کیوں پریشان ہیں جرمنی کے مسلمان: شاہنواز احمد صدیقی

0

شاہنواز احمد صدیقی

یوں تو جرمنی میں مسلمانوں کی موجودگی کے آثار اور شواہد 17ویں صدی عیسوی سے ملتے ہیں مگر 1990کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے بکھراؤکے بعد جب وہاں نسل پرستی پر مبنی قتل عام اور نسلی تطہیر شروع ہوئی تو بوسینیا اور سربیا سے بڑے پیمانے پرنقل مکانی کرکے مسلمانوں نے جرمنی میں پناہ لی اور سکونت اختیارکی۔ جرمنی میں مسلمانوں کی کئی ’اقسام‘ پائی جاتی ہیں اور ان میں کچھ خالص جرمن کے مکین ہیں جبکہ کچھ مقامات پرجرمن عرب اور جرمن ترک مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جرمنی میں مسلم آبادی میں تقریباً62فیصد ترک اور کرد ہیں۔ اس کے بعد کچھ تعداد پاکستان، بوسینیا، البانیہ، شمالی امریکہ، مغربی ایشیا ،ایران، عراق اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ہے۔ مسلمانون کی زیادہ آبادی برلن اور سابق مغربی جرمنی کے شہر اور قصبوں میں آباد ہیں۔ خیال رہے کہ 1992سے قبل مشرقی اورمغربی دوجرمنی تھے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعدیہ دونوں جرمنی ایک ہوگئے تھے۔
1745کے بعد میں جرمنی اور خلافت عثمانیہ میں جب دونوں ملکوں کے درمیان روابط مستحکم ہوئے تو بڑی تعداد میں مسلمانوں نے جرمنی میں سکونت اختیار کی۔ مسلمانوں کی جنگ کے میدان میں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پڑوس (موجودہ روس) کے فیڈرک دوم نے ایک یونٹ قائم کیا جس کا نام اس نے مسلم رائیڈس رکھا۔ اس فوجی گھڑسوار یونٹ میںبوسنیائی، البانی مسلمان تھے۔ جرمنی میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے علیحدہ قبرستان اور مساجد بھی قائم کیے گئے ہیں۔ برلن میں مسلمانوں کا پہلا قبرستان 1798میں بنایا گیا اس کے بعد 1915میں پہلی مسجد Winsdorbمیں بنائی گئی مگر دس سال بعد 1925میں اس کو توڑ دیاگیا۔
تاریخ میں جوشواہد ہیں، ان کے مطابق ان کے مطابق پہلی جنگ عظیم میں جرمنی میں 3000مسلمان تھے، ان میں صرف300بھی جرمنی نژاد تھے۔ جرمنی میں کام کرنے والوں کی قلت رہی ہے اور کم آبادی کی وجہ سے باہر کے ملکوں سے دوسری اقوام اور نسلوں کے علاوہ مسلمانوں کی بھی آمد شروع ہوگئی تھی۔ جرمنی نے خود بڑی تعداد میں مسلمانوں کو کام کرنے کے لیے بلایا۔ 1961میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ کر 4.3ملین ہوگئی۔ ان میں سب سے زیادہ ترکی کے لوگ تھے اور زیادہ تر جنوب مشرقی اناتولیہ کے گردکے تھے۔
جرمنی میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کا سبب کام کرنے والوں کی ضرورت تھی۔اس ضرورت کے تحت جہاں دوسرے لوگوں کو بلایا گیاتھا، مسلمان بھی گردونواح اور دور دراز علاقوں سے لائے گئے تھے۔ 1960اور 1970کی دہائی میں مسلمان زیادہ آئے ۔ یہ زیادہ تر مزدور مہاجرین تھے۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق 2019میں جرمنی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً پانچ ملین ہے۔دراصل جرمنی، فرانس، برطانیہ ،امریکہ، کناڈا یا کسی بھی ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ گلوبلایزیشن اور عالمگیریت کا نتیجہ تھا اور دنیا بھر کے لوگ ایک کونے سے دوسرے ملک میں منتقل ہورہے تھے تواس کے پس پشت ان ممالک پر قبضہ کرنے کی پالیسی یا سازش نہیں تھی بلکہ ایک فطری نقل آبادی کا عمل تھا۔ اصل میںجرمنی جو کہ اس دور میں ہٹلر کی دسترس میں تھی اور ہٹلر کی توسیع پسندانہ کارروائیاںبطور خاص یہودیوں سے اس کی ازلی دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی۔ اس زمانے اور دونوں عظیم جنگوں میں اہل یوروپ نے افریقہ اور ایشیا کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں فوجی فوجی طاقت کی زورپر ظلم و بربریت کا ناچ کیاتھا۔ اس سے دنیا کا شاید ہی کوئی حصہ بچاہواہو۔
دنیا کے ہر حصے پر بطور خاص افریقہ اور ایشیا میں آج کے تمام مہذب جمہوریت پسنداور انسانیت نواز ملکوں نے لوٹ کھسوٹ مچائی تھی،بدترین درندگی کو انجام دیاتھا۔ بدترین جنسی جرائم کیے تھے۔ چڑیاگھروں میں افریقی بچوں کو پنجروں میں بند کرکے ان کا تماشہ بنایاگیاتھا۔ آج ان ملکوں میں بیداری آرہی ہے، صنعت وحرفت اور دولت کی فراوانی ہے۔ ان افریقی ایشیائی ملکوں کے سرمایہ داری، صنعتی اور کاروباری ادارے یورپ اور امریکہ میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ مگر وقت بدل رہا ہے، اب ان تمام ملکوں کو لگتا ہے کہ مسلمان ایشیائی یا افریقی —— ان کے ملک پر قبضہ کررہے ہیں، اس کے لیے مسلمانوں کے خلاف تشدد میں لگاتاراضافہ ہورہاہے۔
جرمنی کے خود کے کئی ادارے اس طرف توجہ دلارہے ہیں کہ نسل پرستی، نفرت کی وجہ سے جرمنی میں مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ جرمنی کی وزارت داخلہ اس صورت حال پرکافی متفکر ہے۔ مسلمانوں کے تئیں نفرت کا مطالعہ کرنے والے ایک رضاکار ادارے Independent Group of Experts on Muslim Hostilityنے اعداد و شمار، ٹھوس حقائق کی بنیاد پر کچھ نتائج اخذکیے ہیں۔ ماہرین کے اس گروپ کا کہناہے کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کی وجہ سے تعصب اور ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی ایک تہائی آبادی اس رویہ کی شکار ہے۔ مسلمان اس صورت حال کے خلاف شکایت کم درج کراتے ہیں مگر صرف 10فیصد لوگوں نے اس بابت رپورٹ درج کرائی ہے۔
جرمنی کی وزیرخارجہ نینسی فیزر(Nancy Faeser)نے اس افسوس ناک صورت حال پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ’مسلمانوں کو روزمرہ کی زندگی میں تعصب، سماج کی مین اسٹریم سے الگ تھلگ کرنے، نفرت اور تشدد کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ جرمنی کے مسلمانوں کو کھلی ہوئی نسل پرستی سے دوچار ہوناپڑ رہا ہے اور یہ رویہ مسلمانوں کی ہرعمر کے لوگوں یہاں تک کہ بچوں اور بوڑھوں کے تئیں بھی اختیار کیاجاتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات بہت بڑے پیمانے پر فروغ پاچکے ہیں۔ خیال رہے کہ جرمن کی وزیرخارجہ نینسی فریزر وہی خاتون ہیں جن پر قطر میں فٹ بال ورلڈکپ میں جاپان اور جرمن میں میچ کے دوران اپنے بائیں بازو پر ون لو(One Love)کا بیچ باندھ کر ہم جنس پرستی کے رجحان کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔n
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS