کشمیر کو اچھوت کیوں بنا رہے ہیں؟

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

جموں و کشمیر کے تعلق سے اب ایک اور تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں رہنے والے دیگر صوبوں کے شہریوں کو اب ووٹ دینے کا حق ملنے والا ہے۔ جموں و کشمیر کی تقریباً تمام پارٹیاں اس نئی پہل پر پریشان دکھائی پڑ رہی ہیں۔ پہلے تو وہ آرٹیکل 370اور 35اے کو ہی ہٹانے کی مخالفت کررہی تھیں۔ اب انہیں لگ رہا ہے کہ ان کے سر پر ایک نیا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مرکزی حکومت کے اشارے پر یہ کام کیا جارہا ہے جو آئندہ الیکشن جیتنے کی بی جے پی کی صرف چال ہے، لیکن اس سے جموں و کشمیر کی اصلی پہچان تباہ ہوجائے گی۔ سارے ہندوستان کے عوام کشمیر پر ٹوٹ پڑیں گے اور کشمیری مسلمان اپنے ہی خطہ میں اقلیت بن جائیں گے۔ اس وقت وہاں مقامی ووٹرز کی تعدادتقریباً 76لاکھ ہے۔ اگر اس میں 25لاکھ نئے ووٹرز شامل ہوگئے تو ان باہری لوگوں کا پورا کا پورا ووٹ بی جے پی کو ملے گا۔ جموں کے بھی زیادہ تر ووٹر بی جے پی کا ہی ساتھ دیں گے۔ ایسے میں کشمیر کی روایتی بااثر پارٹیاں ہمیشہ کے لئے حاشیے پر چلی جائیں گی۔ حلقہ بندیوں میں ردوبدل کی وجہ سے پہلے ہی وادی کی سیٹوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ اسی کی مخالفت کرنے کے لئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بی جے پی کو چھوڑ کر سبھی پارٹیوں کی ایک میٹنگ بھی بلائی ہے۔ پی ڈی پی لیڈرمحبوبہ مفتی بھی کافی غصے میں نظر آرہی ہیں۔ ان کشمیری لیڈروں کا غصہ بالکل فطری ہے، کیونکہ لیڈر صرف اس لئے سیاست میں آتے ہیں کہ انہیں ہر صورت اقتدار کے عیش و آرام کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت اس دوران جو بھی اصلاحات وہاں کررہی ہے، وہ ان لیڈران کو بگاڑ کے علاوہ کچھ نہیں لگتا۔ اس حال میں ان کشمیری لیڈران سے میری گزارش ہے کہ وہ اپنا نقطہ نظر تھوڑا وسیع کیوں نہیں کرتے ہیں؟ اگر کشمیری لیڈر ملک کے ہوم منسٹر، گورنر، ارکان پارلیمنٹ، سفیر اور مرکزی حکومت کے چیف سکریٹری بن سکتے ہیں اور کشمیری شہری ملک میں کہیں بھی الیکشن لڑسکتے ہیں اور ووٹ ڈال سکتے ہیں تو یہی حقوق غیر کشمیری شہریوں کو کشمیر میں دیے جانے کی مخالفت کیوں ہونی چاہیے؟ ملک کے جیسے دوسرے صوبے ویسا ہی کشمیر بھی۔ وہ کچھ کم اور کچھ زیادہ کیوں رہے؟ اگر کشمیری ملک کے کسی بھی حصے میں زمین خرید سکتے ہیں تو ملک کا کوئی شہری کشمیر میں زمین کیوں نہیں خرید سکتا؟ ہمارے کشمیری رہنما کشمیر جیسے خوبصورت اور شاندار صوبے کو دوسرے ہندوستانیوں کے لیے اچھوت بناکر کیوں رکھنا چاہتے ہیں؟ میں تو وہ دن دیکھنے کو ترس رہا ہوں کہ جب کہ کوئی پکاّکشمیری مسلمان ہندوستان کا صدر یا وزیر اعظم بن جائے۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]