عالمی طاقتوں کا رخ اب افریقہ کی طرف

0

یوکرین بحران کا اثر محض یوروپ اور امریکہ پر ہی نہیں مغربی ایشیا اور افریقہ پر بھی پڑا ہے۔ روس اور یوکرین غذائی پیداوار کرنے والے اہم ملک ہیں۔ یوکرین مغربی ایشیا کے بہت سارے ملکوں کو گیہوں کھانے کا تیل اور دیگر غذائی اجناس فراہم کرتا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے دونوں خطوں میں غذائی بحران پیدا ہوگیا ہے اور اب دونوں فریق روس اور امریکہ اس صورت حال کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اس دوران روس نے مغربی ایشیا کے بعد افریقہ کے کئی ملکوں کے لیڈروں سے ملاقات کی اور مغربی ممالک کے خلاف ایک اہم محاذ کھڑا کرنے اور موجودہ حلیف کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش شروع کردی ہے ۔ وزیر خارجہ روس سر گئی لیورو پرانے مراسم کی تجدید کرنے اور سوویت یونین کے دور روابط کو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔
افریقہ کے بہت سے ملکوں نے اسی بحران میں کافی حد تک غیر جانبدارانہ رول ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ملکوں سے افریقی ممالک توانائی اور غذائی ضروریات پوری کررہے ہیں۔ بہت سے مغربی ملکوں سے افریقی ممالک مدد حاصل کرتے ہیں اور کئی تو اسی مدد پر منحصر ہیں۔ فرانس اس خطے پر اچھا خاصا کنٹرو ل رکھتا ہے۔ اسی لیے اب فرانس صدر کیمرون ، بیٹن اینڈ گنیا لیسائو کا دورہ کرنے والے ہیں۔ امریکہ نے افریقی ممالک پر خود توجہ دی ہے امریکی خصوصی ایلچی برائے قرن افریقہ مائیک ہیمرMike Hammerمصر اور ایتھوپیا کا قصد کیے ہوئے ہیں۔
روس کے وزیر خارجہ جو کہ ویلادیمر پوتن کے بہت معتمد ہیں، ایتھوپیا کانگوں اور یوگانڈا جارہے ہیں۔ افریقی یونین کے سفارتی ذرائع مغربی ممالک کے عطیہ دہندگان کے ساتھ ملاقات کررہے ہیں۔ ایتھوپیا کے اندرونی حالات مستحکم نہیں ہیں اور علیحدگی پسندی کی تحریکوں کو کچھ مغربی ممالک کی حمایت مل رہی ہے جبکہ ایتھوپیاکی موجودہ قیادت نے روس سے مدد لینی شروع کردی ہے۔ روس کے صدر نے جمہوریہ کا نگو کے صدر دینس ساسور نگسوں سے ملاقات کی۔
جمہوریہ کانگو فرانس کی کالونی رہ چکا ہے اور تیل کی پیداوار ملک ہونے کی وجہ سے اس کی کافی اہمیت ہے۔ کانگو کے صدر 1979سے اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں وہ صرف پانچ سال کی مدت ہی میں اقتدار میں نہیں رہ پائے ہیں۔ ایک اور ملک یوگانڈا میں صدریویری موئسوینی 36سال سے اقتدار میں ہیں۔ ان کا جھکائو روس کی طرف ہے موئسوینی اقتدار اپنے بیٹے کو منتقل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اس لیے ان کو روس کی اخلاقی اور دیگر حمایت درکار ہے۔ ان کے بیٹے مہوزی کینروگابا Muhoozi Kainerugabaروس صدر کی شان میں زمین وآسمان کی قلابیں ملا چکے ہیں اور یوکرین کے معاملہ پر انہوںنے جم کر تعریف کی ہے۔ پوتن کی تعریف کرنا یوگانڈا کی مجبوری بھی ہے۔ یوگانڈا گزشتہ چالیس سال میں سب سے زیادہ قحط سالی کا شکار ہے اور اس بحران نے اس کے مسائل کو اور سنگین بنا دیا ہے۔