وہ کیا گئے کہ رونق گلشن چلی گئ

0

گزشتہ دوتین برسوں سے علماء کرام کے پیہم وفیات سے پوری دنیا بالخصوص سرزمین ہند سوگوار ہے،میکدہ علوم وفنون کے ساقی روز بروز ہمیں داغ مفارقت دے رہے ہیں،تعلیمی،فکری،دینی اور دعوتی میدان میں ایسا خلاپیدا ہورہا ہے، جس کو پر کرنا مشکل نظرآرہا ہے،یقینا موت وزیست ہرمخلوق کے لیے منجانب اللہ مقدر ہے،ہرفرد بشر کو اپنی حیات مستعار گزار کر اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے،مگر انھیں لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنکی وفات سے ذہن ودماغ میں ایک ایسا بھونچال پیدا ہوتا ہے جو ناقابل تصور ہوتا ہے،عرش بریں وفرش زمیں بھی نم دیدہ ہوجاتے ہیں،جن سے راقم کی مراد جناب مولانا سید حمزہ حسنی ندویؒ سابق نائب ناظم ندوةالعلماء لکھنو وسابق ناظرعام ندوة العلماء وجانشین مفکراسلام مرشدالامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم ہیں جن کی وفات سے ملت اسلامیہ بالخصوص دارالعلوم ندوة کو اتنا بڑا صدمہ پہونچا ہے جوناقابل فراموش ہے،
آپ ندوہ کے عالم باعمل اور جیدالاستعداد فرزند تھے،آپ اللہ کے مقرب،مخلص اور شب گیر بندوں میں سے تھے،متاع کمال وہنر کی ناقدری اور ناانصافی پر نہ کبھی نالہ وفریاد کیا,اور نہ کبھی شکوہ گلہ بلکہ ہمیشہ اندازشکیبائ اختیار کی اور شہرت ونام وری سے گریز کرتے ہوۓ خاموشی سے کام کرنے اور گمنامی کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی،آپ بقول علامہ اقبالؒ
خموشی گفتگو ہے بےزبانی ہے زباں میری
کے مصداق تھے،اور بقول جناب مولانا جعفرمسعود حسنی ندوی دامت برکاتہم
آپ کی زندگی کو چارادوار میں بانٹا جاسکتا ہے۔
1 ۔کھیل
2 ۔سیاست
3 ۔تجارت
4 ۔ندوہ سے وابستگی

کھیل
جب آپ نے کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا تو بام عروج پر پہونچ گئے اور کامیاب کپتان کی حیثیت سے صوبائ سطح پر درشکوں کے دلوں پر راج کیا۔
سیاست
پھر آپ نے میدان سیاست کاانتخاب کیا،اور اپنی چوشیلی تقاریر کے ذریعہ بڑے بڑے قدآور لیڈران بالخصوص ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کے نورنظر بن گئے اور مسلم مجلس کا صوبائ سطح پر جنرل سکریٹری بناۓ گیے۔
تجارت
پھر آپ نے اپنی دوررس نگاہ اور وقاد ذہن تجارت کی طرف مبذول کیا ،اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان تجارت پر درخشندہ ستارہ بن گئے، الحسن نامی کمپنی کی بنیاد ڈالی،پھر مکتبہ اسلام کے بارگراں اپنے کاندھے پرلیا اور اس کے ذریعہ بڑے بڑے تجار سے اندرون وبیرون ملک اپنے تعلقات استوار کیااور انکے دلوں پرانمٹ نقوش چھوڑے
دارالعلوم ندوة العلماء سے وابستگی
مگر تقدیر الہی کوکچھ اور ہی منظور ومطلوب تھا،آپ کی پوری صلاحیت وتوانائ کا استعمال امت مسلمہ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا چنانچہ حضرت مولانا عبداللہ عباس ندویؒ سابق معتمدتعلیم دارالعلوم ندوةالعلماء لکھنو نے آپ جو بہ اصرار ندوہ سے منسلک ہونے کی دعوت دی اور اسوقت پچیس ہزار روپیے تنخواہ مقرر کی ،اولا آپ نے انکار کیا اور بڑھتے مصروفیات کا تذکرہ کیا مگر مولانا عبداللہ عباس ندویؒ بھی مصر رہے اور اس جوہر نایاب سے ندوہ کی جھولی بھرنے کی شب وروز کوشش کی،کیوں آپ جوہر شناس تھے،آپ کو معلوم تھا کہ مولانا حمزہ خاموش طبیعت کے حامل،مرنجامرنج صفت سے آراستہ اور یکسوئ کے منزل مقصود تک پہونچنے کا ہنر رکھتے ہیں، آخر کا مولاناسید حمزہ حسنی ندویؒ کو مولانا کی درخواست قبول کرنی پڑی،مولانا حمزہ حسنی کے ورود نے ندوہ میں چارچاندلگادیا،ندوہ کی مسجد کی توسیع،رواق ابوالحسنؒ اور رواق محمدعلی مونگیریؒ کی تعمیر آپکی کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے،اس سے بڑھ یہ کہ آپ نے ندوہ کی ڈوبی ہوئ رقموں کو اپنے تعلقات اوراثرورسوخ سے واپس کروائ،آپ نے چندہ کے نظام کو مستحکم کیا اور ایک کروڑ سے سترہ کروڑ تک مالی مقدار کو بڑھایا،
بقول حضرت مولانا نذر الحفیظ صاحب ندویؒ
آپ اپنے کام سے مطلب رکھتے تھے،اور پوری خاموشی کے ساتھ جدوجہد اور ایثاروقربانی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اپنے مشن میں گامزن رہا کرتے تھے،آپ کے علمی کارناموں میں مفکراسلام حضرت مولانا علی میاںؒ کے خطوط کو تین جلدوں میں جمع کرتے ہوۓ از١٩٤٠ تاوفات خطوط میں مذکور تمام علماء کا تعارف کرنا ہے،
رنگ وخوشبو کے ،حسن وخوبی کے
تم سے تھے،جتنے استعارے تھے
اللہ تعالی نے مولانا انقلابی ذہن اور امت کے لیے تڑپنے والا دل عطا کیا تھا یہی وجہ ہے کہ شاہ بانوکیس کے موقع آپ نے مسلم پرسنلا کا پروگرام زوردار انداز میں منعقد کروایا،اسی طرح آپ نے رابطہ ادب اسلامی کے پراگرام کو منعقد کرکے دنیا کو بتا دیا کہ حمزہ ایک اچھا منتظم،نبض شناس ،ماہر تاجر،سیاست کے نشیب وفراز کے شناور ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا قلمکار،اور علمی چمن کا ایک معطر پھول ہے
آسماں تیری لحد پرشبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے-

محمد انتخاب ندوی

ناظم تعلیم دارالعلوم فیض محمدی مہراج گنج یوپی

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS