علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے سادھو گرفتار کیوں نہیں

0

نئی دہلی: (یوا ین آئی)آل انڈیا مسلم مجلس کے قومی صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے اے ٹی ایس کے ذریعے گرفتار مسلم نوجوانوں پر بم بنانے کے الزامات عائد کرنے کے بارے میں کہا کہ اس سلسلے میں عدالت جلد فیصلہ کرے اور اگر وہ گنہگار ہے تو سزا ملے اور بے قصور ہے تو رہائی ملے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اے ٹی ایس سے مطالبہ کیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے سادھو کو گرفتار کیا جائے۔
انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ جب بھی اس سلسلے میں کسی کی گرفتاری ہوتی ہے تو اسے دہشت گرد بناکر پیش کردیا جاتا ہے جب کہ اس بارے میں فیصلہ عدالت کرے گی لیکن دہشت گردی کے الزام میں گرفتار بہت سے مسلم نوجوانوں کو کئی سال تک جیل میں رہنے کے بعد عدالتوں نے ثبوت نہ ہونے کے باعث رہا کردیا ہے۔ اس وقت تک ان کی زندگی کے قیمتی سال بے قصورقید ہونے کے باعث برباد ہوجاتے ہیں اور بڑی تعداد میں آج بھی جیلوں میں بند ہیں لہذا مسلم مجلس کا مطالبہ ہے کہ ان مقدمات کا جلد فیصلہ سنا یا جائے کیونکہ انصاف میں تاخیر کو انصاف سے انکار مانا جاتا ہے۔
مسلم مجلس نے کہا کہ اسی کے ساتھ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے سادھو یتی نرسنگا نند کو بھی اے ٹی ایس گرفتار کرے تاکہ اس کی غیر جانبداری پر سوال نہ اٹھایا جائے۔ حیرت کی بات ہے حکومت نے تو ایسے فتنہ پرور کو سیکوریٹی فراہم کررکھی ہے۔
ڈاکٹر بصیر نے بی جے پی کی دوہری پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں سابقہ حکومت پر یہ الزام لگایا ہے کہ بقول ان کے اس حکومت نے دہشت گردی کے ملزمین کے مقدمات واپس لئے لیکن خود یوگی اور بی جے پی کے کئی وزیروں پر سنگین الزامات کے تحت دائر مقدمات کو یوگی سرکار نے واپس لیا ہے۔کیا یہی ہے سب کا ساتھ اور سب کا وشواس۔بی جے پی کی جھوٹ پر مبنی پالیسی کی وجہ سے اس کے اقدامات پر شک ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS