ان آنسو ئوں کا حساب کون دے گا…؟

0

عارف شجر

گجرات کے موربی ضلع میں اتوار کو ماچھو ندی پر جو کچھ ہوا،ا سے سن کر اور دیکھ کر ہر کسی کا دل دہل گیا ہوگا جھولتے ہوئے پل گرنے سے 134 افراد کی ہلاکت پر کس شخص کی آنکھ نم نہیں ہوئی ہوگی۔ پتھر دل انسان بھی چیخ پڑا ہوگا۔محض 10اور 15 روپے کے ٹکٹ کی خاطر134 لوگوں کی موت کا کھیل جو کھیلا گیا وہ انتہائی شرمناک ہے۔ تعجب تو اس بات کی ہے کہ اتنے بڑے حادثے میںصرف اور صرف9 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور یہ 9 لوگ فورتھ اور تھرڈ گریڈ کے کارکن بتائے جا رہے ہیں، جس میں ٹکٹ چیکر، ٹکٹ کائونٹر کارکن اور گارڈ شامل ہیں لیکن اس کے خاص ذمہ داران نہ تو گرفتار کئے گئے ہیں اور نہ ہی ان پرایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ متعلقہ اعلیٰ افسران صاف بچتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، حیرت تو تب بڑھ جاتی ہے جب موربی میونسپل کارپوریشن نے شہر کی ہی گھڑیوں اور ای بائک بنانے والی کمپنی اوریوا گروپ کو ماچھو ندی پر ایک صدی پرانے پل کی مرمت کا کام سونپا دیتا ہے۔ پیر کو ملنے والے میونسپل دستاویزات کے مطابق، اوریوا گروپ کو 15 سال تک پل کی مرمت کرنے اور اسے چلانے کے علاوہ 10 سے 15 روپے فی ٹکٹ کی قیمت پر ٹکٹ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن کسے پتہ تھا کہ ضلع انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کی نااہلی یا یوںکہیں کہ خفیہ ساز بازکی وجہ سے موت کا خوف ناک منظر دیکھنے کو ملے گا ۔جھولتا پل حادثہ نے سیکڑوں لوگوں کو کبھی نہ بھرنے والا زخم دے گیا ہے ۔ کسی کی نظروں کے سامنے پورا خاندان ندی میں ڈوب گیا تو کئی معصوم بچے اپنے والدین سے محروم ہو گئے۔ ہر منظر دل کو تڑپانے والا ہے۔ پل کے انتظامیہ کے ذمہ داران اپنے کچھ مفاد کے لیے سیکڑوں لوگوں کی جانوں سے کھیل گئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار لوگ تو بچ نکلیں گے، لیکن ایک سوال ہمیشہ رہے گا کہ ملک میں عام لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ اس طرح کا کھلواڑ آخرکب تک ہوگا…؟
دوسری جانب موربی کے المناک حادثے کے اثرات اب سیاست پر بھی نظر آرہے ہیں۔ اس کا آہستہ آہستہ سیاسی رنگ بھی چڑھنے لگا ہے حالانکہ اس سلسلے میں کانگریس قائد راہل گاندھی سیاسی بیان بازی سے بچتے ہوئے حادثے پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی میںاس المناک حادثے پر سیاسی بازی گری شروع ہوگئی ہے عین گجرات الیکشن کے وقت اس طرح کا حادثہ یقینا ہر سیاسی پارٹی کو ووٹ میں تبدیل کرنے کا سنہرا موقع ضرور مل جائے گا جس کے امکانات ابھی سے ہی بڑھ گئے ہیں۔ امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ سیٹ جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ملکیت مانی جاتی تھی وہ ایک بار پھر کانگریس کا غلبہ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو1995 سے 2012 تک یہ سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں رہی ہے لیکن 2017 کے اسمبلی انتخابات میں یہاں کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم بعد میں کانگریس سیٹ اور امیدوار دونوں ہار گئی۔ 2017 میں کانگریس امیدوار برجیش کی موت کے بعد بی جے پی کے کانتی امروتیا کو 3400 سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی۔ بعد میں وہ بی جے پی میں چلے گئے اور 2020 میں اس سیٹ سے ضمنی انتخاب لڑا اور دوبارہ جیت گئے۔گجرات میں گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران پاٹیدار تحریک چل رہی تھی۔ ایسے میں بڑی پاٹیدار آبادی والی موربی سیٹ پر بھی اس کا خاص اثر پڑا۔ مرجا، جو 2020 میں کانگریس سے الگ ہونے کے بعد بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، 2021 میں کابینہ میں ردوبدل کا فائدہ اٹھایا اور انہیں وزیر بنایا گیا۔ تاہم، مرجا تازہ ترین موربی حادثے کے بعد نشانے پر ہیں۔ اسی دوران یہاں سے بی جے پی کے سابق ایم ایل اے امروتیا کو بچاؤ کے کام میں مصروف دیکھا گیا۔ وہ ان لیڈروں میں شامل تھے جو ندی میں اتر کر لوگوں کو نکال رہے تھے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، ٹنکارا کے ایم ایل اے اور گجرات کانگریس کے کارگزار صدر للت کگاتھرا کا کہنا ہے کہ’’یہ واقعہ نہ صرف موربی بلکہ پورے گجرات میں بی جے پی کی کارکردگی کو متاثر کرے گا۔ عوامی انتظامیہ کی ناکامی ظاہرہوچکی ہے۔ پی ایم مودی دفاعی سازوسامان بنانے کی بات توکر رہے ہیں لیکن ہم ایک پل بھی ٹھیک ڈھنگ سے نہیں رکھ سکے۔ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ بی جے پی صرف کھوکھلے دعوے کر رہی ہے۔
گجرات اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان سے قبل ہی بی جے پی کے اندر سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا ہے مہنگائی ، بے روزگاری اور کرپشن کو لے کر جس طرح سے اپوزیشن جماعت حملہ ور تھی اس سے بی جے پی اپنی سیٹ کھوتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ ان مشکل حالات کو بہتر کرنے کے لئے پی ایم مودی امت شاہ اور جے پی نڈا کا مسلسل گجرات دورہ ہو رہا تھا اور امید کی جا رہی تھی کہ اس بار بھی بی جے پی اکثریت سے گجرات میں اپنی جیت درج کر لے گی، لیکن عام آدمی پارٹی نے ہندوتوا کارڈ کھیل کر بی جے پی کو پہلے ہی بیک فٹ میں لا کر کھڑا کر دیا تھا عام آدمی پارٹی کے ذریعہ بی جے پی کو نوٹ میں لکشمی کا فوٹو لگانے پر سیاسی پیچ پر پوری طرح کھیل ہی رہی تھی کہ موربی کے المناک حادثے نے اس پر اور رنگ چڑھا دیا، یہی وجہ ہے کہ اب عام آدمی پارٹی اور کانگریس پوری قوت کے ساتھ بی جے پی پر حملہ آور ہو رہی ہے اور بی جے پی کو اپوزیشن کا منھ بند کرنے کی فی الحال کوئی ترکیب دکھائی نہیں دے رہی ہے۔موربی کے المناک حادثے نے پوری طرح سے گجرات کا ماحول بدل ڈالا ہے کہا یہ جا رہا ہے کہ موربی کے المناک حادثہ گجرات کاسب سے ہم انتخابی مدعا ہوگا۔دریں اثنا، اپوزیشن نے اسپتال میں مرمت اور رنگ و روغن کئے جانے کی تصویریں سوشل میڈیا پر پھیلا کرکے بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے اسے سانحہ کا ایونٹ قرار دیا جبکہ عام آدمی پارٹی نے اسے بی جے پی کے فوٹو شوٹ سے پہلے کی تیاری قرار دیا۔
بہر کیف ! ایک رپورٹ میں چونکا دینے والا انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جب اریوا فرم نے سات ماہ تک پل کی تزئین و آرائش کی تھی تو پل کے کچھ پرانے اور فرسودہ تاروں کو تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔ گجرات کی اوریوا فرم کو مارچ میں ٹھیکہ دیا تھا۔ کنٹریکٹ دستاویزات کے مطابق کوئی ٹینڈر جاری نہیں کیا گیا۔ یہی نہیں پل کی پرانی وائرنگ بھی تزئین و آرائش کے باوجود تبدیل نہیں کی گئی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کمپنیوں کے عہدیداران کے خلاف گجرات حکومت کب کارروائی کرے گی یا پھر اسی طرح لاشوں پر سیاست ہوتی رہے گی۔ بہر حال ! موربی پل حادثے کے بعد دنیا بھر کے رہنمائوں نے اظہار تعزیت کیا ہے۔ ہندوستان کے غم میں شریک ہوئے ہیں۔ کئی ممالک سے تعزیتی پیغامات آرہے ہیں۔ روسی صدر پوتن کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی گجرات کے شہر موربی میں پل حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بائیڈن نے مہلوکین کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کی۔ بائیڈن نے ایک بیان میں کہا، ’’آج ہماری ہمدردیاں ہندوستان کے ساتھ ہیں۔ میں گجرات کے لوگوں کے غم میں شامل ہوں اور ہم ان خاندانوں کے تئیں اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے پل گرنے سے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS