بدلتے حالات میں بدلتی حکمت عملی

0

زیادہ دن نہیں ہوئے ، جب بی جے پی کی حکومت نے کرناٹک میں سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگادی پھر اقلیتوں کا 4فیصد ریزرویشن ختم کردیا اوراسے اکثریتی طبقہ کی برادریوں میں تقسیم کردیا ۔ ٹیپوسلطان کے خلاف الگ مسلسل مہم چلائی جارہی ہے ۔ گجرات میں دیکھیں تو وہاںبی جے پی کی حکومت نے بلقیس بانومعاملہ کے قصورواروں کی سزامعاف کرکے انہیں رہا کردیا بلکہ کورٹ میں اپنے فیصلے کا دفاع بھی کررہی ہے اوروہی حکومت گودھرا معاملہ کے مسلم قصورواروں کی رہائی کی سخت مخالفت کررہی ہے ۔پارٹی کی یہ پالیسی نئی نہیں ہے ، بہت پرانی ہے ۔ ایک طرف پارٹی کایہ رخ اوردوسری طرف اسی پارٹی کے تعلق سے یہ خبر آرہی ہے کہ جس اقلیت نوازی یا تشٹی کرن کے نام پر وہ دوسری پارٹیوں کو دن رات کوستی رہتی تھی ۔2024کے پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر خود اسی راہ پر چلتی نظر آرہی ہے ۔ عملی طور پر پارٹی مسلمانوں کیلئے کیاکرے گی ، ایساکچھ بھی کھل کرسامنے نہیں آیا ہے ، لیکن زبانی طور پر خوش کرنے کی پالیسی ضرورچل رہی ہے ۔ گزشتہ ایک سال سے پارٹی پسماندہ مسلمانوں پر ڈورے ڈال رہی ہے ،ان کو خوش کرکے قریب لانے یاانہیں پارٹی سے جوڑنے کی کوشش کررہی ہے ۔اس معاملہ میں پارٹی کو ابھی تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی اورنہ ہی کوئی بڑا مسلم چہرہ پارٹی کے حق میں سامنے آیا۔ البتہ کچھ چھوٹے چھوٹے سیاسی لیڈران پارٹی کے ہمنوا بن کر پسماندہ مسلمانوں کو رجھانے کا کام کررہے ہیں۔ اب پارٹی نے مسلمانوں کو قریب کرنے کی اپنی پالیسی کو وسعت دی ہے اوراپنے ہدف میں درگاہوں ، خانقاہوں اورمدارس کو شامل کیا ہے ۔لوک سبھا انتخابات سے قبل جب بی جے پی سماج کے ہر طبقہ کے ووٹروں کو رجھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے تو اقلیتوں کی اتنی بڑی آبادی کو نظر انداز کیسے کرسکتی ہے ؟ان کا بھی ووٹ حاصل کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ پروگرام ضرور کرے گی ۔
بتایا جاتا ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی اقلیتی سیل کی طرف سے قومی سطح پر جو ’صوفی سمواد مہا ابھیان‘شروع کیا ہے ،وہ بھی ایک انتخابی حکمت عملی ہے ۔جس کے تحت پارٹی کے لیڈر خاص طور سے مسلم لیڈران حتی کہ وزرادرگاہوں پر جائیں گے، قوالی سنیں گے ۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ پارٹی کی طرف سے ایسی قوالیوں کا انتظام کیا جائے گا ،جس میں مودی سرکار کی پالیسیوں کی تشہیر ہواوریہ بتایا جائے کہ بی جے پی حکومت کی تمام اسکیموں کا فائدہ بلاتفریق مسلمانوں کو پہنچایا جائے گا۔یہی نہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی 100 ’من کی بات‘ کو مدارس اوردرگاہوں تک پہنچانے اوروہاں سنانے کا اہتمام کیا جائے گا۔جانکاری کے مطابق یوپی کے بلدیاتی انتخابات کے بعد یوپی کے ہر شہر کی مرکزی درگاہ میں اس طرح کے پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔اس کیلئے اترپردیش میں تمام عہدیداروں سے صوفی درگاہوں اور ان کے خادموں کی فہرست مانگی گئی ہے تاکہ وہاں پروگرام کا انعقاد کیا جاسکے ۔یعنی پسماندہ مسلمانوں سے بات درگاہوں اورمدارس تک پہنچ گئی ، جن کا حال ہی میں سروے کرایا گیا ۔گزشتہ دنوں راجستھان کی کچھ مسلم شخصیات کو جو پدم شری ایوارڈ دیا گیا ،اس کو بھی سیاسی مبصرین اسی انتخابی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔یہ تو ملک کی سب سے بڑی ریاست کا حال ہے ۔ ادھر کیرالہ میں بی جے پی کے کئی لیڈروں نے بشپ سے ملاقات کی اورایسٹر کی مبارکباد دی ، جس کو کانگریس نے دوہری پالیسی بتاکر اس پر تنقیدکی ۔اس طرح کی ملاقاتوں، پروگراموں اورسرگرمیوں کو اتفاق نہیں کہہ سکتے، بلکہ اچانک وقت اورحالات کے تحت انتخابی حکمت عملی میں آئی تبدیلی کا حصہ ہیں ۔ج کی ضرورت پارٹی شدت سے محسوس کررہی ہے ۔
وقت اورحالات سے انسان بہت کچھ سیکھتا اورکرتاہے ۔بی جے پی کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ ملک کے سیاسی حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ ایسے میں پارٹی اس بار کچھ الگ ہی حکمت عملی پر کام کررہی ہے ۔ورنہ ماضی میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو رجھانے اورانہیں جوڑنے کی اس طرح مہم کبھی نہیں چلائی ۔کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے ، جو پارٹی کھل کر نہیں کہہ رہی ہے ،لیکن پروگرام سب کچھ بتارہے ہیں ۔ تاہم کرناٹک اور گجرات میں وہاں کی سرکاریں جوکررہی ہیں اوریوپی میں جو پروگرام چلانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ، ان میں تضاد پایا جاتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کہیں اقدامات سے مسلمانوں کو ناراض کرنے کے بعد کہیں محض قوالیوں سے مسلمانوں کو کیسے خوش کیا جاسکتاہے ؟
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS