آخر کیوں نہیں بن پائی تالاب اتھارٹی؟

0

پنکج چترویدی

اترپردیش میں 2017میںتبدیلیٔ اقتدار اور بی جے پی کو زبردست اکثریت ملنے کے پیچھے مختلف لوگوں کی اپنی اپنی بے شمار دلچسپیاں تھیں،لیکن جل-جنگل-زمین سے محبت کرنے والوں کو ایک امید تھی کہ اب ریاست کے نظرانداز کیے جارہے روایتی اور زرخیز تالابوں کے دن بدلیں گے۔ واضح ہو کہ قبضوں، گندگی اور پانی کی کمی کے شکار ہزاروں تالابوں والی ریاست پینے کے پانی اور سینچائی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر رہی ہے۔ تب بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے انتخانی منشور میں مضبوط ’تالاب ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ کی تشکیل کی بات کی تھی۔ پہلے اس پر کام بھی ہوا، لیکن وقت کے ساتھ جیسے تالابوں میں مٹی بھری ویسے ہی اتھارٹی کا اعلان بھی فائلوں میں کہیں دب گیا۔
اترپردیش میں یوگی حکومت کے آتے ہی پہلے 100دنوں میں کیے جانے والے کاموں میں تالاب اتھارٹی کو شمار کیا گیا تھا۔ شروعات میں اس پر کچھ کاغذی گھوڑے بھی دوڑائے گئے، لیکن پھر بات آئی گئی ہوگئی۔ اس وقت اترپردیش کا بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے اور اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ برسات کا جو پانی مقامی تالاب-جوہڑ خود میں سمالیتے تھے، ان کے برباد ہونے کے بعد قدرت کے اس تحفہ سے سیدھے ندیاں لبریز ہوتی ہیں اور تباہی لاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو علاقے ابھی سیلاب سے پریشان ہیں، وہ کچھ دنوں بعد پیاسے رہیں گے اور اس کی بنیادی وجہ روایتی آبی وسائل کا ختم ہونا ہی ہے۔
اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ابھی ایک دہائی قبل تک 12,653تالاب-پوکھر-باؤلی-کنویں ہوا کرتے تھے۔حکومت نے عدالت میں تسلیم کیا ہے کہ ان میں سے 4ہزار کو زمین مافیا نے پاٹ کر کثیرمنزلہ عمارتیں کھڑی کردی ہیں ، جبکہ 2023پر ابھی ناجائز قبضے ہیں۔ ایسے ہی الٰہ آباد میں 13ہزار، اعظم گڑھ میں 10,535، گورکھپور میں 3971، کانپور میں 377، سہارنپور میں 6858، میرٹھ میں 1853، آگرہ میں 591، بنارس میں 1611آبی وسائل کو ختم کرنے کے اعدادوشمار سرکاری فائلوں میں درج ہیں۔ بندیل کھنڈ تو اپنے روایتی تالابوں کے لیے مشہور تھا۔ سب سے زیادہ پیاس، نقل مکانی و مفلسی کے لیے بدنام ہوگئے بندیل کھنڈ کے ہر گاؤں میں کئی کئی تالاب ہوتے تھے۔ آج یہاں کا کوئی بھی شہر، قصبہ ایسا نہیں ہے جو پانی کی کمی سے بے حال نہ ہو اور اس کی توسیع تالابوں کے قبرستان پر نہ ہوئی ہو۔ اترپردیش کے پیلی بھیت، لکھیم پور اور بریلی اضلاع میں آزادی کے وقت تقریباً 182تالاب ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے اب محض20سے 30تالاب ہی بچے ہیں۔ جو بچے ہیں، ان میں پانی کی مقدار نا کے برابر ہے۔
اترپردیش کے اٹاوہ کی مونسپلٹی نے وہاں کے ایک پرانے تالاب کو خوبصورت بنانے کے نام پر اس کو تنگ کرکے رنگین نیلی ٹائلس لگانے کے منصوبہ پر کام شروع کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے کچھ دنوں بعد شہر میں رونق آجائے لیکن نہ تو اس میں پانی جمع ہوگا اور نہ ہی وہاں جمع پانی سے زمین کی پیاس بجھے گی۔ یہ بھی طے ہے کہ ایسے تالاب میں باہر سے پانی بھرنا ہوگا۔ ایسا ہی پورے ملک کی جھیلوں کے ساتھ مسلسل ہورہا ہے۔ تالاب کے پانی لینے اور نکاسی کے راستہ میں پکی تعمیر کرکے اس کا سائز محدود کردیا جاتا ہے، خوبصورتی کے نام پر پانی کے بیچ میں کوئی مندر قسم کی مستقل شکل بنادی گئی اور اس کی آڑ میں آس پاس کی زمین کا کاروباری استعمال شروع کردیا گیا۔ بلیا کا سرہا تال تو بہت مشہور ہے، لیکن اسی ضلع کے ایک قصبہ کا نام رتسڑ اس میں موجود سیکڑوں نجی تالابوں کی وجہ سے پڑا تھا، سر یعنی سروور سے ’سڑ‘ ہوا۔ کہتے ہیں کہ کچھ دہائی قبل تک وہاں ہر گھر کا ایک تالاب تھا، لیکن جیسے ہی قصبہ کو جدیدیت کی ہوا لگی اور گھروں میں نل لگے، پھر غسل خانے آئے، نالیاں آئیں، ان تالابوں کو گندگی ڈالنے کا گٹر بنادیا گیا۔ پھر تالابوں سے بدبو آئی تو انہیں ڈھک کر نئی کالونیاں یا دکانیں بنانے کا بہانہ تلاش کیا گیا۔
یہ افسوسناک ہے کہ جدیدیت کی آندھی میں تالاب کو سرکاری زبان میں ’آبی وسائل‘ سمجھا نہیں جاتا ہے، وہیں معاشرہ اور حکومت نے اسے زمینی وسائل سمجھ لیا۔ پورے ملک کے تالاب مختلف محکموں میں تقسیم ہیں۔ محکمہ مچھلی، سینچائی، جنگل، مقامی انتظامیہ وغیرہ۔ جب جسے سڑک، کالونی، مال، جس کے لیے بھی زمین کی ضرورت ہوئی، تالاب کو بھرا اور برابر کردیا۔ آج شہروں میں آرہے سیلاب ہوں یا پھر پانی کا بحران ان سبھی کے پیچھے تالابوں کی بے پروائی ہی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے باوجود روایتی تالابوں کو سنبھال کر رکھنے کی کوئی مشترکہ اسکیم نہیں ہے۔ خیال تھا کہ اترپردیش میں تالاب اتھارٹی الگ الگ محکموں و مختلف قانونی پینچوں میں پھنسے تالابوں کو ان کی بنیادی شکل میں لوٹانے کے لیے کام کرے گی۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تالابوں پر قبضہ کرکے دکان مکان بنانے والے مقامی بااثر لوگ ہی ہوتے ہیں اور بڑی بات نہیں کہ ان کی سیاسی پہنچ اس حد تک ہو جس نے تالابوں کے دن بدلنے والی آرگنائزیشن کی تشکیل کے عمل پر بھی قبضہ کرلیا۔

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ابھی ایک دہائی قبل تک 12,653 تالاب-پوکھر-باؤلی-کنویں ہوا کرتے تھے۔حکومت نے عدالت میں تسلیم کیا ہے کہ ان میں سے 4 ہزار کو زمین مافیا نے پاٹ کر کثیرمنزلہ عمارتیں کھڑی کردی ہیں، جبکہ 2023 پر ابھی ناجائز قبضے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں 22جولائی 2021کو ایک سوال کا جواب جو واٹرپاور منسٹر کی طرف سے دیا گیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مارچ2021تک مرکزی حکومت نے ’آبی ذخائر کی اصلاح، تزئین اور آرائش(آر آر آر)اسکیم‘ (Repair, Renovation and Rejuvenation Scheme of Water Bodies) کے لیے جو بجٹ ریاستوں کو جاری کیا، اس میں اترپردیش کو سب سے کم 16.41 کروڑ ہی دیا گیا، وہ بھی محض8تالابوں کے لیے۔ ایک دیگر جواب میں بتایا گیا ہے کہ اترپردیش میں آر آرآر اسکیم کے تحت 2016سے 2019تک ایک بھی تالاب پر کام پورا نہیں کیا گیا۔ اگر صرف مانسون سیشن میں جل شکتی کی وزارت کے سوال و جواب کو ہی دیکھ لیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ روایتی آبی ذخائر کے تحفظ میں ریاستی حکومتوں کی دلچسپی کم ہی رہی ہے۔ کبھی کبھار خوبصورتی کی بات ضرور آتی ہے۔ جان لیں کہ خوبصورتی کی بات محض پیسے کی بربادی ہوتی ہے اور اس کا تالاب-جھیل کے پانی جمع کرنے کے علاقے یا پانی لینے کے راستہ کے تحفظ سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
اترپردیش میں تالابوں کو بچانے کی لازمیت کے لیے تقریباً 73سال پرانی ایک رپورٹ کو یاد کرنا ہوگا، جو کہ 1943 کے خوفناک قحط میں 3لاکھ سے زیادہ اموات ہونے کے بعد برطانوی حکومت کے ذریعہ تشکیل دیے گئے ایک کمیشن کی سفارشات میں تھیں۔ 1944میں آئی قحط جانچ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہند وستان جیسے ملک میں نہروں سے سینچائی کی بہ نسبت تالاب کھودنے اور ان کے رکھ رکھاؤ کی زیادہ ضرورت ہے۔ 1943میں ’گرو مور کیمپین‘ چلایا گیا تھا جو کہ بعد میں ملک کی پہلی پنچ سالہ اسکیم کا حصہ بنا، اس میں بھی معمولی آبپاشی منصوبوں یعنی تالابوں کی بات کہی گئی تھی۔ اس کے بعد بھی متعدد اسکیمیں بنیں، مدھیہ پردیش جیسی ریاست میں ’’سروور ہماری دھروہر‘‘ جیسی مہم چلی، لیکن اگر اعدادوشمار پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ کالونیاں، سڑکوں، کارخانوں، فلائی اووروں کو تالاب کو ختم کرکے ہی بنایا گیا۔ مایاوتی کے دور میں بھی تالاب ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا لیکن آگے چل کر اس پر کام نہیں ہوا۔ تالاب ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسی لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے ریاست کے سبھی تالابوں، پوکھروں کا سروے کرکے ان کے اعدادوشمار تو ایمانداری سے جمع کرے، جس میں بچ گئے آبی وسائل، قبضہ کیے گئے علاقوں، دستیاب تالابوں کی مرمت، اس سے منسلک عدالتی معاملات کو سلجھانے جیسے مسئلوں پر اختیار ادارہ کے طور پر فیصلہ کن ہو۔
یہاں6نومبر2019کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کا ذکر ضروری ہے جس میں عدالت نے کہا تھا کہ ریاست میں 1951-52کے ریونیو ریکارڈس میں درج تالابوں سے قبضہ ہٹاکر ان پر دیے گئے پٹّے ختم کیے جائیں اور تالاب کو پہلی حالت میں بحال کیا جائے۔ کورٹ نے چیف سکریٹری کو ریونیوکونسل کے چیئرمین کی مشاورت میں ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ کورٹ نے ہر ایک ضلع افسر، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (فائنانس اینڈ ریونیو) کو تالابوں کی ایک فہرست تیار کرکے اور ان پر ہوئے ناجائز قبضے کی معلومات و قبضہ ہٹاکر بحالی رپورٹ پیش کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔ جج پی کے ایس بگھیل اور جج پیوش اگروال کی پنچ نے تشکیل مانیٹرنگ کمیٹی کو ہر 6ماہ میں رپورٹ دینے کو بھی کہا تھا۔ جان لیں، اس طرح کا حکم 18سال پہلے سپریم کورٹ کا تھا جس پر عمل اترپردیش میں نہیں ہوا۔ حالاں کہ تقریباً 20ماہ گزرجانے کے بعد بھی اترپردیش کے کسی ضلع میں اس سمت میں سنجیدگی سے کام نہیں ہوا۔ اگر پانی کے بحران کے شکار علاقوں کے سبھی تالابوں کو موجودہ حالات میں بھی بچا لیا جائے تو وہاں کے ہر کھیت کی سینچائی، ہر حلق کو پانی اور ہزاروں ہاتھوں کو روزگار مل سکتا ہے۔ ایک مرتبہ مرمت ہونے کے بعد تالابوں کی دیکھ بھال کا کام معاشرہ کو سونپا جائے، اس میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپ ، مچھلی پروری کوآپریٹیو سوسائٹیاں، پنچایت گاوؤں کی پانی برادری کو شامل کیا جائے۔ اترپردیش کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ اپنے مینی فیسٹو کے اتنے اہم اعلان پر عمل اور ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل سلیقے سے نہ ہونے کے لیے آخر کون ذمہ دار ہے؟
rvr

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS