں اضافہ ہوگیا؟کیا ان کی بے روزگاری کا خاتمہ ہوگیا؟عوام کو ضرورت کی ہر شے مہیا ہوگئی؟آسان اور سستا علاج ان کو ملنے لگا؟یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو فوراً ذہن میں آتے ہیں۔ان پر اگر غور کیا جائے تو ہر سوال کا جواب نفی میں ملے گا۔
اگر مہنگائی اور بنیادی ڈھانچے کی بات کی جائے جو عوام کی سب سے اہم ضرورت اور ان کی خوشحالی کی بنیاد ہے تو پتہ چلے گا کہ صرف مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔جو گیس سلنڈر چار سو روپے کا ملتا تھا اب وہ گیارہ سو روپے کا ہوگیا اور ڈیزل پٹرول جو پینسٹھ روپے میں تھا وہ سو پار کر گیا ہے۔روپے کی قدر میں گراوٹ آگئی ہے اور وہ امریکی ڈالر کے مقابلے 80روپے تجاوز کرگیا ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں ضرور اضافہ ہوا ہے لیکن علاج آج بھی عوام کے لیے بہت مشکل ہے۔سستا علاج تو عنقا ہوتا جا رہا ہے۔دواؤں کی قیمتوں میں اس قدر بد عنوانی ہے کہ جس ٹیبلٹ کی قیمت محض دس روپے ہے، اس پر ایک 110روپے درج ہیں اور میڈیکل اسٹور اسی قیمت پر انہیں فروخت کر رہے ہیں، کوئی سوال و جواب نہیں کرنے والا ہے۔
سرکاری اسکولوں کا ڈھانچہ آج بھی وہی پرانا ہے،ان کانظام تعلیم آج بھی اس طرح ہے کہ سرکاری افسران کو تو چھوڑیئے جو لوگ بھی خوشحال ہیں،ان کے بچے ان اسکولوں میں پڑھنے نہیں جاتے۔خود ان اسکولوں میںپڑھانے والے اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میںتعلیم دلاتے ہیں۔بس وقت کاپہیہ چل رہا ہے اور زندگی کی گاڑی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔نہ تو بنیادی مسائل حل ہو رہے ہیں اور نہ ہی زندگی میں تبدیلی آ رہی ہے اور جو تبدیلی آ رہی ہے وہ پوری دنیا کی تبدیلی کے ضمن میں آرہی ہے، اس لیے اس کو ملک کی معیشت میں اضافے سے جوڑ کر بالکل نہیں دیکھا جا نا چاہیے۔
کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم خوبصورت مستقبل کا ضامن ہوتی ہے۔آج جب ملک تیسری بڑی معیشت بن چکا ہے اور دوسری طرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان تعلیم گاہوں میں فیس میں اضافہ کے خلاف مظاہرہ اور ’امرن انشن‘ کرتے ہیں تو اس معیشت کی قلعی بھی کھل جاتی ہے اور ان سیاست دانوں کی ہوا بھی نکل جاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حکومت کی مسلسل محنت کی وجہ سے آج ہندوستان کا سر فخر سے اونچا ہوگیاکیونکہ اب ہم تیسری سب سے بڑی معیشت بن چکے ہیں۔
معیشت کا براہ راست تعلق انسان کی خوشحالی اور اس کی بدحالی سے ہے۔اگر واقعی ملک معاشی اعتبار سے اتنا ترقی کر چکا ہے تو اس کے اثرات بھی عوام پر دکھائی دینے چاہیے مگر یہاں تو بالکل اس کے برعکس نظر آ رہا ہے کہ نوجوان اپنے تعلیمی امور کو نہیں انجام دے پا رہے ہیں،جن طلبا کو کلاس روم میں ہونا چاہیے وہ سڑکوں پر ہیں اور حکومت و انتظامیہ تیسری بڑی معیشت کا جشن منا رہی ہے۔ملک کا مستقبل نوجوان در در ٹھوکریں کھا رہا ہے، اس کے پاس ملازمت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، وہ مستقبل کی تاریکی کو دیکھ کر زندگی کو تاریکیوں کی نذر کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے اور حکومت بڑی معیشت ہونے کے جشن میں مصروف ہے۔
الٰہ آباد یونیورسٹی ملک کی اہم یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے ،جہاں کئی گنا فیس میں اضافہ کر دیا گیا ہے،طلبا سڑکوں پر ہیں لیکن حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔یہ صرف ایک یونیورسٹی کا معاملہ نہیں ہے ہر یونیورسٹی میں فیس میں اضافہ ہوا ہے۔کیا حکومت تعلیم کی اہمیت کو نہیں تسلیم کرتی ہے ؟کیا وہ ریسرچ کو فوقیت نہیں دیتی ہے؟اس کو نہیں معلوم ہے کہ طلبا پر سکون ہو کر ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور ملک کے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں؟اس کو سب معلوم ہے، اس کے باوجود وہ اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے وہ تو اعداد کے پیچوں میں الجھی ہوئی ہے،اس کو یہ دکھائی دے رہا ہے کہ اعداد میں تبدیلی کی وجہ سے اب ہماری معیشت دنیا کی اہم معیشت بن چکی ہے لیکن اس کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ نوجوان اعداد کے پیچوں میں نہیں الجھتے ہیں بلکہ وہ تعلیمی امور کی انجام دہی میں آسانی کو ہی خوشحالی کا معیار تصور کرتے ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ جب فیس کم ہوگی اور وہ اور ان کے والدین اس کی ادائیگی آسانی سے کرسکیں گے تو علائق دنیا سے الگ ہو کر وہ سکون سے تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ وہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نہیں نکلے، وہ اس لیے مظاہرے کر رہے ہیں کہ فیس میں اضافہ نے ان کی تعلیم میں خلل ڈال دیا ہے،ان کا مستقبل تاریک ہونے لگا ہے کیونکہ اضافہ شدہ فیس کے انتظام میں نہ صرف ان کا وقت برباد ہورہا ہے بلکہ ان کا ذہنی سکون بھی غارت ہو رہا ہے۔اس لیے وہ سڑکوں پر آگئے۔
مناسب بات تو یہ تھی کہ حکومت تعلیم کے باب میں پوری طرح سے نوجوانوں کو آزاد کردیتی۔اسکولی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک سب مفت میں مہیا کراتی کیونکہ یہ صرف ان کی بنیادی ضرورت نہیں بلکہ ملک کی بنیادی ضرورت ہے لیکن اگر اتنا بوجھ وہ برداشت نہیں کر سکتی ہے تو کم از کم طلبا کو تو اپنی آمدنی کا ذریعہ نہ بنائے، ان کی فیس سے تو اپنے خزانے بھرنے کی کوشش نہ کرے۔تعلیم ہی ہماری ترقی کی بنیاد ہے، اسی سے نوجوانوں اور ملک کا مستقبل وابستہ ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں فیس بالکل واجبی سی رکھی جائے جسے معاشرے کا ہر فرد ادا کرسکے۔ حکومت کو یہ معلوم ہی ہے کہ اس کے ملک کے عوام کی کیا حالت ہے۔اگر 80کروڑ افراد حکومت کے اناج پر پل رہے ہیں اور خود حکومت یہ اعداد و شمار جاری کرتی ہے تو بھلا فیس میں سو گنا اضافے کو وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں اور پھر اس ملک کی معیشت اگر پہلے نمبر پر آجائے تو اس سے ان پر کیا فرق پڑنے والا ہے اور نوجوان تو یوں بھی اعداد کے پیچوں میں نہیں پڑتے ہیں وہ تو بس سکون سے پڑھنا چاہتے ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اس میں رکاوٹ پر وہ سڑکوں پر بھی آجاتے ہیں، اس لیے حکومت کو انہیں ایسا ماحول مہیا کرانا چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم گاہوں کے کلاس روم تک ہی رہیں، باہر نہ نکلیں ورنہ نہ صرف نظم و نسق خراب ہوگا بلکہ ملک کا مستقبل بھی ان ہی سڑکوں پر روند جائے گا۔
[email protected]