کیا اسرائیلی بربریت سے عالم عربی میں نیا انقلاب پیدا ہوگا؟

0

ڈاکٹر محمد ضیاء اللّٰہ

رمضان مقدس کے مہینہ میں اسرائیل کی صہیونی حکومت نے مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لئے جمع ہونے والے نمازیوں کے خلاف جس بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اس سے یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں اس پورے خطہ میں ایک نئی جنگ کا آغاز نہ ہو جائے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی فلسطینیوں پر چو طرفہ یلغار جاری ہے۔ ایک طرف مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج اور صہیونی آبادکاروں نے مل کر فلسطینی عبادت گزاروں پر حملہ کرکے انہیں زخمی کر دیا اور مسجد سے انہیں باہر نکال دیا تو دوسری طرف غزہ اور جنوبی لبنان پر بمباری کرکے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔ ان حالات میں قرائن اور دلالات اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ مشرق وسطی ایک نئی تاریخ میں داخل ہونے والا ہے۔ اگر ایسی کوئی جنگ برپا ہوتی ہے تو اس کی نوعیت ماضی کی دیگر جنگوں سے کافی مختلف ہوگی۔ بادی النظر میں یہ بات بہت عجیب معلوم ہو رہی ہے لیکن اگر حالات پر گہرائی کے ساتھ نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوگا کہ ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس میں اب انسانی قدروں، ان کے پاکیزہ جذبات و احساسات اور مذہبی و سماجی مقدسات کے احترام کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا جا رہا ہے۔ سیاست و اقتدار کے حلقہ میں بے لگام پاور اور مادی زور و قوت ہی معیار بنتا جا رہا ہے جن کے ذریعہ سے عوام کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور انہیں اپنے پاؤں تلے روندنے کا مزاج پروان چڑھ رہا ہے۔ اسرائیل نے غالبا روس سے یہی سیکھا ہے اور اس سے قبل افغانستان و عراق و شام میں امریکہ و روس اور ان کے حلیف ممالک نے کمزوروں کے ساتھ جو معاملہ کیا اور ان ملکوں کو تباہ و برباد کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے ان سے بھی اس نے یہی سیکھا ہے کہ صہیونی مقاصد کو حاصل کرنے کا سب سے موثر طریقہ پاور کا استعمال ہی ہے۔ اسرائیل کے سوچنے کا طریقہ بالکل ویسا ہی جیسا تمام جابر اصحاب اقتدار کا ہوتا ہے کہ ان کے مشینی پاور اور مادی قوت میں جس قدر اضافہ ہوتا جاتا ہے وہ اسی قدر مزید ظالم و جابر بنتے جاتے ہیں اور اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہوجاتے ہیں کہ اس کے علاوہ بھی ایک ایسی مخفی اور خوابیدہ قوت ہے جو مشینی قوت اور مادی تفوق سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ یہ طاقت وہ ہے جو عوام کے دلوں میں غصہ کی آگ کی صورت میں دہکتی رہتی ہے اور جب آتشی طوفان بن کر بھڑکتی ہے تو ایک ہی پل میں ظلم و بربریت کے ایوانوں کو خاکستر کرکے رکھ دیتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اس وقت عالم عربی کے عوام اور اسرائیل کی سفاکیت کے تعلق سے چل رہا ہے۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت میں جو عناصر اس وقت شامل ہیں انہیں یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ عالم عربی کے حکمران چونکہ اپنی ذلت و کمزوری کے اس درجہ پر فائز ہیں کہ اسرائیل کا مقابلہ کرنا تو درکنار وہ واضح الفاظ میں ان کے خلاف کوئی تنقیدی بیان تک نہیں دے سکتے بلکہ اس کے برعکس وہ امریکی نظام سے اپنی قربت بڑھانے کی غرض سے ہر حال میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی سعی میں لگے رہتے ہیں کیونکہ عالم عربی کے مطلق العنان حکمران اس حقیقت سے واقف ہیں کہ امریکہ کے دل تک پہونچنے کا راستہ اسرائیل کے ساتھ ذلت آمیز ’دوستی‘ سے ہوکر گزرتا ہے اور جب تک امریکی مفادات کی حفاظت کی ذمہ داری اسرائیل اس خطہ میں انجام دے رہا ہے تب تک امریکہ کبھی بھی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی بربریت پر قدغن لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ یہی حال مغربی میڈیا کا بھی ہے جس نے ہمیشہ اسرائیلی مظالم اور اس کے سفاکانہ کردار کو چھپایا ہے اور فلسطین کے عوام کو ہی مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اسرائیل کی دہشت گردی کو بے نقاب کرے اور قتل و خون اور تباہی و تدمیر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو مغربی میڈیا نے ان فلسطینیوں کو ہی کٹہرہ میں کھڑا کیا ہے جو اپنی زمین، اپنا گھر اور اپنی عزت و آبرو بچانے کے لئے اسرائیل کی مہلک ترین ہتھیاروں کا مقابلہ پتھروں اور احتجاجوں سے کیا ہے۔ اس صورتحال نے عالم عربی کے عوام کے اندر ایک عجیب بے چینی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔اب معاملہ جب مسجد اقصیٰ کے اندر نمازیوں پر حملہ اور قبلہ اول کی بے حرمتی تک پہنچ گیا ہے تو اس بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہ جہاں ایک طرف مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر ہو رہے مظالم کو وہ دیکھ رہے ہیں وہیں دوسری طرف مغربی ملکوں میں اسلامی مقدسات کی جو توہین شب و روز ہو رہی ہے اس پر بھی ان کی نظر ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسجد اقصیٰ کے ساتھ صہیونیوں کے ذریعہ کی جا رہی بے حرمتی کے ہیش نظر اپنے ملکوں کے حکمرانوں کی خاموشی اور اسلامی شعائر کے تئیں ان کی بے حسی سے بھی آگاہ ہیں لیکن کچھ بول نہیں رہے ہیں یا احتجاج نہیں کر رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عالم عربی کا استبدادی نظام انہیں کچل دے گا اور ان کی آواز کو خاموش کر دے گا لیکن ان کے دلوں میں غصہ کی جو آگ بھڑک رہی ہے اس سے اس بات کا امکان پیدا ہو رہا ہے کہ وہ بہت دنوں تک خاموش نہیں رہیں گے اور ان کا ردعمل اس بار صرف احتجاج اور مظاہروں کی شکل میں بھی نہیں ہوگا۔ اس کی کیا صورت ہوگی ابھی کہہ پانا مشکل ہے لیکن اگر کہیں ان کا یہ غصہ پھٹ گیا تو صورتحال کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ مادہ پرست تجزیہ نگاروں کو شاید یہ بات مضحکہ خیز لگے لیکن تاریخی شواہد اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور اس امکان سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ہے۔ اٹھارہویں صدی کا انقلاب فرانس بھی جب آیا تھا تو اس وقت بھی کسی نے یہ اندازہ نہیں کیا تھا کہ ایسا ہوگا کہ ارباب اقتدار گاجر اور مولی کی طرح عوام کے ہاتھوں کاٹے جائیں گے۔ لیکن ایسا ہوا اور اس کے نتیجہ میں صرف ایک نیا فرانس ہی وجود میں نہیں آیا بلکہ پوری مغربی دنیا کا نقشہ بدل گیا۔ یہی حال فرانس کا اس وقت ہوا جب الجزائر کے عوام نے یہ طے کر لیا کہ ہر حال میں فرانس کے سامراج کو اکھاڑ پھینکنا ہے۔ گرچہ اس کی بہت بڑی قیمت الجزائر کے عوام کو چکانی پڑی اور پندرہ لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اور آخرکار دیگول جو اس وقت فرانس کا حاکم تھا اس کی ساری شجاعت و بہادری اور حکمت و دانائی خاک میں مل گئی۔ اس نے الجزائر کی آزادی کا اعلان 1962 میں کر دیا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں الجزائر کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی ضد کی تو خود فرانس کا وجود نہ مٹ جائے۔ ابھی افغانستان کا واقعہ تازہ تازہ ہے جہاں امریکہ کی قیادت والی ناٹو فوجیں ذلت آمیز ڈھنگ سے بھاگنے پر مجبور ہوگئیں اور راتوں رات اپنے اڈوں کو خالی کر دیا۔ اس سے قبل سوویت یونین کا حشر بھی افغانستان میں ایسا ہی ہوا تھا۔ یہی سبق یوکرین پر جاری روسی جارحیت سے حاصل کیا جا سکتا ہے جہاں یوکرینی عوام اور قیادت نے روس کو اس کے مقاصد کے حصول میں اب تک ناکام بنائے رکھا ہے جبکہ روس نے سوچا تھا کہ ایک ہفتہ میں یوکرین پر روسی فتح کا جھنڈا لہرا دیا جائے گا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ مشینی طاقت و قوت کی ایک حد ہے اور مقاصد کے حصول میں ہمیشہ موثر نہیں ہو سکتی۔ آج فلسطینی جانباز جس ہمت و جوانمردی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے سینوں سے اسرائیلی گولیوں کا مقابلہ کرکے مسجد اقصی کے تقدس کو بچا رہے ہیں ان کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمان ان کے مرہون منت ہو رہے ہیں۔ فلسطینی عوام آج نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کا ایمان و عقیدہ ان کی جانوں سے ہزار گنا زیادہ قیمتی ہے۔ ان واقعات کا جو اثر مسلم دنیا کے عوام و خواص پر ہو رہا ہے وہ ناقابل بیان حد تک ایمان افروز ہے۔ فلسطینی کبھی اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اسرائیلی صہیونیت کو گرچہ یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ انہیں یہ سب سے مناسب وقت ہاتھ لگ گیا ہے جس میں وہ صہیونی ریاست کے بانیوں یعنی ہرتزل، بن گورین اور وائزمین کے مقاصد کی تکمیل کر سکتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کی زمانی و مکانی تقسیم کرکے ہیکل سلیمانی قائم کرنے کا اپنا دیرینہ خواب پورا کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہوگی۔ انہیں اندازہ ہونا چاہئے کہ مسجد اقصیٰ کی جو اہمیت مسلمانوں کی نظر میں ہے اس کی خاطر عالم اسلام میں ایک نیا جوش پیش پیدا ہو رہا ہے اور عالم عربی کے عوام میں قوت برداشت جواب دے رہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی غضب کا جو سیلاب عالم عربی سے شروع ہوگا اس میں مسلم مطلق العنان حکمرانوں کے ساتھ ساتھ خود اسرائیل کا وجود نیست و نابود ہوجائے اور صہیونی ریاست کے بانیوں کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ تیار ہوگا جس میں عوامی جذبات کو دبانا آسان نہیں ہوگا۔ امریکی سامراج کو اپنی بساط لپیٹنی پڑجائے گی اور اسرائیل کا کوئی حامی و ناصر نہ ہوگا۔ جمہوریت کے لئے مشرق وسطی میں راہیں ہموار ہوں گی اور فلسطین سمیت عالم عربی کے وہ تمام مسائل حل کئے جائیں گے جن کے حل کی راہ میں امریکی سامراج کے ساتھ عرب حکمرانوں کی سانٹھ گانٹھ سب سے بڑی رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔
مضمون نگار سینٹر فار انڈیا ویسٹ ایشیا ڈائیلاگ کے وزیٹنگ فیلو ہیں

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS