انتخابی مہم کا گرتا معیار

0

لوک سبھاانتخابات کے 2مرحلے ہوچکے ، ابھی 5مرحلے باقی ہیں ۔اس بار انتخابی مہم جتنی زورشور سے چل رہی ہے ، اتنی ہی جارحانہ بھی نظر آرہی ہے۔ہر پارٹی کے سینئر اوربڑے لیڈران ایک ایک دن میں 3-4شہروں میں انتخابی ریلیاں اورجلسے کررہے ہیں ۔کب کون لیڈر کس کے بارے میں کیا بول دے ، کس طرح کے الفاظ استعمال کردے ، کوئی نہیں جانتا۔ نہ کسی کو اپنے عہدہ اورعمر کا خیال ہے اورنہ دوسرے کی عزت ووقار کا لحاظ۔ایک دوسرے کے لئے ناشائستہ اور غیر مہذب الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں ، جو عام حالات میں کوئی نہیں کرسکتا ، بلکہ سوچ بھی نہیں سکتا ۔سیاست کا معیار اس قدر گرگیا ہے کہ لوگ شرمارہے ہیں ، لیکن سیاسی لیڈروں کو شرم نہیں آرہی ہے ۔ اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے ، جب خود دوسروں کی عزت نہیں کریں گے، تو دوسرے سے عزت کی امید کیسے کی جاسکتی ہے؟ ذاتیات پر حملے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اس کے بغیر لیڈران اپنی تقریروں کوادھوری سمجھ رہے ہیں ۔کبھی کبھی تو لگتاہے، جیسے لیڈروں نے بدزبانی اورایک دوسرے کو نیچادکھانے کی کوشش کوہی ووٹروں کو خوش کرنے کا سب سے بڑا حربہ سمجھ لیا ہے ۔ان کی دلچسپی رائے دہندگان کے مسائل حل کرنے اوران سے وعدے کرنے میں کم اور مخالف لیڈروں پر حملے میں زیادہ ہے ۔اگر انتخابی منشور کو ہٹادیاجائے تو پوری انتخابی مہم منفی نظرآئے گی ۔عوام کے لئے اس میں کچھ نہیں ملے گا۔ جب لیڈروں کا انتخابات میں یہ حال ہے تو الیکشن جیتنے کے بعد ان سے کیا امیدکی جاسکتی ہے ؟ لوگوں کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انتخابی تقریروں کی بنیاد پر ووٹ دیں یا انتخابی منشور کی بنیاد پر، کیونکہ دونوں کے درمیان دور دور تک تال میل یایکسانیت نظرنہیں آرہی ہے ۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اخلاق اورمعیارسے گری ہوئی اس انتخابی مہم پر الیکشن کمیشن بھی خاموش ہے اور لوگ بھی ۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے باوجود انتخابات کے دوران جتنی سیاست مذہب کے نام پرہورہی ہے ، اس سے کم نفرت کی سیاست نہیں ہورہی ہے۔مسلمانوں کو انتخابی مہم کے دوران بلاوجہ گھسیٹا جارہاہے ۔ان کو بدنام کیا جارہاہے۔ نہ تو مسلمان دیگر رائے دہندگان کی طرح کچھ بول رہے ہیں اورنہ وہ کھل کر سامنے آرہے ہیں ، پھر بھی کسی نہ کسی بہانے ان کے خلاف مسلسل نفرت کی سیاست کی جارہی ہے اور ملک کا ماحول خراب کیا جارہا ہے ۔کوئی نہیں سوچ رہاہے کہ نفرت کی سیاست کا سماج میں کیا پیغام جارہاہے ؟اور سیاست وسماج میں کیسی گندگی پھیل رہی ہے ؟شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو، جب مسلمانوں کے خلاف نفرت کی سیاست نہ ہوتی ہو۔کبھی کھل کر اورکبھی پس پردہ نفرت کی سیاست کے نام پرلوگوں کو اکساکر ووٹ مانگا جارہاہے ۔لیڈروں کی تقریریں ایسی ہوتی ہیں ، جیسے ان کے پاس یا تو انتخابی ایشوزکا فقدان ہے ،یا ان کو عوام کے مسائل میں دلچسپی کم ہے ۔دوسری طرف یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کو انتخابی تقریروں سے مایوسی ہورہی ہے ، جس کی وجہ سے کم پولنگ ہورہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے پہلے اوردوسرے دونوں مرحلوں میں کم پولنگ کا رجحان دیکھنے کوملا، جس کی وجہ سے کچھ پارٹیوں کے اندازے بگڑگئے اوران کی پریشانی بڑھ گئی۔ اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ، یہ تو نہیں بتایا جاسکتا۔

ہوسکتاہے کہ سیاسی لیڈروں کی بے نیازی کی وجہ سے لوگوں کا یہ ردعمل ہو۔جب 2مراحل میں کردار کشی اورنفرت کی سیاست کا یہ حال ہے، تو آگے کیا حال ہوگا ؟جیسے جیسے انتخابی مراحل آگے بڑھ رہے ہیں ،لیڈروں کے انداز اورتیور بھی سخت ہو رہے ہیں اورپہلے سے زیادہ جارحانہ انتخابی مہم ہوتی جارہی ہے ۔ انتخابی مہم بھلے ہی جارحانہ ہے ، لیکن ووٹنگ بہت خاموشی سے ہورہی ہے ۔
ماضی کے انتخابات میں بھی خواہ اسمبلی کے ہوں یا لوک سبھا کے منفی انتخابی مہم چلائی جاتی رہی ہے ، ذاتی حملے ہوتے تھے اورجذباتی ایشوز اٹھائے جاتے تھے ،لیکن ان کے ساتھ ساتھ لوگوں کے عام ایشوز پر بھی باتیں ہوتی تھیں اور وعدے کئے جاتے تھے۔ اب تو ایسالگ رہاہے کہ ایشوز اور لوگوں کے مسائل کاغذی ہوکر رہ گئے ہیں ،جو انتخابی منشور میں بند ہیں، جس کے اجراکی رسم ادا کرکے سیاسی پارٹیاں خود ہی انتخابات کے دوران منشور کواہمیت نہیں دے رہی ہیں تو انتخابات کے بعد کیا اہمیت دیں گی؟اس وقت حالات یہ ہیں کہ انتخاب منشور کی بنیاد پر نہیں کچھ اورنام سے ووٹ مانگا جارہاہے، جو تشویش ناک بات ہے ۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS