طالبان نے کیوں امن کیلئے تحریری منصوبہ پیش کرنے کا اعلان کیا؟

0
File Photo

دوحہ: (یو این آئی) طالبان کے افغانستان کے اہم اضلاع پر قبضہ کرنے کے دوران اس کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ماہ میں امن کے لئے تحریری منصوبہ کریں گے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو بتایا کہ ’آنے والے دنوں میں امن مذاکرات اور امن عمل میں تیزی لائی جائے گی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوں گے، فطری طور پر یہ امن منصوبوں کے بارے میں ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ ’ممکنہ طور پر اس مرحلے کو پہنچنے میں ایک مہینہ لگے گا جہاں دونوں فریقین اپنے تحریری امن منصوبوں کو شیئر کریں گے‘۔انہوں نے کہا کہ بات چیت کا تازہ ترین دور ایک نازک موڑ پر ہے۔
مسٹر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’جہاں جنگ کے میدان میں ہم (طالبان) کا ہاتھ اوپر ہے وہیں ہم مذاکرات اور بات چیت میں بھی بہت سنجیدہ ہیں‘۔
طالبان کے ترجمان نے دعوٰی کیا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی روانگی سے بڑے علاقائی فوائد حاصل کررہے ہیں وہیں انہوں نے کہاکہ کہ اگلے ماہ تک افغان حکومت کو امن کے لیے مجوزہ تحریری منصوبہ پیش کرسکتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے بگرام بیس خالی کرنے کے بعد طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے سیکڑوں اہلکار پڑوسی ملک تاجکستان فرار ہوگئے۔
جہاں بگرام ایئر بیس کی افغان فوج کو حوالگی نے نئے اضلاع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طالبان کی مہم میں اضافہ کیا ہے، وہیں طالبان رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ طویل عرصے سے تعطل کے شکار مذاکرات کو بھی بحال کردیا ہے۔
طالبان کے نمائندے کے ریمارکس پر رائے دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں 40 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ بات چیت ہے۔عہدیدار نے کہا کہ ’ہم فریقین سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سنجیدہ مذاکرات میں مشغول ہوں تاکہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک سیاسی روڈ میپ طے کیا جاسکے جو ایک منصفانہ اور پائیدار تصفیہ کا باعث بنے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’دنیا افغانستان میں طاقت کے استعمال سے بنی حکومت کو قبول نہیں کرے گی، کسی بھی افغان حکومت کے لیے قانونی حیثیت اور امداد اسی صورت میں ممکن ہے جب اس حکومت کو انسانی حقوق کا بنیادی احترام حاصل ہو‘۔
واضح رہے کہ امریکہ نے افغانستان میں تقریباً دو دہائیوں تک جنگ کے بعد 11 ستمبر تک اپنی تمام افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS