روس کا یوکرینی علاقوں سے الحاق تسلیم نہیں کرےں گے: بائیڈن

0

نےوےارک(ایجنسیاں) : امریکی وہائٹ ہاو¿س کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر بائیڈن نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ روس کے ساتھ یوکرینی علاقوں کے مبیّنہ الحاق کی حمایت کرنے والے کسی بھی فرد، ادارے یا ملک پر سخت پابندیاں عایدکرنے کے لیے امریکہ کی مسلسل تیاری جاری ہے۔ امریکی صدرنے اپنے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے علاقوں کے روس سے الحاق کے فیصلے کو کسی صورت میں بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے جلد ہی یوکرین کو 62 کروڑ 25 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں اور فوجی ساز وسامان کا نیا پےکےج مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ماسکو نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو مزید فوجی امداد بھیجنے کے امریکی فیصلے سے روس اور مغرب کے درمیان ‘براہ راست فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔امریکا میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے فوجی امداد کے حوالے سے کہا کہ یہ ماسکو کے لیے براہ راست خطرہ ہے ، فوجی امداد امریکہ کو یوکرین کے ساتھ روس کے تصادم میں باقاعدہ حصے دار بنا دیتا ہے۔صدر جو بائیڈن نے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک فون کال میں اس پیکےج کی اطلاع دی ہے اور یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ یوکرین کو جب تک امریکی امدادکی ضرورت ہے، یہ جاری رہے گی۔ انھوں نے زیلنسکی کو مطلع کیا کہ یوکرین کو اضافی ہتھیاروں اور ساز وسامان، بشمول ہیمارس، آرٹلری سسٹم، گولہ بارود اور بکتر بند گاڑیاں دینے کا اعلان آج کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ یہ ہتھیار اگست 2021سے یوکرین کےلئے امریکہ سے ہتھیاروں کی 22ویں کھیپ کے تحت مہیا کیے جائیں گے۔مسٹر بلنکن کے بقول اسلحہ کی اس تازہ ترین ترسیل سے جنوری 2021 سے اب تک یوکرین کو امریکہ کی جانب سے مہیا کی جانے والی مجموعی فوجی امداد 17.5 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی ہو جائے گی۔وہائٹ ہاو¿س کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر بائیڈن نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ روس کے ساتھ یوکرینی علاقوں کے مبیّنہ الحاق کی حمایت کرنے والے کسی بھی فرد، ادارے یا ملک پر سخت پابندیاں عایدکرنے کے لیے امریکہ کی مسلسل تیاری جاری ہے۔امریکہ اور یورپ نے کہا ہے کہ وہ ان الحاق شدہ علاقوں کو کبھی روس کا حصہ تسلیم نہیں کریں گے۔انھوں نے روسی افراد، حکام اور صدرپوتن کے اتحادیوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ وہائٹ ہاو¿س کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر بائیڈن نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق یوکرین کی آزادی اور جمہوریت کے دفاع کی کوششوں کی حمایت میں دنیا کو متحد کرنے کی غرض سے امریکہ کی شبانہ روز کاوشوں کا بھی ذکرکیا ہے۔