کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی؟

………عالمی سیاست میں ہلچل………

0

شاہنواز احمد صدیقی
یوکرین پر روس کے غیر متوقع جملے کے بعد سیاست میں زبردست اتار چڑھائو دیکھے جا رہے ہیں ، مغربی ممالک ، روس کے اتحادی یوروپ کے علاوہ دنیا کے مختلف خطوں کا دورہ کرہے ہیں، پچھلے دنوں روس کے صدر بلادیمیرپوتن نے مغربی ایشیا کا دورہ کیا اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے خلیج کے کئی لیڈروں سے ملاقات کی۔ جی سی سی پلس 3 میں شرکت کرکے نبض ٹٹولنے کی کوشش کی، امریکی صدر نے اسرائیل اور فلسطین قیادت سے بھی ملاقات کی، اس ملاقات سے پہلے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بھی اپنے پڑوسی حلیف ملکوں اردن و مصر کا دورہ کیا، اور پھر ترکی گئے، ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھی سعودی عرب کا دورہ کر کے عالمی سیاست میں اپنے ملک اور دیگرہم خیال ملکوں کے ساتھ راہ رسم بڑھانے اور آپسی تعاون اور تال میل بڑھانے کے اشارے دئیے اور اب فی الوقت سعودی عرب کے ولی عہد کچھ اہم ملکوں کے دورے پر نکلے ہیں۔ وہ یوروپ کے اہم ملک اور سیکوریٹی کونسل کے مستقل ممبر فرانس کے دورے پر نکلے ہوئے ہیں اور یوروپی ملکوں کے قیادت کے ساتھ تال میل بڑھا رہے ہیں۔ اس سے قبل کے دورے میں انہوں نے یونان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ہے۔ دراصل یہ ہنگامی سفارتی سرگرمیاں دنیا میں نئے سیاسی نظام کی طرف پیش قدمی کا اشارہ کر رہے ہیں۔ روسی اور امریکی قیادت والے ناٹو و مغربی ممالک آج کے بدلے ہوئے سیاسی تناظر میں اپنے اپنے بلاک میں زیادہ سے زیادہ خطوں کے ممالک اور اہم طاقتور وںکو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی میں روس بھی افریقہ کے کئی ملکوں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس خطہ پر اگر چہ ایک عرصہ تک یوروپی ملکوں کی اجارہ داری رہی ہے اور امریکہ ان یوروپی ممالک کو ہر قسم کی عسکری سفارتی اور اخلاقی مدد فراہم کرتا رہا ہے مگر اب روس اور ترکی نے بھی کئی اہم علاقوں میں اپنے فوجی اڈے بنا لیے ہیں (بطور خاص لیبیا میں) اور وہ پورے خطے میں جہاں جہاں مغربی ممالک کی بالادستی رہی ہے، ان کو چیلنج دے رہا ہے، ان صفحات میں اس سے قبل کئی مرتبہ روشنی ڈالی گئی کہ افریقہ کے کئی ممالک لیبیا ، ایتھوپیا، مالے، الجیریا وغیرہ میں روس نے اپنے فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے اور کئی ملکوں میں فوجی اڈے قائم کر لیے ہیں جہاں سے وہ قرب و جوار میں بھی نگرانی بنا ئے ہوئے ہے اور ادسترس قائم کر چکا ہے۔
آج دنیا میں سیاست کا محور نظریات یا آئیڈیالوجی نہیں بلکہ خالص تجارتی مفادات اور پورے طریقہ سے توانائی کے سیکٹر میں بالادستی قائم کرنے کی ہوڑ ہے۔ توانائی تجارتی اور اقتصادی ترقی کے لیے لازم و ملزوم ہے ، دنیا نے بہت پہلے ہی اس توانائی کے ہتھیار کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھ لیا تھا۔ وہ ممالک جو توانائی سے مالا مال ہیں انہوں نے نہ صرف اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ان وسائل کا استعمال کریا ہے بلکہ اب اس دولت کے سہارے وہ عالمی سیاست میں اپنے رول بڑھارہے ہیں ، اس میں سعودی عرب اور اس کے ارد گرد کے ممال بطور خاص شامل ہیں۔ یوکرین پر روس کے حملہ نے پردے کے پیچھے چلنے والی اس جدوجہد اور کشمکش کو پوری طرح طشت ازبام کر دیا ہے۔
روس کی فوجی جارحیت کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا۔ روس پر مغرب کی اقتصادی پابندیوں نے صورت حال کو مزید خراب کردیا، روس نے مغرب یوروپ کو اپنی قدرتی گیس اور پٹرولیم کی سپلائی پر روک لگا دی ، اس سے براہ راست اثر جرمنی جیسے ممالک پر پڑا جو کافی حد تک روس کی سپلائی پر منحصر تھے۔ روس پر انحصار کی وجہ سے کئی ممالک نے یوروپی یونین اور ناٹو کی ممبر شپ کے باوجود روس کا ساتھ دیا ، اس میں ہنگری اور بیلاروس قابل ذکر ہیں۔ اس پورے بحران اور اس سے قبل مہاجرین کے معاملہ پر بیلاروس کی روس کو حمایت کے کچھ وہاں کے دوسرے اندرونی سیاسی اسباب ہیں مگر یوکرین کی تین طرف سے روس نے ناکہ بندی کی ہے اس میں بیلاروس کا بہت اہم رول ہے۔ بہر کیف توانائی کے بحران کی وجہ سے پوری دنیا میں قدرتی گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں کا بڑھنا تمام ممالک بشمول یوروپ اور امریکہ میں داخلی سیاست کو متاثر کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے، اس اندیشہ کے پیش نظر ان ممالک نے تو کوشش کی کہ سعودی عرب عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کو بڑھادے، تاکہ کوئی قلت پیدا نہ ہو اور روس کی ’’ بلیک میلنگ‘‘ کا اثر نظر نہ آئے۔ مگر سعودی عرب نے امریکہ کے اس ڈکٹیٹ پر عمل کرنے سے منع کر دیا۔ اس نے اپنے ملک اور خطے میں اپنے رول کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی مرضی اور ضرورت کے حساب سے اپنے وسائل کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ، یہ اس خطے کی آزادانہ خارجی پالیسی پر اصرار کا اہم ایشو ثابت ہوا اور آج دنیا کے تمام طاقتیں خلیج ممالک اور مغربی ایشیا کے گرد چکر لگا رہی ہیں۔
جو بائیڈن جو سعودی عرب کی اعلیٰ ترین قیادت کے بارے میں دوران صدارتی الیکشن مہم انتہائی ذاتی حملے کر چکے تھے، اچانک خلیجی ممالک بطور خاص سعودی عرب کے تئیں -انتہائی روشن خیالی اور فیاضی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔
انہوں نے یوکرین میں حالات بدلنے کے بعد اولاً تو دور سے بیٹھ کر حالات کا رخ بدلنے کی کوشش کی مگر بعد میں نہ صرف یہ کہ سعودی عرب قیادت سے ملاقات کرنے کا اعلان کر دیا بلکہ سعودی عرب جا کر خلیج کے کئی اعلیٰ ترین ملکوں کے اہم ترین دفاعی گروپ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہ اجلاس میں شامل ہوئے۔
خلیجی ممالک پوری دنیا میں اپنے رول اور امیج کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں اب تک یہ ممالک محض پٹرولیم اور قدرتی گیس سپلائی کرنے والے ممالک کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں مگر اب دوسرے سیکٹروں میں بھی ان ممالک نے دلچسپی لینی شروع کر دی ہے۔ مثلاً سعودی عرب نے یونان کے ساتھ جو سمجھوتے کئے ہیں وہ بالکل مختلف نوعیت اور غیر روایتی طرز کے ہیں۔ یونان کے ساتھ سمجھوتے میں زیر آب ڈاٹا کیبل سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں، جو یوروپ اور ایشیا کے درمیان بچھائی جائے گی۔ سعودی عرب نے یونان اور دیگر یوروپی ممالک کو گرین انرجی کی منتقلی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا ہے اس سے یوروپ کو سستی شرحوں پر توانائی فروخت کرنے کا راستہ کھل جائے گا، یہ سمجھوتے اس لیے بھی یوروپ کے لیے اہم ہیں کہ توانائی کی قلت سے دوچار یہ ممالک اب روس کی بلیک میلنگ سے بھی نجات حاصل کر پائیں گے۔
ان پروجیکٹوں کے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سعودی عرب ایک قائیدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ گرین اور قابل تجدید توانائی وسائل کی منتقلی کے لیے ڈاٹا کیبل بنانے کا مشترکہ پروجیکٹ جسے Carridor East to Med data کا نام دیا گیا ہے، سعودی عرب کی کمپنی ایس ٹی سی اور یونان کی ٹیلی کام اینڈ سٹیلائٹ اپلیکیشن کمپنی ٹی ٹی ایس مل کر بنا رہے ہیں۔ مذکورہ بالاڈاٹا کا ریڈور کو وضع کرنے کے لیے سعودی کمپنی Meena Hub کا برین چائلڈ قراد دیا جا رہاہے۔ یونان کے ساتھ یہ سمجھوتے دفاعی ضروریات اور معاہدوں سے مربوط ہیں ، اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ سعودی عرب اپنی دفاعی ضرورت کے لیے اپنے روایتی حلیفوں پر ہی منحصر نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS